وضو کے فرائض
وضو کے فرائض کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. وضو کے چار بنیادی فرائض (ارکان) کا اجمالی جائزہ
اصل متن أَرْكَانُ الْوُضُوءِ أَرْبَعَةٌ، وَهِيَ فَرَائِضُهُ... • فرائضِ وضو: حنفی فقہ میں وضو کے چار بنیادی فرائض ہیں جن کے بغیر وضو سرے سے باطل (ناقص) ہو جاتا ہے۔ • عضو کا دھونا: عضو کو دھونے کا مطلب یہ ہے کہ کم از کم پانی کے دو قطرے اس عضو کے ہر حصے پر بہہ جائیں۔ محض پانی کا ہاتھ پھیر لینا (مسح) دھونے کے قائم مقام نہیں ہو سکتا۔ • یہ چار فرائض قرآنِ مجید کی سورہ مائدہ کی آیتِ وضو سے قطعی طور پر ثابت ہیں۔
2. پہلا فرض: چہرہ دھونا اور اس کی شرعی حدود
اصل متن الْأَوَّلُ: غَسْلُ الْوَجْهِ، وَحَدُّهُ طُولًا مِنْ مَبْدَأِ سَطْحِ الْجَبْهَةِ إِلَى أَسْفَلِ الذَّقْنِ، وَعَرْضًا مَا بَيْنَ شَحْمَتِي الْأُذُنَيْنِ • چہرے کی لمبائی: جہاں سے عام طور پر پیشانی کے بال اگنا شروع ہوتے ہیں وہاں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک۔ • چہرے کی چوڑائی: ایک کان کی لو سے لے کر دوسرے کان کی لو تک۔ • وضاحتی شرط: ان حدود کے اندر آنے والی جلد کا ایک ذرہ بھی دھونے سے خالی نہیں رہنا چاہیے، ورنہ وضو درست نہیں مانا جائے گا۔
3. دوسرا فرض: دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا
اصل متن وَالثَّانِي: غَسْلُ يَدَيْهِ مَعَ مِرْفَقَيْهِ • کہنیاں شامل ہیں: دونوں ہاتھوں کو انگلیوں کے پوروں سے لے کر کہنیوں سمیت دھونا فرض ہے۔ • لفظ "مَعَ" کی اہمیت: حنفی فقہ میں لفظ "مع" کا مطلب یہ ہے کہ کہنیاں خود بھی دھونے کی فرض حد میں شامل ہیں، ان کو چھوڑنا جائز نہیں ہے۔ • انگوٹھی اور ناخن کا مسئلہ: اگر انگلیوں میں کوئی تنگ انگوٹھی ہو تو اس کے نیچے پانی پہنچانا لازم ہے۔ ناخن کے نیچے کی مٹی اگر پانی پہنچنے سے روکے تو اسے صاف کرنا ضروری ہے۔
4. تیسرا فرض: چوتھائی سر کا مسح کرنا
اصل متن وَالرَّابِعُ: مَسْحُ رُبْعِ رَأْسِهِ • مسح کی تعریف: پانی سے بھیگے ہوئے ہاتھ یا انگلیوں کو عضو پر پھیرنا۔ • فرض مقدار: سر کے کم از کم چوتھائی حصے پر مسح کرنا فرض ہے۔ • پیمائش کا معیار: چوتھائی سر کی یہ مقدار ہاتھ کی ایک پوری ہتھیلی کے رقبے کے برابر بنتی ہے۔ • پانی کا نیا ہونا: سر کے مسح کے لیے ہاتھوں کا تر ہونا شرط ہے؛ اگر وضو کے پچھلے اعضاء کی تری سے ہاتھ گیلے ہوں تو وہ مسح کے لیے کافی نہیں، نیا پانی لینا سنت ہے۔
5. چوتھا فرض: دونوں پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھونا
اصل متن وَالثَّالِثُ: غَسْلُ رِجْلَيْهِ مَعَ كَعْبَيْهِ • ٹخنوں سمیت دھونا: دونوں پاؤں کو ان کی انگلیوں سے لے کر ٹخنوں سمیت دھونا فرض ہے۔ • ٹخنے: پاؤں کے دائیں اور بائیں طرف ابھری ہوئی ہڈیاں ٹخنے کہلاتی ہیں۔ یہ ہڈیاں خود بھی دھونے کی حدود میں شامل ہیں۔ • انگلیوں کے درمیان پانی: پاؤں کی انگلیوں کی درزوں میں پانی بہانا فرض ہے، کیونکہ خشک رہنے کا سب سے زیادہ اندیشہ یہیں ہوتا ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
وضو میں چہرہ دھونے کی لمبائی کی شرعی حدود کیا ہیں؟
- پیشانی کے درمیان سے حلق تک۔
- پیشانی کے بالوں سے ٹھوڑی کے نیچے تک۔
- بھنوؤں سے ٹھوڑی کے نیچے تک۔
- کوئی حدود مخصوص نہیں ہیں، چہرے کا کوئی بھی حصہ دھونا کافی ہے۔
سوال 2
وضو میں بازو دھوتے وقت کہنیاں فرض دھونے کی حدود سے باہر ہیں، انہیں چھوڑا جا سکتا ہے۔
سوال 3
وضو میں سر کے کتنے حصے کا مسح کرنا فرض ہے؟
- پورے سر کا مسح کرنا۔
- چوتھائی سر کا مسح کرنا۔
- صرف کانوں کے پیچھے مسح کرنا۔
- ماتھے کے پاس چند بالوں پر ہاتھ پھیرنا۔
سوال 4
پانی بہائے بغیر چہرے یا بازو پر محض گیلا ہاتھ پھیر لینا دھونے کے متبادل کے طور پر کافی ہے۔
سوال 5
وضو میں چہرہ دھونے کی چوڑائی کی شرعی حدود کیا ہیں؟
- رخسار سے رخسار تک۔
- ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک۔
- ناک سے کان تک۔
- صرف منہ کا گول دائرہ۔
سوال 6
وضو میں پاؤں دھوتے وقت ٹخنوں کو چھوڑنا جائز ہے کیونکہ وہ دھونے کی حد سے باہر ہیں۔
سوال 7
وضو کے اعضاء کو کتاب میں بیان کردہ ان کے درست شرعی احکام سے جوڑیں:
سوال 8
اگر کوئی شخص باوضو ہو اور ثواب کی نیت سے دوبارہ نیا وضو کرے، تو اس وضو سے خارج ہونے والے مستعمل پانی کا کیا درجہ ہے؟
- پاک اور پاک کرنے والا پانی
- پاک ہے لیکن دوبارہ وضو نہیں کیا جا سکتا (مستعمل پانی)
- ناپاک پانی
- مشکوک پانی
تعاملی کوئز کھولیں