ادا اور قضا: اصل عمل اور اس کا بدل کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. اصل کام یا اس کا بدل؟
مأمور بہ1 وہ کام ہے جس کے کرنے کا حکم دیا گیا ہو۔ آپ عبادت اور اس کے وقت کا تعلق پڑھ چکے ہیں۔ اب دیکھیں کہ ذمے کا کام کس طرح پورا ہوتا ہے۔ • ادا: حکم میں جو اصل کام مطلوب تھا، وہی کرنا۔ جیسے نماز اس کے مقرر وقت میں پڑھنا۔ • قضا: جو کام پہلے سے ذمے لازم تھا، اس کا مثل یعنی بدل پیش کر کے ذمہ داری پوری کرنا۔ فرق اصل مطلوب کام اور اس کے بدل کا ہے۔ قضا کا مطلب یہ نہیں کہ کام کیے بغیر ذمہ داری خود ختم ہو گئی۔ 1. مأمور بہ: وہ کام جسے کرنے کا حکم دیا گیا ہو۔
2. آج کی نماز کل کی نماز کا بدل نہیں
فرض کریں کل کی ظہر رہ گئی تھی۔ آج کی فرض ظہر پڑھنے سے آج کی نماز ادا ہوگی؛ کل کی رہ جانے والی نماز بھی ساتھ ادا نہیں ہو جائے گی۔ کل کی نماز کا مقرر وقت واپس نہیں لایا جا سکتا۔ اس لیے اس رہ جانے والی نماز کی مثل یعنی الگ نماز پڑھی جائے گی۔ زیرِ بحث فرق کے لحاظ سے یہی قضا ہے۔ عام بول چال میں قضا پڑھنے کو بھی ”ادا کرنا“ کہتے ہیں؛ اس استعمال میں حرج نہیں۔ یہاں اصطلاحی فرق یاد رکھیں: اصل مطلوب کام پورا کرنا اور اس کا بدل پیش کرنا الگ باتیں ہیں۔
3. تمام مطلوب صفات کے ساتھ ادا
ادا کی 2 بڑی شاخیں ہیں: • ادائے محض: خالص ادا؛ اس میں ادائے کامل اور ادائے قاصر آتی ہیں۔ • ادائے شبیہ بالقضا: ایسا عمل جو ادا تو ہے، مگر ایک پہلو سے قضا کے مشابہ ہے۔ ادائے کامل کا مطلب ہے: کام ان تمام صفات کے ساتھ پورا ہو جن کے ساتھ اسے کرنا مقرر تھا۔ مثلاً باجماعت نماز پوری کی پوری جماعت کے ساتھ پڑھی جائے تو جماعت کی صفت پوری نماز میں موجود رہی۔ یہاں اصل کام کے ساتھ اس کی مطلوب صفات بھی پوری ہیں۔
4. کام ادا ہوا، مگر ایک صفت کم رہی
ادائے قاصر میں کام ادا ہوتا ہے، مگر اس کی کوئی مطلوب صفت کم رہ جاتی ہے۔ مثال مسبوق1 کی ہے۔ وہ نماز کا جو حصہ اکیلے پورا کرتا ہے، اس میں جماعت کی صفت نہیں رہتی۔ یہی حصہ ادائے قاصر کی مثال ہے۔ ”قاصر“ یہاں صفت کی کمی بتاتا ہے۔ صرف اس نام سے یہ مطلب نہیں نکلتا کہ نماز پڑھی ہی نہیں گئی یا نماز باطل ہوگئی۔ 1. مسبوق: وہ نمازی جو جماعت میں اس وقت شامل ہوا جب نماز کا کچھ حصہ گزر چکا تھا۔
5. شروع سے شامل تھا، پھر نماز میں رکاوٹ آگئی
اب ایک الگ نمازی کی مثال دیکھیں: لاحق1، جو مسبوق کی طرح دیر سے شامل نہیں ہوا تھا۔ یہ شخص شروع سے امام کے ساتھ تھا۔ پھر: • درمیان میں نیند آگئی اور امام کے سلام کے بعد بیدار ہوا؛ یا • وضو ٹوٹ گیا، وضو کر کے لوٹا تو امام نماز پوری کر چکا تھا۔ بیان کردہ صورت میں یہ نمازی نماز کے وقت کے اندر باقی نماز پوری کرتا ہے۔ امام کی پیروی کی حیثیت باقی رکھتے ہوئے، مقتدی کی طرح قراءت کے بغیر پڑھتا ہے۔ 1. لاحق: شروع سے جماعت میں شامل نمازی جس کی نماز میں بیان کردہ عذر جیسی رکاوٹ آئی اور کچھ حصہ رہ گیا۔
6. لاحق کی نماز قضا سے مشابہ کیوں ہے؟
امام کے ساتھ شامل ہونے میں 2 باتیں تھیں: • متابعت: امام کی پیروی کرنا۔ • معیت: نماز کے افعال امام کے ساتھ ساتھ کرنا۔ ابھی پڑھی ہوئی لاحق کی مثال میں پیروی باقی ہے، مگر رہ جانے والا حصہ امام کے ساتھ ساتھ نہیں پڑھا جا رہا۔ اس ساتھ پڑھنے کی جگہ اس کا مثل پورا کیا جا رہا ہے۔ اصل نماز اپنے وقت میں پڑھی جا رہی ہے، اس لیے ادا ہے۔ قضا کی مشابہت ساتھ پڑھنے کی صفت ختم ہونے سے ہے؛ پوری اصل نماز ختم نہیں ہوئی۔ اسے ادائے شبیہ بالقضا یا ادائے غیر محض کہتے ہیں۔
7. بدل کی مشابہت کیسے ثابت ہوتی ہے؟
قضا کی بھی 2 بڑی شاخیں ہیں: قضائے محض اور قضائے شبیہ بالادا۔ قضائے محض کی 2 قسمیں ہیں: • قضا بمثل معقول: ایسا بدل جس کی اصل کام سے مشابہت عقل سے سمجھ میں آتی ہو؛ جیسے نماز کے بدلے نماز پڑھنا۔ • قضا بمثل غیر معقول: ایسا بدل جسے شریعت نے مقرر کیا ہو، اگرچہ دونوں کاموں کی مشابہت عقل سے خود ثابت نہ ہو۔ مثال روزے کا مقرر کردہ فدیہ، یعنی کھانا کھلانا ہے۔ روزہ کھانے سے رکنا ہے اور فدیے میں کھانا کھلایا جاتا ہے۔ ان کا بدل ہونا ظاہری مشابہت سے خود نہیں بنایا گیا۔ اس تقابل کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص روزے کی جگہ کھانا کھلا سکتا ہے۔
8. امام رکوع میں ہو تو عید کی تکبیروں کی مثال
ایک نمازی عید کی نماز میں پہنچا تو امام رکوع میں تھا۔ اتنا وقت نہیں تھا کہ کھڑے ہو کر زائد تکبیریں کہے اور پھر بھی امام کا رکوع پا لے۔ اس صورت میں: • تکبیرِ تحریمہ کہہ کر نماز شروع کرے۔ • امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہو۔ • عید کی زائد تکبیریں رکوع میں کہے۔ یہ زائد تکبیروں کی جگہ بدلنے کی مثال ہے، نماز شروع کرنے کی تکبیر چھوڑنے کی نہیں۔ دونوں کاموں کے لیے وقت کافی نہ ہونا اس مثال کی ضروری شرط ہے۔
9. ان تکبیروں میں ادا کی مشابہت کیسے ہے؟
زائد تکبیروں کے لیے کھڑے ہونے کی جگہ گزر چکی ہے۔ رکوع میں کہنے کو جگہ بدلنے کی وجہ سے قضا کہا گیا ہے۔ مگر رکوع میں قیام کی مشابہت بھی ہے: بدن کا کچھ حصہ سیدھا رہتا ہے، اور اس وضاحت میں رکوع قیام کے قائم مقام ہے۔ اس لیے تکبیریں اپنی جگہ کہنے سے بھی مشابہ ہوئیں۔ یہ قضائے شبیہ بالادا ہے۔ نماز سے باہر ان زائد تکبیروں کا الگ عبادت کے طور پر کوئی مثل نہیں۔ یہاں مشابہت جگہ اور نماز کی حالت سے متعلق ہے، صرف دن پہلے یا بعد ہونے سے نہیں۔
10. وہی چیز واپس کرنا
ادا اور قضا کا فرق لوگوں کے حقوق میں بھی آتا ہے۔ پہلے اصل چیز کو دیکھیں: • ناحق قبضے میں لی ہوئی، یعنی غصب کی ہوئی، یا فروخت کی ہوئی وہی چیز صحیح سالم حوالے کرنا ادائے کامل کی مثال ہے۔ • وہی اصل چیز نقص کے ساتھ حوالے کرنا ادائے قاصر کی مثال ہے۔ مثلاً غصب کی ہوئی بکری بیمار ہوگئی یا اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور قیمت کم ہوگئی۔ وہی بکری واپس ہوئی، اس لیے اصل چیز دی گئی؛ مگر ایک صفت کم رہی۔ چیز وہی ہونا اور صحیح حالت میں ہونا الگ باتیں ہیں۔
11. قانونی صفت بدلنے کی ایک تاریخی مثال
یہاں بعض مثالیں غلامی کے تاریخی نظام سے متعلق ہیں۔ ان سے فقہی قسمیں سمجھنی ہیں؛ آج کسی انسان کو مال سمجھ کر معاملہ کرنے کی اجازت نہیں بتائی جا رہی۔ بیان کردہ مثال میں کسی نے دوسرے کا غلام غصب کیا۔ غاصب کے پاس رہتے ہوئے اس غلام نے کسی کا مال تلف کیا، جس سے قرض لازم ہوا؛ یا قتل کیا، جس سے بیان کردہ صورت میں دیت یا قصاص1 کی ذمہ داری آئی۔ تاریخی نظام میں ان ذمہ داریوں سے مقرر کی جانے والی قیمت کم ہوئی۔ اسی شخص کو واپس کرنا ادائے قاصر کی مثال بنا: شخص وہی ہے، مگر قانونی صفت بدل گئی۔ یہ قیمت انسان کی انسانی قدر کا پیمانہ نہیں۔ 1. دیت / قصاص: ان کلاسیکی فقہی مثالوں میں مالی تلافی / قانونی بدلہ؛ ذاتی طور پر سزا نافذ کرنا نہیں۔
12. وہی کھانا اس کے مالک کو پہنچا
ایک اور مثال ہے: کسی کا کھانا اٹھا لیا، پھر وہی کھانا اس کے مالک کو کھلا دیا۔ اس بیان کردہ صورت میں کھانے کا ضمان، یعنی اس کی تلافی کی ذمہ داری، ساقط ہو جاتی ہے۔ اسے ادائے قاصر کہا گیا ہے۔ دونوں باتیں ساتھ رکھیں: • پہنچنے والا کھانا وہی اصل کھانا ہے، کوئی دوسرا بدل نہیں۔ • کھانا اس کے مالک کو ملا، لینے والے نے خود نہیں کھایا۔ مثال یہ نہیں کہ لینے والا خود کھا کر ذمہ داری ختم کر دے۔ اس سے اصل چیز مالک کو پہنچنے اور اس کی جگہ دوسری چیز دینے کا فرق سمجھ آتا ہے۔
13. متعین مہر کی تاریخی مثال
غلامی کے تاریخی نظام کی ایک اور مثال میں شوہر نے نکاح کے وقت کسی دوسرے کی ملکیت میں موجود ایک متعین غلام کو مہر1 مقرر کیا۔ بعد میں اسی شخص کو اصل مالک سے خریدا اور مقرر مہر کے طور پر بیوی کو دے دیا۔ جس شخص کو معاہدے میں متعین کیا تھا، وہی دیا گیا؛ اس لیے یہ ادا ہے۔ بیان کردہ مثال میں بیوی پر اس متعین مہر کو قبول کرنا لازم بتایا گیا ہے۔ فرق یہ دیکھنا ہے کہ شخص کون سا متعین ہوا تھا اور ہر مرحلے میں اس کی ملکیت کس کے پاس تھی۔ تاریخی ادارے کو آج کے معاملے کا نمونہ نہیں بنایا جا رہا۔ 1. مہر: نکاح میں بیوی کا مقرر کیا جانے والا حق؛ یہاں اس کی ایک مخصوص تاریخی صورت مثال ہے۔
14. شخص وہی، ملکیت کی حیثیت بدلی
متعین مہر کی تاریخی مثال میں ملکیت کے مرحلے دیکھیں: • نکاح کے وقت متعین شخص دوسرے مالک کی ملکیت میں تھا۔ • خریدنے کے بعد شوہر کی ملکیت میں آیا۔ • حوالے کرنے کے بعد بیوی کی ملکیت میں آیا۔ شخص وہی رہا، اس لیے دینا ادا ہے۔ مگر نکاح کے وقت اور حوالے کرنے کے وقت ملکیت کی صفت ایک نہ رہی۔ اسی تبدیلی سے قضا کی مشابہت پیدا ہوئی۔ دونوں بیان الگ پہلو بتاتے ہیں: وہی متعین شخص اور ملکیت کا بدلا ہوا تعلق۔
15. ان کے لیے صدقہ، ہمارے لیے ہدیہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس گوشت لایا گیا۔ آپ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ بتایا گیا کہ حضرت بریرہ کے پاس صدقے میں آیا تھا۔ آپ نے فرمایا: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ مطلب: ”وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ گوشت کوئی دوسری چیز نہیں بن گیا تھا۔ حاصل کرنے والے کے ساتھ اس کا تعلق بدلا: بریرہ کو صدقے میں ملا، آگے ہدیے کے طور پر دیا گیا۔ مثال سمجھاتی ہے کہ چیز وہی رہتے ہوئے ملکیت کے بدلنے سے اس کی قانونی صفت بدل سکتی ہے۔
16. ویسی چیز یا اس کی قیمت
لوگوں کے حقوق میں قضا بمثل معقول کے اندر بھی کامل اور قاصر کا فرق آتا ہے۔ • کامل: غصب کی ہوئی گھڑی توڑ دی، پھر اس جیسی گھڑی بدل میں دے دی۔ • قاصر: بکری مار دی؛ دوسری بکری ہر صفت میں بالکل ویسی نہیں ہوتی۔ اس لیے اس کی قیمت دی گئی، جو صورت کے بجائے معنی کے لحاظ سے بدل ہے۔ یہاں کامل اور قاصر بدل کی مشابہت بتاتے ہیں۔ دونوں قضا بمثل معقول کے اندر ہیں؛ اصل چیز دینے والی ادائے کامل اور قاصر کی شاخ الگ ہے۔
17. جب مال کو بدل مقرر کیا گیا ہو
دیت1 کی مثال میں خطا سے قتل یا کسی کا ہاتھ یا پاؤں توڑ دینے کی بیان کردہ صورت آتی ہے۔ انسان کی جان اور اعضا، مال جیسے نہیں؛ نہ صورت میں، نہ معنی میں۔ اس لیے مال کو ان کا بدل اپنی طرف سے مشابہت بنا کر مقرر نہیں کیا جاتا۔ شریعت نے یہ بدل مقرر کیا ہے تاکہ جان کا نقصان بے تلافی نہ رہ جائے۔ یہ مثل غیر معقول کی مثال ہے: بدل ہونا مقرر کیے جانے سے ثابت ہے، خود ظاہر مشابہت سے نہیں۔ یہاں فقہی قسم سمجھنی ہے، ذاتی طور پر سزا نافذ کرنے کی اجازت نہیں۔ 1. دیت: جان یا جسمانی نقصان کی اس فقہی مثال میں بیان کردہ مالی تلافی۔
18. جب تاریخی مثال میں مہر متعین نہ تھا
اب مہر کی دوسری تاریخی مثال دیکھیں۔ نکاح میں کسی ایک غلام کو متعین نہیں کیا، بلکہ غیر معین غلام کو مہر کہا گیا۔ اس تاریخی صورت میں درمیانی درجے کا غلام واجب بتایا گیا ہے۔ وہ دے دیا تو مہر ادا ہوا۔ اسی درمیانی درجے کی قیمت دے دی تو بھی بیان کردہ صورت میں مہر ادا ہوگیا۔ قیمت دینے کو قضائے شبیہ بالادا کہا جاتا ہے۔ پہلے متعین مہر کی مثال کے برخلاف، یہاں ذمہ داری کسی ایک متعین شخص کے ساتھ نہیں بندھی تھی۔ یہ فرق ضروری ہے۔
19. قیمت دینے میں ادا کی مشابہت کیوں ہے؟
غیر معین مہر کی تاریخی مثال میں ”درمیانی درجہ“ طے کرنے کے لیے بھی قیمت دیکھی جاتی ہے۔ اس درجے کا غلام دینا ہو تب بھی درجہ پہچاننے کی بنیاد قیمت بنتی ہے۔ وجہ یوں سمجھیں: • شخص کے بجائے قیمت دینا بدل پیش کرنا ہے، اس لیے قضا ہے۔ • مگر واجب چیز کا درجہ طے کرنے میں قیمت پہلے ہی بنیاد تھی؛ اس لحاظ سے قیمت دینا اصل ادائیگی سے مشابہ بھی ہے۔ مشابہت سے شخص دینے اور قیمت دینے کا فرق ختم نہیں ہوا۔ اس خاص مثال میں قضا کے اندر ادا والا پہلو سمجھ میں آیا۔
20. کیا قضا کے لیے نیا حکم ضروری ہے؟
اکثر اصولیوں کے نزدیک جس حکم سے اصل کام واجب ہوا، اسی سے اس کی قضا بھی لازم ہوتی ہے۔ یہاں زیرِ بحث معقول مثل والی صورتوں کے لیے الگ نیا حکم ضروری نہیں۔ وقت والی عبادت رہ جائے تو 2 باتیں الگ کریں: • اصل کام کی ذمہ داری باقی ہے۔ • وہی اصل وقت دوبارہ نہیں لایا جا سکتا۔ اصل وقت کا مطالبہ ساقط ہوتا ہے، مگر ذمے کے کام کا مثل باقی رہتا ہے۔ یہ اکثر اصولیوں کا موقف ہے؛ سب کے اتفاق کا دعویٰ نہیں۔ ایسے بدل کی الگ شرط ہے جس کی مشابہت نص، یعنی یہاں قرآن یا حدیث کی عبارت، سے مقرر ہوتی ہے۔
21. اصل حکم اور روزوں کی قضا کی آیت
اصل حکم کی یہ عبارتیں دی گئی ہیں: أَقِيمُوا الصَّلَاةَ — نماز قائم کرو۔ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ — تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں۔ ابھی پڑھی ہوئی اکثریتی دلیل کے لحاظ سے کام کا مثل ذمے باقی رہتا ہے۔ اس کے ساتھ بیماری یا سفر کے بعد روزوں کے بارے میں الگ قرآنی حکم بھی آیا ہے: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ مطلب: تم میں سے جو بیمار ہو یا سفر میں ہو، وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی گنتی کے روزے رکھے۔ یہاں اتنے ہی روزے رکھنے کا ذکر ہے، اپنی پسند سے کوئی غیر متعلق بدل چننے کا نہیں۔ نئی نص ضروری نہ ہونے کی دلیل کا مطلب یہ نہیں کہ الگ نص آئی ہی نہیں۔
22. رہ جانے والی نماز اور دوسرے واجبات
نماز کے بارے میں یہ حدیث بیان کی گئی ہے: مَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا مطلب: جو نماز کے وقت سویا رہ جائے یا نماز بھول جائے، وہ یاد آنے پر اسے پڑھ لے۔ حدیث میں نیند یا بھول کی صورت صاف بیان ہوئی ہے۔ اسی نماز کو پڑھنے کا حکم ہے، کوئی غیر متعلق بدل پیش کرنے کا نہیں۔ اسی بحث میں معقول مثل کی دلیل مقرر دن کے منّت کے روزے، منّت کی نماز اور منّت کے اعتکاف1 پر بھی آتی ہے: ان کی قضا کے لیے ہر ایک پر الگ نئی نص ضروری نہیں۔ یہ دلیل اس بدل سے الگ ہے جس کی مشابہت عقل خود ثابت نہیں کرتی۔ 1. منّت کی عبادت: منّت ماننے سے لازم کی ہوئی عبادت؛ اعتکاف عبادت کے لیے ٹھہرنے کو کہتے ہیں۔ مثال پہلے سے لازم کام اور اس کے مثل کی ہے۔
23. بدل اپنی طرف سے مقرر نہیں کیا جا سکتا
مثل غیر معقول کے لیے منقول نص ضروری ہے۔ جان یا عضو کا بدل مال کو صرف اپنی سوچ سے مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ آخری فقہی مثال میں قتلِ خطا اور قتلِ عمد کا فرق ہے۔ خطا کی صورت میں دیت کا بیان کردہ حکم لے کر عمد کی صورت میں قصاص1 کے بجائے مالی ادائیگی یک طرفہ طور پر لازم نہیں کی جا سکتی۔ اس کے ساتھ صلح کی الگ صورت بھی ہے: قاتل اپنی مرضی سے مالی ادائیگی پر راضی ہو، اور مقتول کے ورثا قصاص نہ لینا چاہیں اور صلح قبول کریں۔ مثال میں دونوں طرف کی رضامندی ضروری ہے۔ اس سے بدل مقرر کرنے کی حد سمجھنی ہے۔ یہ ذاتی طور پر سزا دینے کا اختیار یا کسی حقیقی مقدمے کا فیصلہ کرنے کا طریقہ نہیں۔ 1. قصاص: قتل کی اس مثال میں بیان کردہ قانونی بدلہ؛ ذاتی انتقام نہیں۔
مشق کے سوالات
سوال 1
ایک سادہ تعلیمی مثال میں استاد نے اپنی ایک متعین کاپی واپس مانگی۔ وہی کاپی لوٹانے اور اس جیسی دوسری کاپی پیش کرنے میں کیا فرق ہے؟
- دونوں میں وہی اصل متعین چیز واپس ہوئی
- پہلے میں اصل چیز لوٹی؛ دوسرے میں اس کا مثل پیش ہوا
- پہلے میں مثل پیش ہوا؛ دوسرے میں اصل چیز لوٹی
- فرق صرف واپس کرنے کے دن کا ہے
سوال 2
آج کی فرض ظہر سے کل کی رہ جانے والی ظہر بھی کیوں ادا نہیں ہوتی؟
- رہ جانے والی نماز کے لیے کوئی عمل باقی نہیں
- دونوں نمازیں ایک ہی اصل ذمہ داری ہیں
- قضا صرف آج کی نماز کا نام بدلنا ہے
- آج کی نماز آج کا فرض پورا کرتی ہے؛ کل کی ذمہ داری الگ باقی ہے
سوال 3
ادا کی کون سی تقسیم پڑھے ہوئے تعلق کو صحیح رکھتی ہے؟
- ادائے محض میں کامل اور قاصر ہیں؛ دوسری شاخ قضا سے مشابہ ہے
- کامل اور قاصر صرف قضا کے نام ہیں
- ہر ادائے قاصر، مثل غیر معقول والی قضا ہے
- ادائے محض اور قضا سے مشابہ ادا ایک ہی شاخ ہیں
سوال 4
مسبوق رہ جانے والا حصہ اکیلے پورا کرتا ہے۔ مثال میں اسے ادائے قاصر کیا بناتا ہے؟
- نماز کی اصل دوسری عبادت بن گئی
- نماز کا وقت لازماً ختم ہو چکا ہے
- اس حصے میں جماعت کی صفت نہیں رہی
- ہر صفت کی کمی والا عمل لازماً باطل ہے
سوال 5
لاحق کی پڑھی ہوئی مثال میں کون سی دو باتیں ادا کے ساتھ قضا کی مشابہت سمجھاتی ہیں؟
- نماز وقت سے باہر ہے، مگر کوئی صفت نہیں گئی
- نماز وقت میں ہے؛ امام کی پیروی باقی مگر ساتھ پڑھنا نہیں رہا
- پیروی اور ساتھ پڑھنا دونوں بالکل پہلے جیسے ہیں
- شخص دیر سے شامل ہوا اور باقی حصہ اب لازم نہیں
سوال 6
روزے اور فدیے کی مثال میں دونوں کاموں کا بدل ہونا ظاہر مشابہت سے کیوں نہیں نکلتا؟
- ایک کھانے سے رکنا اور دوسرا کھلانا ہے؛ بدل شریعت نے مقرر کیا ہے
- کھلانا اور کھانے سے رکنا صورتاً ایک ہی کام ہیں
- ہر روزہ دار بغیر شرط کوئی بدل چن سکتا ہے
- کسی نص سے کوئی بدل مقرر نہیں ہو سکتا
سوال 7
عید کی زائد تکبیریں رکوع میں کہنے کی مثال کے ساتھ کون سی شرط ہے؟
- نمازی کھڑے ہو کر تمام زائد تکبیریں کہہ کر بھی رکوع پا سکتا ہے
- آنے سے پہلے امام پوری نماز ختم کر چکا ہے
- رکوع پانے کے لیے تکبیرِ تحریمہ چھوڑ دی جاتی ہے
- اتنا وقت نہیں کہ کھڑے ہو کر زائد تکبیریں کہے اور امام کا رکوع بھی پا لے
سوال 8
عید کی ان تکبیروں کو قضائے شبیہ بالادا کیوں کہتے ہیں؟
- وہ نماز سے باہر ہیں اور قیام سے کوئی تعلق نہیں
- قضا اور ادا میں کوئی اصطلاحی فرق نہیں
- قیام کی جگہ گزر گئی، مگر رکوع میں قیام کی مشابہت ہے
- ہر بعد کی حالت غیر متعلق مثل غیر معقول ہے
سوال 9
بکری کی مثالوں میں کون سا فرق درست ہے؟
- وہی معیوب بکری واپس کرنا ادائے قاصر ہے؛ تلف ہونے کے بعد قیمت دینا مثل معقول قاصر والی قضا ہے
- دونوں میں وہی اصل صحیح سالم چیز واپس آتی ہے
- حالت بدلنا اور اصل چیز بدلنا ہمیشہ ایک بات ہے
- قیمت دینا ہمیشہ اصل چیز والی ادا ہے
سوال 10
کھانے کی مثال میں کون سی باتیں ساتھ رہنا ضروری ہیں؟
- کوئی بھی کھانا لینے والے نے خود کھا لیا
- وہی کھانا اس کے مالک کو کھلایا گیا
- دوسرا کھانا کسی اجنبی کو دیا گیا
- صرف لینے والے کی نیت نے پہنچانے کی جگہ لے لی
سوال 11
متعین مہر کی تاریخی مثال میں کیا وہی رہتا ہے اور کیا بدلتا ہے؟
- متعین شخص بدل جاتا ہے، ملکیت کبھی نہیں بدلتی
- شخص اور ملکیت دونوں بالکل پہلے جیسے رہتے ہیں
- اس مثال میں کوئی شخص متعین نہیں ہوا تھا
- متعین شخص وہی رہتا ہے؛ ملکیت کا تعلق بدلتا ہے
سوال 12
بریرہ کے گوشت والی حدیث اس بحث میں کیا سمجھاتی ہے؟
- گوشت صورتاً دوسرا کھانا بن گیا
- ہر چیز کی قانونی صفت ہر حاصل کرنے والے کے لیے ایک ہی رہتی ہے
- وہی چیز آگے دینے سے بدلا ہوا قانونی تعلق رکھ سکتی ہے
- ہدیہ ہونے کا مطلب اصل چیز کا ختم ہونا ہے
سوال 13
غیر معین مہر کی تاریخی مثال میں قیمت دینے کا ادا جیسا پہلو کیوں ہے؟
- واجب درمیانی درجہ طے کرنے کے لیے قیمت پہلے ہی بنیاد تھی
- معاہدے سے پہلے ایک خاص شخص لازماً متعین تھا
- مال اور انسان صورتاً ایک ہی چیز ہیں
- مثال ہر قسم کے مہر کا بدل ایک ہی حکم سے بتاتی ہے
سوال 14
پڑھی ہوئی اکثریتی دلیل کے مطابق اصل وقت واپس نہ لایا جا سکے تو کیا باقی رہتا ہے؟
- نہ کام کی ذمہ داری رہتی ہے نہ کوئی مثل
- کام کا مثل باقی رہتا ہے، اگرچہ اصل وقت کا مطالبہ ساقط ہے
- دن کا نام بدل کر وقت ہمیشہ واپس لایا جا سکتا ہے
- ہر عالم کا ہر بدل پر اتفاق ماننا لازم ہے
سوال 15
روزے اور نماز کی الگ نصوص کا اصل حکم والی دلیل سے کیا تعلق ہے؟
- وہ بتاتی ہیں کہ اصل حکم والی دلیل الگ تائیدی نص کے آنے سے انکار کرتی ہے
- وہ بتاتی ہیں کہ اصل حکم کی یہی دلیل ہر مثل غیر معقول پر بھی یکساں ہے
- وہ وقت کو واحد باقی مطالبہ بناتی ہیں، جبکہ اصل عمل کا مطالبہ ختم ہو جاتا ہے
- وہ صریح تائید دیتی ہیں؛ دلیل اس بارے میں ہے کہ نئی نص ضروری ہے یا نہیں
سوال 16
قتل اور صلح کی آخری مثال کی شرطیں کون سا بیان محفوظ رکھتا ہے؟
- خطا کی مالی ادائیگی عمد میں بھی الگ صلح کی رضامندی کے بغیر لازمی ہے
- قاتل کا ادائیگی پر راضی ہونا کافی ہے، اگرچہ ورثا صلح قبول نہ کریں
- صلح میں رضاکارانہ ادائیگی اور ورثا کا قصاص کے بجائے اسے قبول کرنا، دونوں ضروری ہیں
- اس مثال میں صرف ورثا کا مالی ادائیگی چاہنا قاتل کی رضامندی سے بے نیاز کر دیتا ہے
تعاملی کوئز کھولیں