نماز کے لیے ستائیس (27) لازمی شرائط کا اجمالی خاکہ
نماز کے لیے ستائیس (27) لازمی شرائط کا اجمالی خاکہ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. نماز کے لیے ستائیس (27) لازمی شرائط کا اجمالی خاکہ
لَا بُدَّ لِصِحَّةِ الصَّلَاةِ مِنْ سَبْعَةٍ وَعِشْرِينَ شَيْئًا... • شرط کی تعریف: وہ لازمی تقاضا جو نماز شروع کرنے سے پہلے پورا ہونا ضروری ہے اور پوری نماز کے دوران اس کا قائم رہنا شرط ہے۔ • ستائیس شرائط: حنفی فقہ میں نماز کی صحت کے لیے کل ستائیس (27) امور کو بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ • ان شرائط کو پورا کیے بغیر نماز سرے سے منعقد (شروع) ہی نہیں ہوتی۔ • اس لیول میں ہم طہارت اور جسمانی پاکی سے متعلق پہلی ابواب کا مطالعہ کریں گے۔
2. پہلی شرط: حکمی ناپاکی سے جسم کا پاک ہونا
الطَّهَارَةُ مِنَ الْحَدَثِ الأَصْغَرِ وَالأَكْبَرِ • بنیادی شرط: نماز شروع کرنے سے پہلے پورے جسم کا ہر قسم کی حکمی ناپاکی سے پاک ہونا شرطِ لازمی ہے۔ • حدثِ اصغر: بے وضوئی کی حالت۔ اس کے متبادل کے طور پر وضو کرنا لازم ہے۔ • حدثِ اکبر: غسل کی ضرورت (مثلاً جنابت، حیض یا نفاس کا ختم ہونا)۔ اس کے متبادل کے طور پر غسل کرنا فرض ہے۔ • اگر کسی نے باوضو یا پاک غسل کیے بغیر نماز شروع کی، تو نماز باطل مانی جائے گی، خواہ وہ بھول کر ہی کیوں نہ ہو۔
3. دوسری شرط: حقیقی نجاست سے جسم، کپڑے اور جگہ کی طہارت
وَطَهَارَةُ الْجَسَدِ وَالثَّوْبِ وَالْمَكَانِ مِنَ النَّجَاسَةِ الْحَقِيقِيَّةِ • حقیقی نجاست: وہ ظاہری ناپاکی جو چھوئی جا سکتی ہو (جیسے پیشاب، پاخانہ، خون یا شراب)۔ • تین چیزوں کی طہارت لازم ہے: ◦ الجسد (جسم): نماز پڑھنے والے کا پورا جسم نجس چیزوں سے پاک ہونا چاہیے۔ ◦ الثوب (کپڑے): پہنے ہوئے تمام کپڑے (بشمول ٹوپی یا جرابیں) پاک ہونی چاہئیں۔ ◦ المكان (جگہ): وہ جگہ جہاں نماز پڑھی جا رہی ہو۔
4. نماز کی جگہ کا شرعی دائرہ اور حدود
مَوْضِعُ الْقَدَمَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالْيَدَيْنِ وَالْجَبْهَةِ • جگہ کی طہارت کی حد: جگہ کی طہارت سے مراد پورا کمرہ یا پوری چٹائی نہیں ہے، بلکہ صرف وہ مخصوص حصّے ہیں جن سے نماز کے دوران جسم کے اعضاء براہِ راست چھوتے ہیں: ◦ پاؤں رکھنے کی جگہ (موضع القدمین)۔ ◦ گھٹنے اور ہاتھ رکھنے کی جگہ (موضع الركبتين واليدين)۔ ◦ پیشانی اور ناک ٹیکنے کی جگہ (موضع الجبهة والأنف)۔ • اہم قاعدہ: اگر جائے نماز کے کسی دوسرے حصے پر ناپاکی لگی ہو جسے نماز پڑھنے والے کے اعضاء سجدے یا قیام میں نہ چھوئیں، تو نماز کامل طور پر درست ہے۔
5. تیسری شرط: سترِ عورت (جسم کو چھپانا)
وَسَتْرُ الْعَوْرَةِ بِالتَّقْدِيرِ الْمَفْرُوضِ • ستر کا مفہوم: جسم کے وہ اعضاء جن کا نماز کے دوران اور عام حالات میں دوسروں کے سامنے چھپانا فرض قرار دیا گیا ہے۔ • سترِ عورت کی شرط: نماز شروع کرنے سے پہلے فرض رقبے کا کپڑوں سے چھپا ہونا لازمی شرط ہے۔ • پوشیدگی کی حد: اگر نماز کے دوران جسم کا کوئی ایسا عضو جو ستر میں شامل ہو، ننگا ہو جائے تو نماز فاسد ہونے کے مخصوص ضابطے ہیں۔ • (مرد اور عورت کے ستر کی تفصیلی حدود اور ناپ کے مسائل ہم لیول ۱۴ میں تفصیل سے پڑھیں گے)۔
مشق کے سوالات
سوال 1
کتاب "نور الإیضاح" کے مطابق نماز کی صحت کے لیے کل کتنی شرائط کا ہونا لازمی ہے؟
- بارہ (۱۲) شرائط۔
- ستائیس (۲۷) شرائط۔ [74]
- نو (۹) شرائط۔
- سترہ (۱۷) شرائط۔
سوال 2
اگر کوئی شخص وضو کرنا بھول جائے اور اسی حالت میں نماز پڑھ لے، تو بھولنے کی وجہ سے اس کی نماز درست مانی جائے گی۔
سوال 3
درج ذیل میں سے کون سی چیز حقیقی نجاست سے پاک ہونی لازمی شرط نہیں ہے؟
- نماز پڑھنے والے کا جسم۔
- نماز پڑھنے والے کے کپڑے۔
- وہ پورا کمرہ جہاں نماز کا قالین رکھا ہوا ہے۔ [74]
- جائے نماز پر جسمانی اعضاء لگنے کی مخصوص جگہیں۔
سوال 4
اگر جائے نماز کے ایک کونے پر خون لگا ہو، لیکن سجدے اور قیام کے دوران نماز پڑھنے والے کے پاؤں، گھٹنے اور پیشانی صرف صاف حصے پر لگیں، تو نماز بالکل درست ہے۔
سوال 5
نماز شروع کرنے سے پہلے جسم کے لازمی حصوں کو چھپانے کی شرط کو کیا کہتے ہیں؟
- استقبالِ قبلہ
- سترِ عورت [74]
- نیت
- تکبیرِ افتتاح
سوال 6
نماز کی 'شرط' وہ لازمی تقاضا ہے جو نماز شروع کرنے سے پہلے پورا ہونا چاہیے اور پوری نماز میں برقرار رہنا لازم ہے۔
سوال 7
درج ذیل حکمی ناپاکیوں کو ان کے شرعی متبادل سے جوڑیں:
سوال 8
جائے نماز کے درج ذیل مقامات کو ان کی ضرورت کے مطابق الگ الگ خانوں میں تقسیم کریں:
تعاملی کوئز کھولیں