موقت عبادات کی چار قسمیں: وقت اور عبادت کا تعلق
صرف سوالات کا جائزہ۔ جوابات اور اسکور صرف لاگ اِن شدہ تعلیمی کوشش میں دستیاب ہیں۔
- ایک عبادت اپنے مقرر وقت کے صرف کچھ حصے میں پوری ہوتی ہے۔ پڑھی ہوئی کون سی مثال اس تعلق کو واضح کرتی ہے؟
- ایک نماز اس کا مقرر وقت شروع ہونے سے پہلے پڑھی گئی۔ وقت کی کون سی حیثیت اس کے درست نہ ہونے کو سمجھاتی ہے؟
- نماز کے وقت کے اندر وفات کی مثال میں اس نماز کے چھوڑنے پر مواخذہ نہ ہونے کی کیا وجہ بتائی گئی ہے؟
- اگر نماز کا پورا وقت گزرنے کے بعد ہی وہ سبب بنتا، تو کیا مشکل پیدا ہوتی؟
- رمضان کے روزے کے وقت کو معیار کیوں کہا گیا ہے؟
- کسی نے روزے کی کوئی نیت نہیں کی اور صرف صبح سے شام تک بھوکا رہا۔ کیا رمضان کی مثال میں اسے روزہ شمار کیا گیا ہے؟
- ”مجھ پر اللہ کے لیے جمعے کا روزہ لازم ہے“ کی مثال میں روزہ کس سبب سے لازم ہوا؟
- منّت کے مقرر دن صبح صادق سے پہلے کوئی نیت نہیں تھی۔ پھر نصف نہار سے پہلے دوسرے واجب روزے کی نیت کی گئی۔ پڑھی ہوئی صورت میں کون سا روزہ شمار ہوگا؟
- منّت کے مقرر دن صبح صادق سے پہلے دوسرے واجب روزے کی نیت تھی۔ پڑھی ہوئی مثال میں کیا نتیجہ ہے؟
- حج کے وقت کو معیار اور ظرف دونوں کی طرح کیوں بتایا گیا ہے؟
- ایک شخص بعد میں ذمے کا حج کرتا ہے اور اسے ادا کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کی بلاعذر تاخیر کے بارے میں کیا سمجھیں گے؟
- حج کی عام نیت سے فرض حج ادا ہونے کے حکم کے ساتھ کون سی شرط ہے؟
- کسی پر حج فرض ہے، مگر وہ صاف طور پر نفلی حج کی نیت کرتا ہے۔ پڑھی ہوئی استثنائی صورت میں کیا ہوگا؟
- روزے کی نیت کے احکام ایک قسم سے دوسری قسم میں جوں کے توں کیوں نہیں لے جا سکتے؟