نماز کی شرط: سترِ عورت (شرمگاہ کا چھپانا)

نماز کی شرط: سترِ عورت (شرمگاہ کا چھپانا) کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. نماز کی شرط: سترِ عورت (شرمگاہ کا چھپانا)

• سترِ عورت کی فرضیت: نماز کے درست اور صحیح ہونے کے لیے نمازی کا اپنے مخصوص شرمگاہ کے حصے کو چھپانا فرض ہے۔ • چھپانے کا وقت: یہ پوشیدگی نماز شروع ہونے سے لے کر نماز ختم ہونے تک مسلسل قائم رہنی چاہیے۔ • جنس کی تقسیم: شریعت نے مرد، آزاد عورت، اور لونڈی (کنیز) کے لیے عورہ (پوشیدہ حصے) کی حدود الگ الگ اور انتہائی واضح طور پر متعین فرمائی ہیں، جن کا مطالعہ ہم اس لیول میں کریں گے۔

2. مرد کے لیے سترِ عورت کی شرعی حدود

عَوْرَةُ الرَّجُلِ: مَا بَيْنَ السُّرَّةِ وَالرُّكْبَةِ، وَالرُّكْبَةُ مِنَ الْعَوْرَةِ • مرد کی حد: مرد کے لیے نماز کے اندر شرمگاہ (عورہ) کا حصہ ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنے کے نیچے تک ہے۔ • ناف اور گھٹنے کا مسئلہ: ◦ ناف: ناف بذاتِ خود عورہ میں شامل نہیں ہے (ناف کے نیچے کا حصہ عورہ ہے)۔ ◦ گھٹنا: حنفی مذہب کے مستند قول کے مطابق گھٹنا عورہ میں شامل ہے اور اس کا چھپانا فرض ہے۔ • اہم نصاب: اگر کسی مرد کی ران یا گھٹنا نماز کے دوران ننگا ہو جائے، تو اس کی نماز فاسد ہونے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔

3. آزاد عورت کے لیے سترِ عورت کی شرعی حدود

وَجَمِيعُ بَدَنِ الْحُرَّةِ عَوْرَةٌ إِلَّا وَجْهَهَا وَكَفَّيْهَا وَقَدَمَيْهَا • آزاد عورت کی حد: آزاد بالغ عورت کا پورا جسم عورہ (قابلِ ستر) ہے، سوائے درج ذیل تین مستثنیٰ اعضاء کے: ◦ الْوَجْه (چہرہ): سجدہ اور تلاوت کے لیے چہرہ کھلا رکھنا جائز ہے۔ ◦ الْكَفَّيْن (دونوں ہاتھ): دونوں ہتھيلیاں (پشت اور پیٹ سمیت) کھلی رکھنا جائز ہے۔ ◦ الْقَدَمَيْن (دونوں پاؤں): دونوں پاؤں (تلوے اور پیٹھ) کھلے رکھنا جائز ہے۔ • کانوں سے نیچے لٹکتے بال: عورت کے وہ بال جو کانوں کی لو سے نیچے لٹکے ہوئے ہوں، وہ بھی عورہ کا حصہ ہیں اور ان کا چھپانا فرض ہے۔

4. کنیز (لونڈی) کے لیے سترِ عورت کی حدود

وَعَوْرَةُ الأَمَةِ كَالرَّجُلِ، وَتَزِيدُ عَلَيْهِ الظَّهْرَ وَالْبَطْنَ • کنیز کا تاریخی شرعی حکم: اسلامی شریعت میں لونڈی (کنیز) کا عورہ مرد کے عورہ جیسا ہی ہے، لیکن اس پر دو اعضاء کا اضافہ کیا گیا ہے: ◦ الْبَطْن (پیٹ): ناف سے لے کر پیڑو تک کا پیٹ کا حصہ چھپانا فرض ہے۔ ◦ الظَّهْر (پیٹھ): پشت اور کمر کا حصہ چھپانا فرض ہے۔ • کنیز کے سر کے بال، چھاتی اور بازو عورہ میں شامل نہیں ہیں (کیونکہ اسے مالکانہ امور کے لیے بار بار باہر نکلنا پڑتا تھا)۔

5. شرعی حدودِ ستر (عورت) کا موازنہ

• مرد کی حد: ناف کے نیچے سے گھٹنے تک (گھٹنا شامل ہے، ناف شامل نہیں)۔ • آزاد عورت کی حد: پورا جسم عورہ ہے (سوائے چہرہ، ہاتھ اور پاؤں کے)۔ لٹکتے بال بھی عورہ ہیں۔ • لونڈی کی حد: ناف سے گھٹنے تک، پلس پیٹ اور پیٹھ۔ • ان حدود میں سے کسی بھی حصے کا ننگا ہونا نماز کو باطل کر دیتا ہے، جس کی تفصیل ہم اگلے لیول میں پڑھیں گے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

حنفی فقہ کے مطابق مرد کے لیے سترِ عورت (عورہ) کی حدود کے بارے میں کون سا جملہ درست ہے؟

  • ناف سے گھٹنے تک، لیکن گھٹنا شامل نہیں ہے۔
  • ناف کے نیچے سے گھٹنے کے نیچے تک، اور گھٹنا عورہ میں شامل ہے۔ [82]
  • صرف مخصوص اعضاء عورہ ہیں۔
  • سینے سے ٹخنوں تک۔

سوال 2

مرد کی ناف بذاتِ خود عورہ (ستر) کا حصہ ہے جس کا نماز میں چھپانا فرض ہے۔

  • سچ
  • جھوٹ [82]

سوال 3

آزاد بالغ عورت کے درج ذیل اعضاء میں سے کون سا عضو نماز کے دوران عورہ (ستر) میں شامل نہیں ہے؟

  • کانوں کی لو سے نیچے لٹکتے ہوئے بال۔
  • اس کا چہرہ، دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں۔ [82]
  • اس کی گردن اور گلا۔
  • اس کے بازو اور کہنیاں۔

سوال 4

آزاد عورت کے وہ بال جو کانوں کی لو سے نیچے لٹکے ہوئے ہوں، ان کا نماز میں چھپانا فرض نہیں ہے۔

  • سچ
  • جھوٹ [82]

سوال 5

حنفی فقہ میں لونڈی (کنیز) کے لیے مرد کے عورہ کے مقابلے میں کن دو زائد اعضاء کا چھپانا فرض قرار دیا گیا ہے؟

  • اس کا سر اور بال۔
  • اس کی پیٹھ اور اس کا پیٹ۔ [82]
  • اس کی پنڈلیاں۔
  • اس کی گردن اور سینہ۔

سوال 6

درج ذیل نمازیوں کو ان کی مخصوص فقہی شرعی حدودِ عورہ (ستر) سے جوڑیں:

سوال 7

آزاد عورت کے درج ذیل اعضاء کو نماز کے دوران "چھپانا فرض ہے" اور "کھلا رکھنا جائز ہے" کے گروپوں میں الگ الگ کریں:

سوال 8

حنفی فقہ میں مرد کا گھٹنا عورہ (پوشیدہ حصے) سے خارج ہے، لہذا نماز میں اس کا کھلا رہنا جائز ہے۔

  • سچ
  • جھوٹ [82]

تعاملی کوئز کھولیں