وہ امور جو وضو نہیں توڑتے

وہ امور جو وضو نہیں توڑتے کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. وضو نہ توڑنے والی دس (10) چیزوں کا بیان

اصل متن عَشَرَةُ أَشْيَاءَ لَا تَنْقُضُ الْوُضُوءَ • مفہوم: بہت سے مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں لوگ وسوسے اور وہم کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ان سے وضو ٹوٹ گیا ہے۔ شریعت نے ان وہموں کو دور کرنے کے لیے واضح حدیں قائم کی ہیں۔ • مصنف نے نور الإیضاح میں ایسی دس (10) چیزیں تحریر فرمائی ہیں جن سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ • اس لیول میں ہم ان تمام دس امور کو تفصیلاً پڑھیں گے تاکہ آپ شکوک و شبہات سے آزاد ہو کر مطمئن دل سے عبادت کر سکیں۔

2. پہلی اور دوسری چیز: نہ بہنے والا خون اور کھال کا اترنا

اصل متن ظُهُورُ دَمٍ لَمْ يَسِلْ عَنْ مَحَلِّهِ، وَسُقُوطُ لَحْمٍ مِنْ غَيْرِ سَيَلَانِ دَمٍ كَالْعِرْقِ الْمَدَنِيِّ (رِشْتَه) 1. ظهور دم لم يسل عن محله: زخم پر خون کا ظاہر ہونا لیکن اس کا اپنے مقام سے آگے نہ بہنا۔ جب تک خون بہہ کر ایسی جگہ نہ جائے جس کا وضو میں دھونا فرض ہے، وضو قائم رہتا ہے۔ 2. وسقوط لحم من غير سيلان دم: جسم سے کھال یا گوشت کا کوئی ٹکڑا الگ ہو جانا بشرطیکہ خون نہ بہے۔ ◦ مثال: العرق المدني (رشته): ایک قدیم خردبینی دھاگہ نما کیڑا جو کھال سے باہر نکلتا ہے؛ اگر اسے بغیر خون بہائے کھال سے کھینچ لیا جائے، تو وضو نہیں ٹوٹتا۔

3. آداب 3 تا 5: زخم سے کیڑے کا نکلنا، شرمگاہ کو چھونا اور عورت کا لمس

اصل متن وَخُرُوجُ دُودَةٍ مِنْ جُرْحٍ وَأُذُنٍ وَأَنْفٍ، وَمَسُّ ذَكَرٍ، وَمَسُّ امْرَأَةٍ • وخروج دودة من جرح وأذن وأنف: ٹانگ کے زخم، کان، یا ناک سے کسی چربیلی کیڑے کا نکلنا (جب تک بہتا ہوا خون ساتھ نہ ہو)۔ ◦ اہم ضابطہ: اگر کیڑا سبیلین (پاخانے/پیشاب کی جگہ) سے نکلے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے، لیکن جسم کے دوسرے حصوں سے نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ • ومس ذكر: اپنی شرمگاہ (عضوِ مخصوص) کو بلا حائل ہاتھ لگانا۔ • ومس امرأة: بغیر حائل کے کسی عورت کے جسم یا کھال کو چھونا (جب تک کہ شرمگاہوں کا براہِ راست ملاپ یعنی مباشرتِ فاحشہ نہ ہو)۔

4. چھٹی اور ساتویں چیز: منہ بھر سے کم قے اور بلغم کی قے

اصل متن وَقَيْءٌ لَا يَمْلأُ الْفَمَ، وَقَيْءُ بَلْغَمٍ وَلَوْ كَثِيرًا 6. وقيء لا يملأ الفم: چنے، دال، یا صفراء کی الٹی آنا جو منہ بھرنے سے کم ہو (جسے انسان منہ میں آسانی سے روک سکتا ہو)۔ 7. وقيء بلغم ولو كثيرا: بلغم کی قے آنا، خواہ وہ منہ بھر کر اور مقدار میں کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔ ◦ علت: حنفی مسلک میں بلغم کو نجس (ناپاک) نہیں مانا گیا کیونکہ یہ معدے کی گندگی سے نہیں بلکہ پھیپھڑوں یا سر سے گرنے والی رطوبت ہے، اس لیے بلغم کا نکلنا وضو کو باطل نہیں کرتا۔ • کتاب کے مطابق بلغم کی قے، خواہ زیادہ ہو، وضو نہیں توڑتی۔

5. آٹھویں اور نویں چیز: نیند میں جھولنا اور ٹیک لگا کر مستحکم سونا

اصل متن وَتَمَايُلُ نَائِمٍ احْتَمَلَ زَوَالَ مَقْعَدَتِهِ، وَنَوْمُ مُتَمَكِّنٍ وَلَوْ مُسْتَنِدًا إِلَى شَيْءٍ لَوْ أُزِيلَ سَقَطَ عَلَى الظَّاهِرِ فِيهِمَا 8. وتمايل نائم احتمل زوال مقعدته: بیٹھے ہوئے سونے والے کا نیند میں اس طرح ہلنا یا جھولنا کہ اس کے کولہے زمین سے اٹھنے کا ہلکا سا شبہ ہو، لیکن یقین نہ ہو۔ شک سے یقین زائل نہیں ہوتا، لہٰذا وضو قائم رہے گا۔ 9. ونوم متمكن ولو مستندا: زمین پر کولہے جما کر بیٹھنے والے کا سونا، خواہ اس نے کسی دیوار یا تکیے کا ایسا سہارا لیا ہو کہ اگر وہ سہارا ہٹایا جائے تو وہ گر جائے۔ چونکہ مقعد زمین پر جمی ہوئی ہے، اس لیے وضو نہیں ٹوٹے گا۔

6. دسویں چیز: نماز کی مسنون حالتوں (رکوع یا سجدہ) میں سو جانا

اصل متن وَنَوْمُ مُصَلٍّ وَلَوْ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا عَلَى جِهَةِ السُّنَّةِ 10. ونوم مصل ولو راكعا أو ساجدا: نماز پڑھنے والے کا رکوع یا سجدے کی حالت میں سو جانا، بشرطیکہ وہ سجدہ یا رکوع مسنون طریقے پر ادا کیا جا رہا ہو۔ • نمازی کا رکوع یا سجدے میں مسنون ہیئت پر سونا وضو نہیں توڑتا۔ کتاب کے حاشیے کے مطابق غیر مسنون ہیئت میں سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؛ یہاں عضلات، ہوا خارج ہونے یا عورت کے لیے الگ طبی علت بیان نہیں ہوئی۔

7. وضو نہ توڑنے والی دس چیزوں کا خلاصہ اور فقہی توازن

• ہم نے طہارت کے اس اہم باب میں پڑھا کہ: ◦ زخم پر خون کا نہ بہنا، کیڑے کا پاخانے کے راستے کے علاوہ نکلنا، اور اپنے یا پرائے جسم کو چھونا وضو نہیں توڑتا۔ ◦ منہ بھر سے کم قے، اور بلغم کی قے وضو قائم رکھتی ہے۔ ◦ زمین پر کولہے جما کر سونا، اور نماز کے مسنون سجدے یا رکوع میں سو جانا وضو نہیں توڑتا۔ • ان قوانین پر عمل کر کے انسان وسوسوں اور شیطانی وہموں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

حنفی فقہ کے مطابق منہ بھر کر بلغم کی قے آنے سے وضو کیوں نہیں ٹوٹتا، خواہ وہ کثرت سے کیوں نہ ہو؟

  • کیونکہ بلغم معدے سے پیدا ہوتا ہے۔
  • کیونکہ بلغم کو شرعی طور پر پاک مانا گیا ہے اور یہ نجاست (گندگی) نہیں ہے۔
  • صرف اس صورت میں جب انسان روزے سے ہو۔
  • کیونکہ قے کرنا ہمیشہ مستحب ہوتا ہے۔

سوال 2

اگر کسی شخص کے پیر پر موجود زخم سے، یا اس کے کان سے کوئی کیڑا باہر نکلے، تو اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

سوال 3

متن کے مطابق، نماز کے سجدے کی حالت میں سو جانے سے کس شرط کے تحت وضو نہیں ٹوٹتا؟

  • ہر حال میں وضو قائم رہے گا۔
  • صرف اس صورت میں جب سونے والی عورت ہو۔
  • بشرطیکہ وہ سجدہ مسنون طریقے اور پوزیشن پر ادا کیا جا رہا ہو۔
  • صرف اس صورت میں جب وہ نفل نماز ہو۔

سوال 4

اگر کوئی شخص زمین پر سرین جما کر ٹیک لگا کر سو جائے، اس طرح کہ اگر وہ ٹیک ہٹا لی جائے تو وہ گر جائے گا، تو اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

سوال 5

حنفی فقہ میں بغیر حائل کے محض اپنی شرمگاہ (عضو مخصوص) کو چھونے کا کیا حکم ہے؟

  • اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
  • یہ ایک مستحب ادب ہے۔
  • اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
  • اس سے غسل فرض ہو جاتا ہے۔

سوال 6

جسمانی احوال کو وضو پر پڑنے والے ان کے شرعی اثرات سے جوڑیں:

سوال 7

درج ذیل کیفیات کو "وضو قائم ہے" اور "وضو ٹوٹ گیا" کے خانوں میں الگ کریں:

سوال 8

اگر فرش پر بیٹھا ہوا سونے والا شخص نیند میں جھولنے لگے اور شبہ ہو کہ اس کا کولہا زمین سے اٹھ گیا ہے، لیکن اسے یقین نہ ہو، تو اس شک کی وجہ سے اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

تعاملی کوئز کھولیں