جانوروں کے جھوٹے کے احکام

جانوروں کے جھوٹے کے احکام کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. جھوٹے پانی (سؤر) کا باب: تعریف اور احکام

• سؤر کی لغوی تحقیق: لفظ 'سؤر' (عین پر حمزہ کے ساتھ) کا مطلب جانور کا پینے کے بعد برتن میں بچا ہوا پانی ہے۔ حاشیے کے مطابق 'سور' (بغیر حمزہ کے) شہر کی فصیل (چاردیواری) کو کہتے ہیں جس کی جمع 'اسوار' ہے، جبکہ جھوٹے پانی (سؤر) کی جمع 'آسار' ہے۔ • اہم شرط: جھوٹا پانی اصطلاحاً صرف اسی صورت میں کہلاتا ہے جب پانی مقدار میں قلیل (تھوڑا) ہو۔ نہر یا بہتے دریا سے کسی جانور کے پینے کے بعد بچے ہوئے پانی کو شرعاً 'سؤر' نہیں کہا جاتا۔ • حنفی فقہ میں قلیل برتن کے پانی کو پی لینے کے بعد جانور کے لعابِ دہن کی آمیزش کے لحاظ سے جھوٹے پانی کو چار بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

2. پہلی قسم: پاک اور پاک کرنے والا جھوٹا پانی

اصل متن فَالْأَوَّلُ: طَاهِرٌ مُطَهِّرٌ، وَهُوَ سُؤْرُ آدَمِيٍّ... أَوْ فَرَسٍ أَوْ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ • تعریف اور حکم: یہ وہ بچا ہوا پانی ہے جو اپنی اصل پاکیزگی پر برقرار رہتا ہے اور اس سے وضو اور غسل کرنا بلا کراہت کامل طور پر جائز ہے۔ • شامل مائعات: ◦ آدمی کا جھوٹا: تمام انسانوں کا جھوٹا پانی بالاتفاق پاک ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، بچہ ہو یا بڑا، حالتِ جنابت (بڑی ناپاکی) میں ہو یا حیض و نفاس کی حالت میں۔ ◦ حلال جانوروں کا جھوٹا: ہر وہ جانور جس کا گوشت کھانا حلال ہے (جیسے بھیڑ، بکری، گائے، اونٹ وغیرہ)۔ ◦ گھوڑے کا جھوٹا: گھوڑا اگرچہ اس کا گوشت کھانے میں اختلاف ہے، لیکن اس کا جھوٹا پانی پاک اور پاک کرنے والا مانا گیا ہے۔

3. دوسری قسم: ناپاک جھوٹا پانی (جس کا استعمال جائز نہیں)

اصل متن وَالثَّانِي: نَجِسٌ لَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهُ، وَهُوَ مَا شَرِبَ مِنْهُ الْكَلْبُ، أَوِ الْخِنْزِيرُ، أَوْ سِبَاعُ الْبَهَائِمِ • تعریف اور حکم: یہ پانی نجس (ناپاک) ہے اور شرعی طہارت (وضو یا غسل) کے لیے اس کا استعمال کرنا بالکل ناجائز اور ممنوع ہے۔ • شامل جانور: ◦ خنزیر کا جھوٹا: چونکہ خنزیر نجس العین (ذاتی طور پر سراپا ناپاک) ہے، اس لیے اس کا جھوٹا پانی بالاتفاق ناپاک ہے۔ ◦ کتے کا جھوٹا: کتے کے لعابِ دہن کے ناپاک ہونے کی وجہ سے اس کا جھوٹا پانی نجس ہے۔ ◦ دنداندار وحشی چوپائے (درندے): جیسے شیر، بھیڑیا، چیتے، تیندوے وغیرہ۔ ان کا جھوٹا پانی ناپاک مانا گیا ہے۔ • کتے، خنزیر اور درندے کا جھوٹا نجس ہے اور اس کا استعمال جائز نہیں۔

4. تیسری قسم: مکروہ جھوٹا پانی (دوسرے پانی کی موجودگی میں)

اصل متن وَالثَّالِثُ: مَكْرُوهٌ اسْتِعْمَالُهُ مَعَ وُجُودِ غَيْرِهِ، وَهُوَ سُؤْرُ الْهِرَّةِ، وَالدَّجَاجَةِ الْمُخَلَّاةِ، وَسِبَاعِ الطَّيْرِ، وَسَوَاكِنِ الْبُيُوتِ كَالْفَأْرَةِ لَا الْعَقْرَبِ • حکم: یہ پانی بذاتِ خود پاک ہے لیکن دوسرے صاف پانی کی موجودگی میں اس کا استعمال کرنا مکروہِ تنزیہی (ناپسندیدہ) ہے۔ اگر کوئی اور پانی دستیاب نہ ہو، تو اس سے بلا کراہت وضو جائز ہے اور تیمم کی ضرورت نہیں رہتی۔ • شامل جانور: ◦ شکاری پرندے: جیسے چیل، باز، شکرا، شاہین وغیرہ۔ ◦ گھروں میں رہنے والے رینگنے والے جاندار: جیسے چوہا، سانپ وغیرہ۔ • دوسرے پانی کی موجودگی میں مذکورہ جھوٹوں کا استعمال مکروہ ہے، اور بچھو اس فہرست سے مستثنیٰ ہے۔

5. چوتھی قسم: مشکوک جھوٹا پانی

اصل متن وَالرَّابِعُ: مَشْكُوكٌ فِي طَهُورِيَّتِهِ، وَهُوَ سُؤْرُ الْبَغْلِ وَالْحِمَارِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ غَيْرَهُ تَوَضَّأَ بِهِ وَتَيَمَّمَ، ثُمَّ صَلَّى • حکم اور وضاحت: وہ پانی جس کے پاک کرنے کی صلاحیت میں شرعی دلائل کے تعارض کی وجہ سے شک پایا جائے، اسے 'ماءِ مشکوک' کہتے ہیں۔ • مثال: پالتو گدھے اور خچر کا جھوٹا پانی۔ • طہارت کا طریقہ: اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا پانی موجود نہ ہو، تو انسان پر لازم ہے کہ وہ: ◦ اس مشکوک پانی سے وضو کرے۔ ◦ اس کے بعد پاک مٹی سے تیمم کرے۔ • ترتیب کا مسئلہ: وضو پہلے کیا جائے یا تیمم، دونوں طرح جائز ہے، لیکن دونوں کو جمع کرنا فرض ہے تاکہ نماز کی صحت یقینی ہو سکے۔

6. خچر کا شرعی حکم اور ماں کا نسبی اعتبار

• باریک شرعی ضابطہ: خچر کا جھوٹا پانی صرف اسی صورت میں مشکوک مانا جائے گا جب اس کی ماں پالتو گدھی ہو، نہ کہ گھوڑی۔ • قاعدہ: حنفی فقہ کا مسلمہ اصول ہے کہ پالتو اور جنگلی جانوروں کے اختلاط سے پیدا ہونے والے بچے کے احکام متعین کرنے میں ماں کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ • اگر خچر کی ماں گھوڑی ہو، تو اس کا جھوٹا پانی گھوڑے کے جھوٹے کی طرح پاک اور پاک کرنے والا شمار ہوگا۔

مشق کے سوالات

سوال 1

جھوٹے پانی کو عربی میں 'سؤر' (عین پر حمزہ کے ساتھ) کیوں کہا جاتا ہے اور 'سور' کیوں نہیں؟

  • کیونکہ سور کا مطلب بند کنواں ہے جبکہ سؤر کا مطلب نہر کا پانی ہے۔
  • کیونکہ سور (بغیر حمزہ) کا مطلب شہر کی فصیل ہے، جبکہ سؤر (حمزہ کے ساتھ) کا مطلب جھوٹا پانی ہے۔
  • یہ دونوں ہم معنی ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔
  • کیونکہ سؤر بڑے جانوروں کے جھوٹے کو کہتے ہیں اور سور چھوٹے جانوروں کے۔

سوال 2

کسی غیر مسلم یا جنابت (بڑی ناپاکی) کی حالت میں مبتلا انسان کا جھوٹا پانی ناپاک اور ناجائز ہوتا ہے۔

سوال 3

کتاب کے مطابق درج ذیل جانوروں کے جھوٹے پانی (سور) کو ان کے درست شرعی احکام سے جوڑیں:

سوال 4

بچھو گھروں میں رہنے والے حشرات میں سے ہونے کے باوجود اس کا جھوٹا پانی مکروہ کیوں نہیں شمار ہوتا؟

  • کیونکہ اس کا گوشت کھانا حلال ہے۔
  • کیونکہ اس میں بہنے والا خون نہیں ہوتا، جو کہ ناپاکی یا کراہت کی بنیادی وجہ ہے۔
  • کیونکہ وہ صرف بارش کا پانی پیتا ہے۔
  • کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے بچھوؤں کے لیے دعا فرمائی تھی۔

سوال 5

اگر کسی کے پاس گدھے کے جھوٹے پانی کے علاوہ کوئی پانی نہ ہو، تو وہ صرف اس سے وضو کر سکتا ہے اور اسے تیمم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

سوال 6

حنفی قاعدے 'العبرہ للام' کے مطابق، خچر کا جھوٹا پانی کس صورت میں مشکوک مانا جائے گا؟

  • صرف اس صورت میں جب اس کی ماں پالتو گدھی ہو۔
  • صرف اس صورت میں جب اس کی ماں گھوڑی ہو۔
  • خچر کا جھوٹا پانی ہمیشہ پاک اور پاک کرنے والا ہوتا ہے۔
  • خچر کا جھوٹا پانی ہمیشہ ناپاک ہوتا ہے۔

سوال 7

کتاب کے مطابق درج ذیل جھوٹے پانیوں کو "پاک جھوٹا پانی" اور "مکروہ جھوٹا پانی" کے گروہوں میں تقسیم کریں:

سوال 8

جانور کے پینے کے بعد بچے ہوئے پانی پر شرعاً 'سؤر' کا اطلاق کس صورت میں ہوتا ہے؟

  • پانی کی ہر حالت میں، خواہ وہ کثیر ہو یا قلیل۔
  • صرف اس صورت میں جب پانی نہر یا جاری ندی میں ہو۔
  • صرف اس صورت میں جب برتن میں بچا ہوا پانی مقدار میں قلیل (تھوڑا) ہو۔
  • صرف اس صورت میں جب پینے والا جانور شکاری ہو۔

تعاملی کوئز کھولیں