حالتِ احتضار (موت کے وقت) کے احکام اور تلقین

حالتِ احتضار (موت کے وقت) کے احکام اور تلقین کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. حالتِ احتضار (موت کے وقت) کے احکام اور تلقین

يُسَنُّ تَوْجِيهُ الْمُحْتَضَرِ لِلْقِبْلَةِ عَلَى يَمِينِهِ... وَيُلَقَّنُ بِذِكْرِ الشَّهَادَتَيْنِ... وَلَا يُؤْمَرُ بِهَا... وَيُكْرَهُ حُضُورُ حَائِضٍ وَنُفَسَاءَ عِنْدَ الْمَوْتِ • مستحب ہیئت: مرنے والے شخص کو قبلہ رخ لٹانا سنت ہے: ◦ مستحب طریقہ یہ ہے کہ اسے دائیں کروٹ پر قبلہ رخ لٹایا جائے۔ ◦ اگر جگہ تنگ ہو تو چت لٹا کر اس کے قدم قبلہ کی طرف کر دیے جائیں اور سر کو کچھ اونچا کر دیا جائے۔ • تلقین کا طریقہ: پاس بیٹھے لوگ کلمہ طیبہ یا شہادَتین بلند آواز سے پڑھیں تاکہ وہ سن کر خود پڑھ لے۔ ◦ سخت ممانعت: مرنے والے کو کلمہ پڑھنے کا حکم نہیں دیا جائے گا (تاکہ نزع کی سختی میں وہ انکار نہ کر بیٹھے)۔ • ناپاک حالت والوں کی ممانعت: بسترِ موت کے پاس حیض اور نفاس والی عورتوں کی موجودگی مکروہ ہے (تاکہ رحمت کے فرشتے وہاں آسکیں)۔

2. میت کے غسل کی ابتدائی تیاری اور وضو

إِذَا مَاتَ... وُضِعَ عَلَى سَرِيرٍ مُجَمَّرٍ وِتْرًا، وَيُسْتَرُ عَوْرَتُهُ، ثُمَّ يُوَضَّأُ بِلَا مَضْمَضَةٍ وَاسْتِنْشَاقٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ جُنُبًا أَوْ حَائِضًا أَوْ نُفَسَاءَ • تختے کی تیاری: میت کو غسل کے لیے ایسے تختے پر لیٹایا جائے جسے طاق عدد (مثلاً تین، پانچ یا سات بار) لوبان یا خوشبو کی دھونی دی گئی ہو۔ • ستر پوشی: میت کے ناف سے لے کر گھٹنوں تک کے حصے (ستر) کو موٹے پاک کپڑے سے ڈھانپنا فرض ہے۔ • میت کا وضو: غسل شروع کرنے سے پہلے میت کو وضو کروایا جائے گا۔ • وضو کا استثنیٰ: میت کے منہ اور ناک کے اندر پانی داخل نہیں کیا جائے گا (کلی اور استنشاق معاف ہے)۔ ◦ اہم استثنیٰ: اگر میت حالتِ جنابت، حیض یا نفاس میں فوت ہوئی ہو، تو اس کے منہ اور ناک میں گیلی روئی پھیر کر پانی پہنچانا واجب ہے تاکہ بڑی ناپاکی دور ہو سکے۔

3. غسل کا مسنون طریقہ اور تدفین سے پہلے کی خوشبو

وَيُغْسَلُ بِرَغْوَةِ السِّدْرِ أَوْ الصَّابُونِ... وَلَا يُسَرَّحُ شَعْرُهُ وَلَا لِحْيَتُهُ، وَلَا يُقَصُّ ظُفُرُهُ وَلَا شَارِبُهُ... وَيُجْعَلُ الْحَنُوطُ عَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ، وَالْكَافُورُ عَلَى مَسَاجِدِهِ • غسل کا مسنون پانی: میت کو بیری کے پتوں یا صابن سے ابالے گئے نیم گرم پانی سے غسل دیا جائے گا۔ • دھونے کی ترتیب: ◦ میت کو بائیں کروٹ لٹا کر دائیں طرف کا حصہ دھویا جائے گا۔ ◦ پھر دائیں کروٹ لٹا کر بایاں حصہ دھویا جائے گا۔ ◦ پھر سہارا دے کر بٹھایا جائے گا اور پیٹ کو نرمی سے دبایا جائے گا؛ اگر کچھ گندگی نکلے تو صرف اسے دھو دیا جائے گا، غسل یا وضو کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ • بالوں اور ناخنوں کا حکم: میت کے سر یا داڑھی کے بالوں میں کنگھی نہیں کی جائے گی، اور نہ ہی ان کے ناخن یا مونچھیں کاٹی جائیں گی۔ • خوشبو لگانا: غسل کے بعد جسم کو کپڑے سے سکھا کر داڑھی اور سر پر حنوط (مخصوص خوشبو) لگائی جائے گی، اور سجدے کے اعضاء (پیشانی، ناک، دونوں ہاتھ، گھٹنے اور پاؤں) پر کافور لگایا جائے گا۔

4. مرد کے کفن کی اقسام اور کپڑوں کی تعداد

كَفَنُ الرَّجُلِ سُنَّةً: قَمِيصٌ وَإِزَارٌ وَلِفَافَةٌ. وَكِفَايَةً: إِزَارٌ وَلِفَافَةٌ • سنت کفن: مرد کے لیے مسنون کفن تین کپڑوں پر مشتمل ہے: ◦ قمیص: گردن سے لے کر پاؤں تک کا بغیر آستین اور کلی کا چادر نما کرتا۔ ◦ ازار: سر سے لے کر پاؤں تک کی چادر۔ ◦ لفافہ: پاؤں سے اوپر اور سر سے اوپر تک لمبی سب سے بیرونی چادر (جسے دونوں طرف سے باندھا جا سکے)۔ • کفایت کفن: انتہائی ضرورت یا تنگی کے وقت مرد کے لیے دو کپڑے (صرف ازار اور لفافہ) بھی کافی ہیں۔

5. عورت کے کفن کی اقسام اور چادروں کی تعداد

وَكَفَنُ الْمَرْأَةِ سُنَّةً: قَمِيصٌ وَإِزَارٌ وَلِفَافَةٌ وَخِمَارٌ وَخِرْقَةٌ... وَكِفَايَةً: إِزَارٌ وَلِفَافَةٌ وَخِمَارٌ • سنت کفن: عورت کے لیے مسنون کفن پانچ کپڑوں پر مشتمل ہے: ◦ قمیص: کندھے سے پاؤں تک کا کرتا۔ ◦ ازار: سر سے پاؤں تک کی چادر۔ ◦ لفافہ: بیرونی بڑی چادر۔ ◦ خمار: سر اور بالوں کو ڈھانپنے کی اوڑھنی (دوپٹہ)۔ ◦ خرقہ: چھاتی (سینے) سے لے کر ران تک باندھنے کا مضبوط پٹکا۔ • کفایت کفن: مجبوری کی حالت میں عورت کے لیے تین کپڑے (ازار، لفافہ اور خمار) بھی کافی ہیں۔

مشق کے سوالات

سوال 1

مرد میت کے لیے سنتِ مسنونہ کفن کتنے کپڑوں پر مشتمل ہوتا ہے؟

  • ٹھیک دو کپڑے۔
  • ٹھیک تین کپڑے (قمیص، ازار اور لفافہ)۔ [185]
  • پانچ چادریں۔
  • صرف ایک کمبل۔

سوال 2

نزع کے وقت (موت کے بالکل آخری لمحے) بستر کے پاس ایسی عورت کا موجود ہونا مکروہ ہے جو حیض یا نفاس کی حالت میں ہو۔

  • سچ [181]
  • جھوٹ

سوال 3

میت کو غسل دیتے وقت وضو کروانے کا شرعی حکم کیا ہے؟

  • کلی اور ناک میں پانی ڈالنے سمیت مکمل وضو کروایا جائے گا۔
  • وضو کروایا جائے گا، لیکن منہ اور ناک کے اندر پانی داخل نہیں کیا جائے گا (بشرطیکہ وہ جنابت یا حیض کی حالت میں فوت نہ ہوا ہو)۔ [182]
  • میت کے لیے وضو کروانا سرے سے جائز نہیں ہے۔
  • صرف پاؤں دھونا کافی ہے۔

سوال 4

غسل مکمل ہونے کے بعد اگر میت کے پیٹ سے کسی قسم کی ناپاکی خارج ہو جائے، تو نئے سرے سے پورا غسل اور وضو دہرانا فرض ہے۔

  • سچ
  • جھوٹ [183]

سوال 5

عورت میت کے لیے سنتِ مسنونہ کفن کتنے کپڑوں پر مشتمل ہوتا ہے؟

  • تین چادریں۔
  • ٹھیک پانچ کپڑے (قمیص، ازار، لفافہ، خمار اور خرقہ)۔ [185]
  • سات چادریں۔
  • صرف ایک بڑی بیرونی چادر۔

سوال 6

غسل کے بعد میت کے سر اور داڑھی میں کنگھی کرنا اور ناخن کاٹنا مستحب عمل ہے۔

  • سچ
  • جھوٹ [182]

سوال 7

مختلف اموات کے کفن کی اقسام کو ان کے درست حنفی چادروں کی تعداد سے جوڑیں:

سوال 8

کفن پہناتے وقت میت کے جسم کے کس حصے پر کافور لگانا مسنون ہے؟

  • صرف چھاتی پر۔
  • سجدے کے مخصوص اعضاء پر (پیشانی، ناک، پوروں، گھٹنوں اور پاؤں پر)۔ [183]
  • صرف سر اور داڑھی کے بالوں پر۔
  • حنفی فقہ میں کافور کا استعمال جائز نہیں ہے۔

تعاملی کوئز کھولیں