نواقضِ وضو، حصہ دوم
نواقضِ وضو، حصہ دوم کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. پانچویں چیز: مقعد (کولہوں) کو زمین پر جمائے بغیر سونا
اصل متن وَنَوْمٌ لَمْ تَتَمَكَّنْ فِيهِ الْمَقْعَدَةُ مِنَ الْأَرْضِ • اصول: نیند بذاتِ خود ناپاکی نہیں ہے، بلکہ یہ عقل اور اعصاب کے ڈھیلے ہونے کی کیفیت ہے جس میں ہوا نکلنے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔ • وضو نہ توڑنے والی نیند: ◦ اگر کوئی شخص اپنے دونوں کولہے (مقعد) زمین پر اچھی طرح جما کر بیٹھ کر سوئے، تو اس کا وضو نہیں ٹوٹتا۔ • وضو توڑنے والی نیند: ◦ کروٹ پر سونا، چت لیٹ کر سونا، یا سجدے کی حالت میں سونا۔ ◦ تکیے یا دیوار کا سہارا لے کر سونا، اگر وہ سہارا ہٹانے سے بندہ گر جائے۔
2. چھٹی، ساتویں اور آٹھویں چیز: بے ہوشی، دیوانگی اور نشہ
اصل متن وَإِغْمَاءٌ، وَجُنُونٌ، وَسُكْرٌ • الإغماء (/بے ہوشی): بیماری یا کمزوری کی وجہ سے عارضی طور پر عقل کا زائل ہو جانا۔ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ • الجنون (/دیوانگی): دماغی توازن کا خراب ہو جانا جس سے انسان کے حواس ختم ہو جائیں۔ یہ وضو کو توڑ دیتا ہے۔ • السكر (/نشہ): کسی نشہ آور چیز کی وجہ سے حواس کا اس حد تک زائل ہو جانا کہ انسان کی چال لڑکھڑانے لگے اور وہ بہکی باتیں کرے۔ اس سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
3. نویں چیز: بالغ بیدار شخص کا رکوع وسجود والی نماز میں قہقہہ لگانا
اصل متن وَقَهْقَهَةُ بَالِغٍ يَقْظَانَ فِي صَلَاةٍ ذَاتِ رُكُوعٍ وَسُجُودٍ وَلَوْ تَعَمَّدَ الْخُرُوجَ بِهَا مِنَ الصَّلَاةِ • قہقہہ کی تعریف: اتنی اونچی آواز سے ہنسنا کہ آس پاس کے لوگ واضح طور پر سن سکیں۔ • وضو اور نماز دونوں کا ٹوٹنا: اگر کوئی شخص نماز میں قہقہہ لگائے، تو اس کی نماز اور وضو دونوں ٹوٹ جاتے ہیں، بشرطیکہ: ◦ ہنسنے والا بالغ ہو۔ ◦ ہنسنے والا بیدار ہو۔ ◦ وہ نماز رکوع اور سجدے والی ہو (جیسے فرض یا نفل نماز)۔ • اگر اس نے جان بوجھ کر نماز سے باہر نکلنے کے لیے قہقہہ لگایا ہو، تب بھی وضو ٹوٹ جائے گا۔
4. قہقہہ کے قانون سے مستثنیٰ نمازیں
• جنازہ اور سجدہ تلاوت: ◦ اگر کوئی شخص نمازِ جنازہ یا سجدہ تلاوت کے دوران قہقہہ لگائے، تو اس سے وہ عمل تو فاسد (باطل) ہو جائے گا، لیکن اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ ◦ علت: کیونکہ جنازہ اور سجدہ تلاوت میں رکوع اور سجدہ نہیں ہوتا، اس لیے قہقہہ لگانے سے وضو کے ٹوٹنے کا قانون ان پر لاگو نہیں ہوتا۔ • نابالغ بچہ اور سونے والا: ◦ اگر کوئی بچہ نماز میں قہقہہ لگائے، یا کوئی شخص سوتے ہوئے نماز میں ہنسے، تو ان کا وضو بھی نہیں ٹوٹے گا۔
5. دسویں چیز: بغیر حائل کے شرمگاہوں کا آپس میں ملنا (مباشرتِ فاحشہ)
اصل متن وَمَسُّ فَرْجٍ بِفَرْجٍ بِلا حَائِلٍ • مباشرتِ فاحشہ: دو لوگوں (مرد اور عورت، یا ہم جنس) کی شرمگاہوں کا بغیر کسی کپڑے یا رکاوٹ (حائل) کے براہِ راست شہوت کے ساتھ آپس میں ملنا۔ • حکم: اس کیفیت سے دونوں فریقین کا وضو ٹوٹ جائے گا، چاہے منی کا خروج نہ بھی ہوا ہو۔ • حائل: اگر درمیان میں کوئی ایسا کپڑا موجود ہو جو جسم کی رطوبت اور گرمی کو منتقل ہونے سے روک دے، تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ • اہم حنفی قانون: محض اپنے عضوِ مخصوص کو ہاتھ لگانے سے یا بیوی کا ہاتھ چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
6. گیارہویں اور بارہویں چیز: بغیر خون دیکھے زچگی (ولادت)
اصل متن وَوِلَادَةٌ مِنْ غَيْرِ رُؤْيَةِ دَمٍ • بغیر خون کے ولادت: اگر کوئی عورت بچے کو جنم دے اور زچگی کے بعد بالکل خون ظاہر نہ ہو (جو کہ ایک انتہائی نادر صورت ہے): • حکم: اس ولادت کی وجہ سے اس عورت کا وضو ٹوٹ جائے گا۔ • تفصیل: چونکہ خون ظاہر نہیں ہوا، اس لیے نفاس قائم نہیں ہوگا اور اس پر غسل فرض نہیں ہوگا بلکہ نماز کے لیے صرف وضو دہرانا کافی ہوگا۔ • وضو ٹوٹنے کا مدار جسم سے ناپاکی کا نکلنا یا عقل و اعصاب کا مکمل زائل ہونا ہے۔
7. وضو توڑنے والی بارہ چیزوں کا خلاصہ
• ہم نے ان دو لیولز میں وضو توڑنے والے تمام بارہ امور کا احاطہ کر لیا ہے: ◦ سبیلین سے نکلنے والی چیزیں ◦ جسم سے بہنے والی نجاست (خون/پیپ) ◦ تھوک پر خون کا غالب ہونا ◦ منہ بھر کر قے آنا ◦ مقعد جما کر بیٹھنے کے علاوہ سونا ◦ 6–8. بے ہوشی، دیوانگی، نشہ ◦ بالغ کا بیدار حالت میں نماز میں قہقہہ لگانا ◦ مباشرتِ فاحشہ ◦ 11-12. بغیر خون کے بچے کی ولادت۔
مشق کے سوالات
سوال 1
نیند کی درج ذیل میں سے کس حالت میں وضو نہیں ٹوٹتا؟
- چت لیٹ کر سونا۔
- دونوں کولہوں (مقعد) کو زمین پر اچھی طرح جما کر بیٹھ کر سونا۔
- نماز کے سجدے کی حالت میں سونا۔
- دیوار کا ایسا سہارا لے کر بیٹھنا کہ اسے ہٹانے سے بندہ گر جائے۔
سوال 2
اگر کوئی بالغ بیدار شخص نمازِ جنازہ کے دوران قہقہہ لگائے، تو اس کی نماز اور وضو دونوں ٹوٹ جاتے ہیں۔
سوال 3
نماز میں قہقہہ لگانے سے وضو ٹوٹنے کی کون سی تین لازمی شرائط متن میں بیان کی گئی ہیں؟
- نماز پڑھنے والا بچہ ہو، سو رہا ہو، اور مسجد میں ہو۔
- نماز پڑھنے والا بالغ ہو، بیدار ہو، اور نماز رکوع وسجود والی ہو۔
- نماز پڑھنے والا مسافر ہو، بیمار ہو، اور جان بوجھ کر ہنس رہا ہو۔
- صرف اس صورت میں جب امام بھی ہنس رہا ہو۔
سوال 4
حنفی مذہب کے مطابق، بغیر حائل کے محض اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
سوال 5
اگر کسی عورت کے ہاں بچہ پیدا ہو اور زچگی کے بعد بالکل خون نظر نہ آئے، تو اس پر طہارت کا کیا حکم لاگو ہوگا؟
- اس پر مکمل غسل کرنا فرض ہو جائے گا۔
- اس پر صرف وضو کرنا لازم ہوگا کیونکہ خون نہ آنے کی وجہ سے نفاس قائم نہیں ہوا۔
- کسی طہارت کی ضرورت نہیں، وہ فوراً نماز پڑھ سکتی ہے۔
- خون نہ آنے کے باوجود وہ ۴۰ دن تک نماز نہیں پڑھ سکتی۔
سوال 6
زوالِ عقل اور بے ہوشی کی حالتوں کو وضو پر پڑنے والے اثرات سے جوڑیں:
سوال 7
درج ذیل کیفیات کو "وضو ٹوٹ گیا" اور "وضو قائم ہے" کے زمروں میں تقسیم کریں:
سوال 8
اگر کوئی شخص کسی سہارے سے ٹیک لگا کر بیٹھ کر سوئے، تو اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے خواہ اس کے کولہے زمین پر مضبوطی سے جمے رہے ہوں۔
تعاملی کوئز کھولیں