استنجا: حکم، ذرائع اور طریقہ
استنجا: حکم، ذرائع اور طریقہ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. استنجا کا بنیادی شرعی حکم
اصل متن وَالِاسْتِنْجَاءُ سُنَّةٌ مِنْ نَجَسٍ يَخْرُجُ مِنَ السَّبِيلَيْنِ مَا لَمْ يَتَجَاوَزِ الْمَخْرَجَ • لغوی معنی: استنجا کے معنی نجاست یا نقصان دہ چیز کو دور کرنے کے ہیں۔ • بنیادی شرعی درجہ: سبیلین (پیشاب اور پاخانے کے راستوں) سے نکلنے والی ہر نجاست کو دور کرنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ • شرط: یہ سنت کا حکم اس وقت تک ہے جب تک خارج ہونے والی ناپاکی اپنے مخرج (نکلنے کی جگہ) کے ارد گرد نہ پھیلی ہو۔
2. درہم کی شرعی حد اور پانی کا فرض ہونا
اصل متن وَإِنْ تَجَاوَزَ وَكَانَ قَدْرَ الدِّرْهَمِ وَجَبَ إِزَالَتُهُ بِالْمَاءِ، وَإِنْ زَادَ عَلَى الدِّرْهَمِ افْتُرِضَ غَسْلُهُ • مسائل کا نقشہ: اگر نجاست مخرج سے نکل کر ارد گرد کے حصے پر پھیل جائے: ◦ درہم کے برابر: اگر ناپاکی پھیلنے کا مجموعی رقبہ درہم کے برابر ہو، تو پانی سے اس کا دھونا واجب ہے۔ ◦ درہم سے زیادہ: اگر ناپاکی درہم کے سائز سے زیادہ پھیل جائے، تو پانی سے اس کا دھونا فرض ہے۔ • اہم قاعدہ: درہم سے زیادہ ناپاکی کی صورت میں مٹی، پتھر یا ٹوائلٹ پیپر سے پونچھنا کافی نہیں ہے؛ پانی کا استعمال فرض ہے، ورنہ نماز باطل رہے گی۔
3. استنجا کے لیے جائز اشیاء کا استعمال
اصل متن وَأَنْ يَسْتَنْجِيَ بِحَجَرٍ مُنْقٍ وَنَحْوِهِ، وَيَجُوزُ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى الْمَاءِ أَوْ الْحَجَرِ، وَالسُّنَّةُ الْإِنْقَاءُ • جائز اشیاء: طہارت کے ابتدائی مرحلے میں ناپاکی کو جذب کرنے کے لیے پاک اور کھردرے پتھر یا مٹی کے ڈھیلے استعمال کرنا سنت ہے۔ • پتھروں کی تعداد: ◦ طہارت کے لیے طاق عدد یعنی تین پتھر استعمال کرنا مستحب ہے۔ ◦ قاعدہ: اصل معیار نجاست کا مکمل صاف ہونا ہے۔ اگر ایک ہی پتھر سے نجاست مکمل صاف ہو جائے تو شرعاً جائز ہے، لیکن سنت کی تعمیل کے لیے تین پتھر پورے کرنا مستحب ہے۔
4. مردوں کے لیے مٹی یا پتھر سے استنجا کا طریقہ
اصل متن وَكَيْفِيَّةُ الِاسْتِنْجَاءِ: أَنْ يَمْسَحَ بِالْحَجَرِ الْأَوَّلِ مِنْ جِهَةِ الْمُقَدَّمِ إِلَى خَلْفٍ، وَبِالثَّانِي مِنْ خَلْفٍ إِلَى قُدَّامٍ، وَبِالثَّالِثِ مِنْ قُدَّامٍ إِلَى خَلْفٍ • مردوں کا طریقہ: مرد کے لیے خصیوں اور کپڑوں کو گندگی سے بچانے کے لیے پتھر پھیرنے کا مخصوص شرعی طریقہ ہے: ◦ پہلا پتھر: اگلے حصے سے پیچھے کی طرف لے جائے۔ ◦ دوسرا پتھر: پیچھے سے آگے کی طرف لائے۔ ◦ تیسرا پتھر: دوبارہ آگے سے پیچھے کی طرف لے جائے۔ • شرط: یہ طریقہ اس وقت ہے جب خصیہ لٹکا ہوا ہو، اور اگر لٹکا ہوا نہ ہو تو پیچھے سے آگے کی طرف شروع کرے گا۔
5. عورتوں کے لیے مٹی یا پتھر سے استنجا کا طریقہ
اصل متن وَالْمَرْأَةُ تَبْتَدِئُ مِنْ قُدَّامٍ إِلَى خَلْفٍ خَشْيَةَ تَلْوِيثِ فَرْجِهَا • عورتوں کا طریقہ: عورت کے لیے استنجا کا طریقہ مردوں سے مختلف اور ان کی جسمانی ساخت کے لحاظ سے انتہائی محفوظ ہے: • حکم: عورت ہمیشہ آگے سے پیچھے کی طرف مٹی یا پتھر کا استعمال کرے گی۔ • عورت آگے سے پیچھے کی طرف شروع کرے تاکہ فرج آلودہ نہ ہو۔
6. پانی سے استنجا کرتے وقت ہاتھ اور انگلیوں کا استعمال
اصل متن ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَهُ أَوَّلًا بِالْمَاءِ، ثُمَّ يَدْلُكُ الْمَحَلَّ بِالْمَاءِ بِبَاطِنِ إِصْبَعٍ أَوْ إِصْبَعَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ • عمل کا طریقہ: پانی سے استنجا کرتے وقت درج ذیل ترتیب مسنون ہے: ◦ ہاتھ دھونا: سب سے پہلے اپنے ہاتھ کو پانی سے اچھی طرح دھو لے۔ ◦ انگلیوں کا استعمال: پھر نجاست کے مقام پر پانی بہاتے ہوئے انگلیوں کے پوروں (اندرونی حصے) سے رگڑے۔ ◦ تعداد: صرف ایک انگلی پر اکتفا نہ کرے، بلکہ ضرورت کے لحاظ سے ایک، دو یا تین انگلیاں استعمال کرے۔ پہلے بیچ کی انگلی (وسطی)، پھر نصر (انگوٹھے کے ساتھ والی) استعمال کرے۔ • صفائی میں اس حد تک مبالغہ (کوشش) کرے کہ بدبو مکمل ختم ہو جائے۔
7. استنجا میں انگلیوں کے استعمال میں مرد اور عورت کا فرق
اصل متن وَيُصْعِدُ الرَّجُلُ إِصْبَعَهُ الْوُسْطَى فِي ابْتِدَاءِ الِاسْتِنْجَاءِ... وَالْمَرْأَةُ تُصْعِدُ بِنَصْرِهَا وَأَوْسَطِ أَصَابِعِهَا مَعًا ابْتِدَاءً؛ خَشْيَةَ حُصُولِ اللَّذَّةِ • مرد کا طریقہ: مرد استنجا کی ابتدا میں پہلے اپنی درمیانی انگلی کو اوپر اٹھائے، پھر اس کے ساتھ انگوٹھے کے قریب والی انگلی کو ملائے۔ • عورت کا طریقہ: عورت ابتدا ہی سے اپنی دونوں انگلیاں (درمیانی اور انگوٹھے کے قریب والی) ایک ساتھ ملا کر اوپر اٹھائے گی۔ • علت: تاکہ تنہائی میں استنجا کے دوران شرمگاہ کو چھونے سے کسی قسم کی جنسی لذت یا شہوت پیدا ہونے کا اندیشہ نہ رہے۔
8. روزہ دار اور غیر روزہ دار کے لیے استنجا کی احتیاطیں
اصل متن وَفِي إِرْخَاءِ الْمَقْعَدَةِ إِنْ لَمْ يَكُنْ صَائِمًا... وَنَشْفِ مَقْعَدَتِهِ قَبْلَ الْقِيَامِ إِنْ كَانَ صَائِمًا • مقعد کو ڈھیلا چھوڑنا: غیر روزہ دار کے لیے مستحب ہے کہ وہ استنجا کے دوران مقعد (کولہے) کو ڈھیلا چھوڑے تاکہ باہر کی جھریاں اچھی طرح صاف ہو جائیں۔ • روزہ دار کے لیے سخت احتیاطیں: • غیر روزہ دار استنجا میں مقعد کو ڈھیلا چھوڑے، اور روزہ دار کھڑے ہونے سے پہلے مقعد کو خشک کرے۔ کتاب یہاں اس احتیاط کی جسمانی یا طبی علت بیان نہیں کرتی۔
مشق کے سوالات
سوال 1
مخرج (نکلنے کی جگہ) سے نہ پھیلنے والی ناپاکی سے استنجا کرنے کا بنیادی شرعی حکم کیا ہے؟
سوال 2
اگر ناپاکی مخرج سے نکل کر ایک درہم کے سائز سے زیادہ رقبے پر پھیل جائے، تب بھی خشک پتھر یا ٹوائلٹ پیپر سے پونچھنا شرعاً کافی اور جائز ہے۔
سوال 3
اگر نجاست مخرج سے نکل کر درہم کے سائز سے زیادہ پھیل جائے تو طہارت کا کیا طریقہ ہے؟
- ٹھیک پانچ پتھروں سے پونچھنا۔
- پانی سے اس جگہ کا دھونا فرض ہو جاتا ہے۔
- صاف مٹی سے تیمم کرنا۔
- کسی طہارت کی ضرورت نہیں، نماز ہو جائے گی۔
سوال 4
عورتوں کو پتھر یا مٹی سے استنجا کرتے وقت کس سمت میں صفائی شروع کرنی چاہیے؟
- پیچھے سے آگے کی طرف۔
- آگے سے پیچھے کی طرف، تاکہ پاخانے کی گندگی شرمگاہ کی طرف نہ آئے۔
- گول دائروں کی شکل میں۔
- فقہ میں کوئی سمت متعین نہیں ہے۔
سوال 5
مردوں کے لیے استنجا کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلا پتھر آگے سے پیچھے، دوسرا پیچھے سے آگے، اور تیسرا آگے سے پیچھے پھیرے، بشرطیکہ خصیہ لٹکا ہوا ہو۔
سوال 6
عورت استنجا کے دوران شرمگاہ کو چھونے سے جنسی لذت یا شہوت سے بچنے کے لیے انگلیوں کا استعمال کیسے کرے گی؟
- وہ صرف کلمے والی انگلی استعمال کرے گی۔
- وہ ابتدا ہی سے اپنی دونوں انگلیاں (درمیانی اور انگوٹھے کے قریب والی) ایک ساتھ ملا کر استعمال کرے گی۔
- وہ انگلیوں کے بجائے اسپنج استعمال کرے گی۔
- وہ انگوٹھا استعمال کرے گی۔
سوال 7
روزہ دار کے لیے بھی مستحب ہے کہ وہ پانی پھیرتے وقت مقعد کو خوب ڈھیلا چھوڑے اور کھڑے ہونے سے پہلے مقعد کو خشک نہ کرے۔
سوال 8
درج ذیل حالات کو استنجا میں صفائی کے درست اور مسنون طریقوں سے جوڑیں:
تعاملی کوئز کھولیں