فقہ کے بنیادی مآخذ

فقہ کے بنیادی مآخذ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. فقہ کے چار بنیادی ماخذ

فقہ کے چار بنیادی ماخذ قرآن، سنت، اجماع اور قیاس ہیں۔ ہر ماخذ کا اپنا خاص کردار ہے۔

ماخذ بتاتا ہے کہ فقہی علم کن معتبر بنیادوں سے وابستہ ہے؛ فرض، واجب اور دوسرے الفاظ حکم کے درجے بتاتے ہیں۔

2. قرآن

قرآن اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اسلامی احکام کا بنیادی ماخذ ہے۔ فقہی علم قرآن سے وابستہ شرعی رہنمائی کو معتبر علمی طریقے سے سمجھتا ہے۔

قرآن کو فقہ کا ماخذ ماننے کا مطلب یہ نہیں کہ صرف ترجمہ دیکھ کر ہر شخص خود نیا حکم نکال سکتا ہے۔

3. سنت

ماخذ کے سیاق میں سنت سے مراد رسول اللہ ﷺ سے منقول رہنمائی ہے، اور یہ فقہ کے بنیادی مآخذ میں شامل ہے۔

جملہ ”یہ عمل سنت ہے“ حکم کے درجے کی بات کرتا ہے، جبکہ ”قرآن و سنت ماخذ ہیں“ میں سنت ماخذ کے معنی میں ہے۔

4. اجماع

رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد کسی زمانے میں امت کے اہلِ اجتہاد کا کسی شرعی حکم پر اتفاق اجماع کہلاتا ہے۔

ہر گروہ یا مجلس کا اتفاق اجماع نہیں؛ اس اصطلاح میں ایک زمانے کے اہلِ اجتہاد اور شرعی حکم دونوں اہم ہیں۔

5. قیاس

قیاس فقہ میں شرعی حکم سمجھنے کا ایک معتبر اصولی طریقہ ہے جسے اہل اور تربیت یافتہ مجتہد استعمال کرتے ہیں۔ یہ محض دو چیزوں میں ظاہری مشابہت دیکھ کر ذاتی اندازہ لگانے کا نام نہیں۔

قیاس کے ذریعے حکم سمجھنے کا علمی کام اہلیت اور تربیت مانگتا ہے؛ صرف اس کا نام جان لینا یہ اہلیت پیدا نہیں کرتا۔

مشق کے سوالات

سوال 1

کون سا مجموعہ فقہ کے چار بنیادی ماخذ کے نام پیش کرتا ہے؟

  • قرآن، سنت، اجماع، قیاس
  • فرض، واجب، مباح، حرام
  • فقیہ، مجتہد، مسئلہ، فتویٰ

سوال 2

ہر اصطلاح کو اس کے درست تعارفی کردار سے ملائیں۔

سوال 3

”یہ عمل سنت ہے“ میں سنت حکم کا درجہ ہے، جبکہ ”سنت فقہ کا ماخذ ہے“ میں یہی لفظ ماخذ کے سیاق میں ہے۔

سوال 4

قیاس کے بارے میں کون سا جملہ درست ہے؟

  • ہر شخص ظاہری مشابہت دیکھ کر قیاس کر سکتا ہے
  • یہ شرعی حکم سمجھنے کا معتبر اصولی طریقہ ہے جسے اہل اور تربیت یافتہ مجتہد استعمال کرتا ہے
  • یہ ذاتی پسند کے مطابق جواب چننے کا نام ہے

سوال 5

کسی کلاس کے چند طلبہ ایک بات پر متفق ہو جائیں۔ کیا یہ خود بخود اجماع ہے؟

  • ہاں؛ ہر گروہ کا اتفاق اجماع ہے۔
  • نہیں؛ اجماع رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد کسی زمانے میں امت کے اہلِ اجتہاد کا کسی شرعی حکم پر اتفاق ہے۔
  • ہاں؛ اگر طلبہ کی تعداد چار ہو۔

تعاملی کوئز کھولیں