ایک فقہی کتاب میں خرید و فروخت کی ایک صورت اور اس کا حکم زیرِ بحث ہے، مگر عبارت سوالیہ جملہ نہیں۔ کیا یہ مسئلہ ہو سکتا ہے؟

مسئلہ اور فتویٰ