امر: ایک بار عمل اور تکرار کا فرق

امر: ایک بار عمل اور تکرار کا فرق کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. حکم سے کیا لازم ہوتا ہے؟

آپ پڑھ چکے ہیں کہ امر کا صیغہ مختلف مقاصد کے لیے آ سکتا ہے۔ امر کا بنیادی حکم ایجاب1 ہے، یعنی جس کام کا حکم دیا گیا ہے وہ کرنا لازم ہو، جب تک دلیل سے کوئی دوسرا مقصد واضح نہ ہو۔ اب 2 باتیں الگ سمجھیں: • کیا یہ کام کرنا لازم ہے؟ یہ کام کے لازم ہونے کا سوال ہے۔ • یہ کام کتنی بار کرنا ہے؟ بار بار کرنے کی اپنی وجہ درکار ہے؛ صرف لازم ہونے سے تعداد معلوم نہیں ہوتی۔ مثلاً ”پانی لاؤ“ میں ایک کام کرنے کو کہا گیا ہے۔ دوبارہ پانی لانا بھی لازم ہے یا نہیں، یہ الگ سوال ہے۔ 1. ایجاب: کسی کام کو مخاطب کے ذمے لازم کرنا۔

2. ایک بار کام کرنے سے حکم پورا ہونا

کسی نے کہا: ”پانی لاؤ۔“ آپ ایک بار پانی لے آئے۔ اس کا کہا ہوا کام پورا ہو گیا؛ انہی الفاظ سے دوبارہ پانی لانا لازم نہیں ہوتا۔ اسی کو کہتے ہیں: امر میں تکرار کا تقاضا نہیں۔ کام کرنا لازم ہونا اور بار بار کرنا لازم ہونا الگ باتیں ہیں۔ حکم کے مطابق کام کر لینے کو امتثال1 کہتے ہیں۔ ایک بار مطلوبہ پانی لے آنا اس حکم کا امتثال ہے۔ 1. امتثال: دیے ہوئے حکم پر عمل کرنا۔

3. نماز دوبارہ کیوں لازم ہوتی ہے؟

أَقِيمُوا الصَّلَاةَ کا مطلب ہے: ”نماز قائم کرو۔“ اس سے نماز کا حکم ملتا ہے، مگر صرف ان الفاظ میں بار بار آنے والے اوقات بیان نہیں ہوئے۔ قرآن میں یہ بھی ہے: إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا بے شک نماز مومنوں پر مقرر وقتوں میں فرض ہے۔ 5 روزانہ نمازوں کے وقت مقرر ہیں۔ اگلی نماز کا وقت آتا ہے تو اس نماز کا فرض لازم ہوتا ہے۔ اس وقت کی نماز ایک بار پڑھنے سے وہ فرض ادا ہو جاتا ہے؛ اسی وقت میں وہی نماز بار بار فرض نہیں ہو جاتی۔ نیا وقت آنے سے نیا فرض لازم ہوتا ہے۔ یہ بات صرف امر کے لفظ کو ”بار بار کرو“ سمجھنے سے مختلف ہے۔

4. زکات اور حج میں فرق

زکات: وَآتُوا الزَّكَاةَ کا مطلب ہے: ”زکات ادا کرو۔“ صرف ان الفاظ سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کتنی بار زکات لازم ہو گی۔ • مال اور سال کی مثال میں آدمی مقرر نصاب1 کا مالک ہو اور اس پر سال پورا ہو تو متعلقہ زکات لازم ہوتی ہے۔ • یہی شرط دوبارہ پوری ہو تو زکات پھر لازم ہوتی ہے۔ ایک بار ادائیگی سے اس سال کا فرض ادا ہوتا ہے، آئندہ ہر سال کا نہیں۔ حج: جس شخص پر حج فرض ہو، وہ ایک بار حج کر لے تو یہ فرض ادا ہو جاتا ہے۔ اسی حکم سے ہر سال حج فرض نہیں ہوتا۔ بات یہ سمجھنی ہے کہ فرض دوبارہ لازم ہونے کی وجہ کیا ہے۔ نماز، مال کی اس زکات اور حج میں ایک ہی طریقہ نہیں ہے۔ 1. نصاب: مال کی وہ مقرر حد جو زکات کے حکم سے متعلق ہے۔

5. ایک حکم سے بار بار اختیار نہیں ملتا

امر خود بار بار عمل کا مطالبہ نہیں کرتا۔ اب ایک اور فرق سمجھیں: صرف امر کے صیغے میں بار بار الگ عمل کرنے کا معنی بھی شامل نہیں ہوتا، چاہے کہنے والا یہ نیت کرے۔ یہ حنفی مثال دیکھیں: شوہر بیوی سے کہتا ہے، طَلِّقِي نَفْسَكِ — ”اپنے اوپر طلاق واقع کرو۔“ یعنی وہ اسے اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کا اختیار دیتا ہے1۔ ان الفاظ کے تحت بیوی کو ایک بار اختیار استعمال کرنے کا حق ملتا ہے۔ ایک بار استعمال کے بعد اسی حکم سے دوسری بار الگ طلاق واقع کرنے کا اختیار نہیں ملتا۔ شوہر صرف بار بار اختیار دینے کی نیت کرے تب بھی امر کے یہ الفاظ تکرار کا معنی نہیں دیتے۔ 1. اختیار دینا: اس مثال میں شوہر بیوی کو اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کا حق دیتا ہے۔

6. ایک بار عمل اور طلاقوں کی تعداد

کتنی بار اختیار استعمال ہوا؟ اور ایک بار میں کتنی طلاقیں واقع کی گئیں؟ دونوں سوال الگ ہیں۔ آزاد بیوی کی مثال میں: • شوہر طَلِّقِي نَفْسَكِ کہتے وقت 3 طلاقوں کی نیت کرے، اور بیوی ایک ہی بار میں 3 طلاقیں واقع کرے، تو 3 واقع ہو جاتی ہیں۔ • بیوی پہلے ایک طلاق واقع کرے، پھر دوسری الگ طلاق، پھر تیسری الگ طلاق، تو اس دیے ہوئے اختیار سے صرف پہلی واقع ہوتی ہے۔ پہلی بار عمل سے اختیار استعمال ہو چکا ہوتا ہے۔ • آزاد بیوی کی اس مثال میں ان الفاظ سے 2 طلاقوں کی نیت درست نہیں ہوتی۔ 2 طلاقیں واقع کرنے سے اس نیت کے تحت 2 واقع نہیں ہوتیں۔ 1، 2 اور 3 میں یہ فرق کیوں ہے؟ اسے سمجھنے کے لیے اب مصدر کے معنی کو دیکھتے ہیں۔

7. مقدار اور بار بار عمل کا فرق

مصدر1 کسی کام کا نام بتاتا ہے، اس کا زمانہ نہیں۔ مثلاً قِیَام کا مطلب ہے کھڑا ہونا۔ تھوڑی دیر یا زیادہ دیر کھڑا ہونا، عمل کی مقدار بتاتا ہے؛ اس سے الگ الگ بار کھڑا ہونے کی گنتی خود بخود نہیں بنتی۔ اسی طرح پانی اور شہد تھوڑا بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ بھی۔ ایک قطرے کو بھی پانی کہتے ہیں اور سمندر کے پانی کو بھی۔ مقدار اور الگ الگ کاموں کی گنتی دو مختلف باتیں ہیں۔ طَلِّقِي میں طَلَاق کا معنی شامل ہے۔ اس حنفی وضاحت میں اس سے مراد ہو سکتی ہے: • کم سے کم مقدار: 1 طلاق؛ اسے فردِ ادنی کہتے ہیں۔ • پوری مقدار: تمام طلاقوں کا مجموعہ، جسے ایک پورا مجموعہ سمجھا جائے؛ اسے فردِ کامل کہتے ہیں۔ آزاد بیوی کی اس مثال میں 3 پوری تعداد ہے۔ 2 نہ کم سے کم تعداد ہے، نہ پوری تعداد۔ یوں تعداد کا فرق سمجھ آتا ہے، مگر ایک حکم بار بار الگ عمل کا اختیار نہیں بن جاتا۔ 1. مصدر: کام کا نام، جس میں کام کا زمانہ بیان نہ ہو، جیسے ”کھڑا ہونا“۔

8. پوری تعداد مثال کے لحاظ سے بدلتی ہے

پچھلی مثال آزاد بیوی کی تھی۔ تاریخی فقہی مثال میں باندی بیوی1 کے لیے اس حنفی بحث میں پوری تعداد مختلف ہے۔ • آزاد بیوی کے لیے پوری تعداد 3 ہے۔ زیرِ بحث الفاظ سے 2 کی نیت درست نہیں ہوتی۔ • باندی بیوی کے لیے پوری تعداد 2 ہے۔ شوہر طَلِّقِي سے 2 کی نیت کرے تو یہ نیت درست ہے، کیونکہ اس کے حق میں 2 ہی پوری تعداد ہے۔ پوری تعداد کے مجموعے کو ایک مکمل مجموعہ سمجھا جاتا ہے۔ اسے فردِ اعتباری2 بھی کہتے ہیں۔ اس سے پہلی بار اختیار استعمال کرنے کے بعد نیا اختیار نہیں ملتا۔ 1. باندی بیوی: تاریخی غلامی کے نظام میں مملوکہ بیوی کی حیثیت؛ یہاں عام گھریلو ملازمہ مراد نہیں۔ 2. فردِ اعتباری: مکمل مجموعے کو وضاحت میں ایک اکائی سمجھنا۔

مشق کے سوالات

سوال 1

کسی امر سے کام کرنا لازم ہو گیا۔ کیا صرف اس بات سے بار بار کرنا بھی لازم ہو جاتا ہے؟

  • ہاں، لازم ہونے کا مطلب ہمیشہ روزانہ کرنا ہے
  • نہیں، تکرار کی اپنی وجہ درکار ہے
  • نہیں، اس لیے کام اختیاری ہو جاتا ہے
  • ہاں، جب تک کہنے والا روک نہ دے

سوال 2

کسی نے کہا ”کتاب لاؤ“ اور آپ ایک بار کتاب لے آئے۔ اس نے بار بار لانے کی کوئی بات نہیں کی۔ پڑھے ہوئے قاعدے کے مطابق کیا سمجھیں گے؟

  • یہ کام 3 بار کرنا لازم ہے
  • یہی مطالبہ ہر گھنٹے دوبارہ شروع ہو جاتا ہے
  • کام اب بھی پورا نہیں ہوا
  • کہا ہوا کام پورا ہو گیا ہے

سوال 3

نماز کے مقرر وقتوں والی آیت بار بار نماز لازم ہونے کو کیسے سمجھاتی ہے؟

  • نیا مقرر وقت آنے سے اس وقت کی نماز لازم ہوتی ہے
  • ایک ہی وقت میں وہی نماز بار بار فرض ہو جاتی ہے
  • ایک نماز سے آئندہ سب وقتوں کا فرض ادا ہو جاتا ہے
  • نماز پڑھنے کا حکم باقی نہیں رہتا

سوال 4

پڑھی ہوئی زکات کی مثال میں ادائیگی کے بعد زکات دوبارہ کیوں لازم ہو سکتی ہے؟

  • کیونکہ ایک ادائیگی سے کوئی فرض ادا نہیں ہوتا
  • کیونکہ ہر امر خود بخود روزانہ دہرایا جاتا ہے
  • کیونکہ نصاب اور سال کی بیان کردہ شرط پھر پوری ہوتی ہے
  • کیونکہ ہر نماز کے بعد ادا کرنا لازم ہے

سوال 5

ایک شخص نے اپنے ذمے فرض حج ادا کر لیا۔ مثال میں اسی حکم کے بارے میں کیا سمجھایا گیا ہے؟

  • اس سے اگلے دن حج پھر فرض ہوتا ہے
  • اس سے خود بخود ہر سال حج فرض نہیں ہوتا
  • اس حکم پر بالکل عمل نہیں ہوا
  • کسی ادائیگی سے پہلے 3 حج کرنا لازم ہے

سوال 6

آزاد بیوی کی مثال میں شوہر طَلِّقِي نَفْسَكِ سے 3 کی نیت کرتا ہے۔ بیان کردہ اختیار کے تحت کس عمل سے 3 واقع ہوتی ہیں؟

  • وہ پہلے ایک طلاق واقع کرے، پھر دو بار الگ الگ اختیار استعمال کرے
  • صرف شوہر کی نیت کافی ہو، بیوی اختیار استعمال نہ کرے
  • وہ اختیار صرف ایک طلاق کے لیے استعمال کرے
  • وہ ایک ہی بار اختیار استعمال کرکے 3 واقع کرے

سوال 7

مصدر کی وضاحت میں پانی اور شہد کی مثال کیا سمجھاتی ہے؟

  • تھوڑی یا پوری مقدار، بار بار الگ کاموں کی گنتی سے مختلف ہے
  • ہر بڑی مقدار لازماً 3 الگ کام ہوتی ہے
  • ہر امر بے شمار بار عمل کی اجازت دیتا ہے
  • مصدر کام کا وقت مقرر کرتا ہے

سوال 8

تاریخی باندی بیوی کی مثال میں طَلِّقِي سے 2 کی نیت کیوں درست ہے، جبکہ پڑھی ہوئی آزاد بیوی کی مثال میں نہیں؟

  • کیونکہ امر ہمیشہ 2 بار دہرانے کا معنی دیتا ہے
  • کیونکہ نیت ہمیشہ الفاظ کی ہر حد ختم کر دیتی ہے
  • کیونکہ اس تاریخی مثال میں 2 پوری تعداد ہے، جبکہ آزاد بیوی کی مثال میں پوری تعداد 3 ہے
  • کیونکہ پہلی بار استعمال کے بعد بے شمار بار کا اختیار باقی رہتا ہے

تعاملی کوئز کھولیں