نجاست کی معاف مقدار اور چھینٹوں کے احکام
نجاست کی معاف مقدار اور چھینٹوں کے احکام کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. نجاستِ غلیظہ کی معافی کی شرعی حد
اصل متن وَعُفِيَ قَدْرُ الدِّرْهَمِ مِنَ الْغَلِيظَةِ... • شرعی معافی: شریعت نے انسانی مشکلات اور مشقت کو دور کرنے کے لیے نجاست کے معمولی حصوں کو معاف رکھا ہے، یعنی اتنی گندگی کپڑوں پر لگی ہو تو نماز ہو جاتی ہے (اگرچہ اسے دھونا مسنون ہے)۔ • حدودِ غلیظہ: ◦ ٹھوس گندگی: جیسے پاخانہ۔ اس کا معاف شدہ وزن ایک درہم کے وزن کے برابر یا اس سے کم ہے (تقریباً 4.3 گرام)۔ ◦ مائع گندگی: جیسے خون، پیشاب یا شراب۔ اس کا معاف شدہ رقبہ ایک درہم کے سائز (رقبے) کے برابر یا اس سے کم ہے (تقریباً 3 سینٹی میٹر قطر / ہتھیلی کا گہرا حصہ)۔ • اگر نجاست اس مقدار سے تجاوز کر جائے تو اس کے ساتھ نماز پڑھنا باطل ہے۔
2. نجاستِ خفیفہ کی معافی کی شرعی حد
اصل متن وَمَا دُونَ رُبُعِ الثَّوْبِ أَوِ الْبَدَنِ مِنَ الْخَفِيفَةِ... • حدودِ خفیفہ: نجاستِ خفیفہ (جیسے حلال جانوروں کا پیشاب) کے معاملے میں معافی کی حد بہت زیادہ وسیع ہے: • قاعدہ: اگر ناپاکی جسم کے کسی عضو (جیسے ہاتھ یا پیر) یا کپڑے کے ایک چوتھائی (1/4 / ربع) سے کم حصے پر لگی ہو، تو وہ معاف ہے۔ • وضاحتی مثال: اگر کسی قمیض کی آستین پر بکری کا پیشاب لگ جائے، تو آستین کے کل رقبے کے چوتھائی سے کم ہونے کی صورت میں وہ قمیض پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے۔
3. پیشاب کے باریک قطروں (سوئی کی نوک جیسے) کی معافی
اصل متن وَعُفِيَ رَشَاشُ بَوْلٍ كَرُؤُوسِ الْإِبَرِ... • عموم بلویٰ کا اصول: پیشاب کرتے وقت اڑنے والے باریک قطرے جو سوئی کی نوک جیسے باریک ہوں: • شرعی حکم: یہ قطرے اگر کپڑے یا جسم پر لگ جائیں تو وہ مکمل طور پر معاف ہیں، خواہ ان کا پھیلاؤ زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ • سوئی کی نوکوں جیسے باریک پیشاب کے چھینٹے معاف ہیں۔
4. ناپاک مٹی اور فرش سے تری کی منتقلی کے قوانین
اصل متن وَلَوْ ابْتَلَّ فِرَاشٌ أَوْ تُرَابٌ بِنَجِسٍ... • تری منتقلی کا اصول: اگر کوئی شخص ناپاک گیلی مٹی یا ناپاک فرش پر سوئے یا پاک خشک کپڑا رکھے: • کپڑا کب ناپاک ہوگا؟: ◦ اگر مٹی کی نمی کپڑے میں اس طرح منتقل ہو جائے کہ نچوڑنے کی صورت میں پانی کا قطرہ نکل سکتا ہو، تو کپڑا ناپاک ہو جائے گا۔ ◦ اگر ناپاکی کے اثرات (رنگ یا بو) واضح طور پر کپڑے پر منتقل ہو جائیں، تو بھی کپڑا ناپاک ہوگا۔ • کپڑا کب پاک رہے گا؟: اگر کپڑا صرف ہلکا سا نم (تری محسوس ہو) ہو لیکن نچوڑنے سے قطرہ نہ نکلے اور نہ ہی رنگ یا بو ظاہر ہو، تو وہ پاک ہی رہے گا۔
5. ناپاک راستے کے غبار (مٹی) کی معافی کا ضابطہ
اصل متن وَعُفِيَ غُبَارُ الطَّرِيقِ وَلَوْ عَلِمَ نَجَاسَتَهُ... • مٹی کا غبار: اگر کوئی شخص ایسے راستے سے گزرے جہاں جانوروں کے فضلے کی وجہ سے مٹی ناپاک ہو، اور وہ سوکھی مٹی اڑ کر اس کے کپڑوں پر لگ جائے: • شرعی حکم: راستے کا اڑنے والا سوکھا غبار مکمل معاف ہے، خواہ اس کی ناپاکی کا یقین بھی ہو۔ • استثنیٰ: یہ معافی اس وقت تک ہے جب تک کہ کپڑے پر ناپاکی کے اپنے نشانات (رنگ یا بو) واضح طور پر ظاہر نہ ہو جائیں۔
مشق کے سوالات
سوال 1
کپڑے پر مائع نجاستِ غلیظہ (جیسے خون یا شراب) کے لگی ہونے کی صورت میں معافی کی شرعی حد کیا ہے؟
- ۱۰ گرام وزن تک۔
- ہتھیلی کی گہرائی) کے برابر یا اس سے کم۔
- کپڑے کے ایک چوتھائی رقبے تک۔
- کوئی معافی نہیں ہے؛ ایک ذرہ بھی نماز کو باطل کر دیتا ہے۔
سوال 2
جسم کے کسی عضو یا کپڑے پر نجاستِ خفیفہ (جیسے گائے یا بکری کا پیشاب) لگی ہونے کی صورت میں معافی کی حد کیا ہے؟
- ایک درہم کے سائز تک۔
- متاثرہ کپڑے یا عضو کے ایک چوتھائی (ربع) سے کم حصہ۔
- کپڑے کے آدھے رقبے تک۔
- صرف ۳ قطروں تک۔
سوال 3
پیشاب کے باریک قطرے جو سوئی کی نوک جیسے باریک ہوں، اگر کپڑے یا جسم پر لگ جائیں تو وہ مکمل طور پر معاف ہیں۔
سوال 4
درج ذیل نجاست کی صورتوں کو ان کے درست معافی کے شرعی ضابطوں سے جوڑیں:
سوال 5
اگر پاک اور خشک کپڑا ناپاک گیلی مٹی پر رکھا جائے، تو وہ کس صورت میں ناپاک شمار ہوگا؟
- مٹی کو محض چھونے سے، خواہ نمی منتقل ہو یا نہ ہو۔
- صرف اس وقت جب وہ اتنی تری کھینچ لے کہ کپڑے کو نچوڑنے سے قطرہ نکل سکے، یا ناپاکی کا رنگ/بو منتقل ہو جائے۔
- وہ ہر حال میں پاک رہے گا۔
- صرف رات کے وقت۔
سوال 6
اگر کسی ناپاک راستے کی سوکھی مٹی اڑ کر کپڑوں پر لگ جائے، تو وہ کپڑے فوراً ناپاک ہو جاتے ہیں اور ان میں نماز پڑھنا جائز نہیں رہتا۔
سوال 7
درج ذیل کیفیات کو "نماز کے لیے جائز (معاف)" اور "نماز کے لیے ناجائز (ناپاک)" کے خانوں میں الگ الگ کریں:
سوال 8
اگر نجاستِ خفیفہ (جیسے گھوڑے کا پیشاب) قمیض کی آستین کے ٹھیک پانچویں حصے پر لگ جائے، تو کیا اس قمیض میں نماز پڑھنا جائز ہے؟
- نہیں، کیونکہ گھوڑے کا پیشاب تھوڑا سا بھی ہو تو نماز نہیں ہوتی۔
- ہاں، کیونکہ وہ آستین کے ایک چوتھائی (ربع) کے معاف شدہ رقبے سے کم ہے۔
- صرف اس صورت میں جب اسے ایک بار دھو لیا جائے۔
- صرف خواتین کے لیے۔
تعاملی کوئز کھولیں