نمازِ جنازہ کے چھ لازمی شرائط
نمازِ جنازہ کے چھ لازمی شرائط کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. نمازِ جنازہ کے چھ لازمی شرائط
شَرَائِطُهَا سِتَّةٌ: إِسْلَامُ الْمَيِّتِ، وَطَهَارَتُهُ، وَتَقْدِمُهُ، وَحُضُورُهُ أَوْ حُضُورُ أَكْثَرِ بَدَنِهِ... وَكَوْنُ الْمَيِّتِ عَلَى الْأَرْضِ • نمازِ جنازہ کی صحت کے لیے چھ شرائط ہیں: ◦ میت کا مسلمان ہونا: غیر مسلم کے لیے جنازہ جائز نہیں۔ ◦ میت کی طہارت: میت کے جسم، کفن اور جگہ کا پاک ہونا۔ ◦ میت کا آگے ہونا: جنازہ امام کے سامنے رکھا جائے۔ ◦ میت کا موجود ہونا: میت کا جسم وہاں موجود ہو (غائبانہ جنازہ حنفی فقہ میں جائز نہیں)۔ ◦ میت کا زمین پر رکھا ہونا: میت کو زمین پر یا اس سے متصل تختے پر رکھا گیا ہو (کسی گاڑی یا اونچی سواری پر رکھے بغیر)۔ ◦ اکثر جسم کا موجود ہونا: میت کے جسم کا اکثر حصہ یا کم از کم سر کے ساتھ نصف حصہ موجود ہو۔
2. نمازِ جنازہ کے ارکان اور بنیادی ڈھانچہ
أَرْكَانُهَا: التَّكْبِيرَاتُ، وَالْقِيَامُ. وَهِيَ أَرْبَعُ تَكْبِيرَاتٍ... • ارکانِ جنازہ: اس نماز کے صرف دو ارکان (فرائض) ہیں: ◦ چار تکبیریں: ہر تکبیر ایک رکعت کے قائم مقام ہے۔ ◦ قیام: بغیر کسی عذر کے کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا فرض ہے۔ • سجدہ و رکوع کی نفی: اس نماز میں نہ تو رکوع ہے، نہ سجدہ ہے اور نہ ہی قاعدہ (تشہد کی بیٹھک) ہے۔ • امام کا کھڑے ہونا: امام کو میت کے سینے کے بالکل برابر سامنے کھڑا ہونا چاہیے۔
3. نمازِ جنازہ کی ادائیگی کا تفصیلی طریقہ
التَّكْبِيرَةُ الْأُولَى يَفْتَتِحُ بِهَا وَيَحْمَدُ اللهَ... ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ ﷺ... ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَدْعُو لِلْمَيِّتِ... ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيُسَلِّمُ • پہلی تکبیر: تکبیرِ تحریمہ کہتے ہوئے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے، پھر ہاتھ باندھ کر ثناء پڑھے۔ • دوسری تکبیر: ہاتھ اٹھائے بغیر دوسری تکبیر کہے اور درودِ ابراہیم پڑھے۔ • تیسری تکبیر: ہاتھ اٹھائے بغیر تیسری تکبیر کہے اور میت کے لیے دعائے جنازہ پڑھے (اگر بچہ ہو تو اس کی مخصوص دعا پڑھے)۔ • چوتھی تکبیر: ہاتھ اٹھائے بغیر چوتھی تکبیر کہے اور دائیں اور بائیں طرف سلام پھیر دے۔ • توجہ: پہلی تکبیر کے علاوہ کسی تکبیر میں ہاتھ اٹھانا مسنون نہیں ہے۔
4. امامت کے حقدار اور جنازہ اٹھانے کی سنتیں
السُّلْطَانُ أَحَقُّ بِصَلَاتِهِ... ثُمَّ الْقَاضِي... ثُمَّ إِمَامُ الْحَيِّ... وَيُسَنُّ حَمْلُ الْجَنَازَةِ أَرْبَعِينَ خُطْوَةً... وَالْمَشْيُ بِهَا سَرِيعًا دُونَ الْخَبَبِ • امامت کے حقداروں کی ترتیب: جنازہ پڑھانے کا سب سے پہلا حقدار ملک کا سلطان (حکمرانِ وقت) ہے، پھر قاضی (جج)، پھر اس محلے کا مستقل امام، اور پھر میت کا سرپرستِ اعلیٰ ہے۔ • جنازہ اٹھانے کا طریقہ: جنازے کے تختے کو چاروں کونوں سے باری باری اٹھانا سنت ہے۔ • چالیس قدم کا اصول: ہر کونے کو باری باری دس دس قدم دینا مسنون ہے، جس سے مجموعی طور پر چالیس قدم پورے ہو جاتے ہیں۔ • چلنے کی رفتار: جنازہ لے کر تیز تیز چلنا سنت ہے لیکن اس طرح نہ دوڑا جائے کہ میت کو جھٹکے لگیں۔ مقتدیوں کو جنازے کے پیچھے یا دائیں بائیں قریب چلنا چاہیے۔
5. تدفین اور قبر کا شرعی نقشہ
وَيُلْحَدُ وَلَا يُشَقُّ... وَيُوجَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ... وَيُكْرَهُ لِلْإِحْكَامِ بَعْدَ الدَّفْنِ • قبر کی کھدائی: قبر آدھے قد یا کم از کم سینے کے برابر گہری کھودنا مسنون ہے۔ • بغل قبر: سخت مٹی میں بغلی قبر (قبر کے نیچے قبلہ کی سمت میں دیوار تراش کر غار نما جگہ بنانا) بنانا مسنون ہے، سیدھی کھائی کی طرح کھودنا مسنون نہیں ہے۔ • میت کو اتارنا: میت کو قبلہ کی سمت سے قبر میں اتارا جائے اور رکھتے وقت پڑھا جائے: "بِسْمِ اللهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ"۔ • میت کی ہیئت: میت کو دائیں کروٹ پر قبلہ رخ لٹایا جائے اور کفن کی گرہیں کھول دی جائیں۔ • قبر کو بند کرنا: بغلی غار کو کچی اینٹوں سے بند کیا جائے؛ پکی اینٹیں یا لکڑی استعمال کرنا مکروہ ہے (تھوڑے سے عذر کے علاوہ)۔ • مٹی ڈالنا: قبر پر مٹی ڈال کر اسے اونٹ کے کوہان کی طرح مائل مٹیالا اونچا کیا جائے، چوکور بنانا مکروہ ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
درج ذیل میں سے کون سی حالت نمازِ جنازہ کی صحت کے لیے ایک لازمی شرط ہے؟
- سورہ فاتحہ کے بعد ایک مکمل سورت پڑھنا۔
- میت کا جسم وہاں موجود ہو اور اسے امام کے سامنے رکھا گیا ہو۔ [186]
- ہر رکعت میں تین سجدے کرنا۔
- غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھنا اصل اور پسندیدہ طریقہ ہے۔
سوال 2
نمازِ جنازہ میں کل چار تکبیریں ہوتی ہیں، جو کہ نماز کے فرائض (ارکان) میں شمار ہوتی ہیں۔
سوال 3
نمازِ جنازہ کے دوران کس تکبیر پر مقتدیوں کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھانا شرعاً مسنون ہے؟
- چاروں تکبیروں پر۔
- صرف پہلی ابتدائی تکبیر (تکبیرِ تحریمہ) پر۔ [187]
- صرف چوتھی آخری تکبیر پر۔
- کسی بھی تکبیر پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں ہے۔
سوال 4
نمازِ جنازہ کی دوسری تکبیر کہنے کے بعد بغیر ہاتھ اٹھائے نبی کریم ﷺ پر درود شریف (درودِ ابراہیم) پڑھنا سنت ہے۔
سوال 5
میت کی نمازِ جنازہ پڑھانے کا شرعی طور پر سب سے پہلا حقدار کون ہے؟
- میت کا سب سے بڑا بیٹا۔
- ملک کا سلطان (حکمران)، پھر قاضی (جج)، پھر محلے کا مستقل امام۔ [188]
- میت کا سب سے قریبی رشتہ دار جو مسافر ہو۔
- قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب ہونے والا کوئی بھی شخص۔
سوال 6
جنازہ اٹھانے کی مسنون سنت یہ ہے کہ چاروں کونوں کو باری باری ٹھیک دس دس قدم اٹھایا جائے، جس سے مجموعی طور پر چالیس قدم پورے ہو جائیں۔
سوال 7
نمازِ جنازہ کی ترتیب وار تکبیروں کو ان کی درست زبانی قراءت اور اعمال سے جوڑیں:
سوال 8
مضبوط مٹی میں میت کو دفن کرنے کا شرعی اور مستحب طریقہ کیا ہے؟
- سیدھی کھائی کھود کر اوپر لوہے یا کنکریٹ کے سلیب رکھنا۔
- سینے کے برابر گہری قبر کھود کر اس کے نیچے قبلہ کی سمت میں دیوار تراش کر غار نما بغلی قبر (لحد) تیار کرنا۔ [191, 192]
- لوہے کے مضبوط بکس میں بند کر کے دفن کرنا۔
- قبر کی سطح کو بالکل چوکور اور سپاٹ رکھنا۔
تعاملی کوئز کھولیں