فرض اور واجب

فرض اور واجب کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. یہ فرق حنفی فقہ کے مطابق ہے

حنفی فقہ میں فرض اور واجب دو الگ اصطلاحی درجے ہیں۔ دوسرے فقہی مذاہب ان دونوں الفاظ کو ہمیشہ اسی طرح الگ استعمال نہیں کرتے۔

اس لیے فرض اور واجب کا یہ فرق حنفی اصطلاح کے دائرے میں ہے۔

2. دونوں لازم ہیں

حنفی فقہ میں فرض اور واجب دونوں لازم ہیں؛ واجب کو اختیاری نہیں سمجھا جاتا۔

دونوں میں فرق لازم اور اختیاری ہونے کا نہیں، بلکہ حکم کو ثابت کرنے والی دلیل کی قطعیت کا ہے۔

3. فرض: لازم حکم اور قطعی دلیل

حنفی اصطلاح میں فرض ایسا لازم حکم ہے جو قطعی دلیل سے ثابت ہو۔ قطعی دلیل سے مراد ایسی دلیل ہے جو حکم کے ثبوت میں یقین کا درجہ رکھتی ہو۔

مختصر یاد رکھیں: فرض = لازم حکم + قطعی دلیل۔

4. واجب: لازم، مگر دلیل کا درجہ مختلف

حنفی اصطلاح میں واجب بھی لازم حکم ہے، مگر اسے ثابت کرنے والی دلیل فرض کی قطعی دلیل کے درجے کی نہیں ہوتی۔ یہی دلیل کی قطعیت کا فرق فرض اور واجب کو الگ پہچان دیتا ہے۔

مختصر یاد رکھیں: واجب = لازم حکم، مگر اس کی دلیل فرض والی قطعی سطح پر نہیں۔

مشق کے سوالات

سوال 1

فرض اور واجب کا یہ فرق کس فقہی اصطلاح کے مطابق ہے؟

  • حنفی اصطلاح
  • ہر مذہب کی لازماً یکساں اصطلاح
  • غیر فقہی روزمرہ استعمال

سوال 2

حنفی فقہ میں فرض اور واجب دونوں لازم درجے ہیں۔

سوال 3

حنفی اصطلاح میں کون سا درجہ لازم حکم اور قطعی دلیل، دونوں سے پہچانا جاتا ہے؟

  • واجب
  • فرض
  • مستحب

سوال 4

حنفی اصطلاح میں کون سا درجہ لازم ہے، مگر اس کی دلیل فرض والی قطعی سطح پر نہیں؟

  • فرض
  • واجب
  • مستحب

سوال 5

ایک طالب علم کہتا ہے: «واجب فرض سے الگ ہے، اس لیے واجب اختیاری ہے۔» درست جواب کیا ہے؟

  • یہ غلط ہے؛ حنفی فقہ میں دونوں لازم ہیں، اور بنیادی فرق دلیل کی قطعیت کا ہے۔
  • یہ درست ہے؛ حنفی فقہ میں واجب صرف ایک پسندیدہ عمل ہے۔
  • فرض اور واجب میں کوئی حنفی اصطلاحی فرق نہیں۔

تعاملی کوئز کھولیں