نجاست پاک کرنے کے طریقے

نجاست پاک کرنے کے طریقے کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. نجاستِ مرئیہ (ظاہری ناپاکی) کو پاک کرنے کا طریقہ

اصل متن وَتَطْهُرُ النَّجَاسَةُ الْمُرْئِيَّةُ بِزَوَالِ عَيْنِهَا وَلَوْ بِمَرَّةٍ عَلَى الصَّحِيحِ... • نجاستِ مرئیہ: وہ گندگی جس کا مادی وجود یا نشان نظر آتا ہو (جیسے خون، فضلہ یا رنگ)۔ • پاک کرنے کا اصول: اس کا مادی وجود اور عین ناپاکی کو مکمل طور پر ختم کرنا ہی اس کی طہارت ہے۔ • دھونے کی تعداد: اگر ایک ہی بار دھونے سے مادی وجود ختم ہو جائے، تو صحیح ترین حنفی قول کے مطابق وہ کپڑا پاک ہو جاتا ہے اور اسے تین بار دھونا فرض نہیں ہے۔

2. سخت اور نہ مٹنے والے نشانات (دھبوں) کا شرعی حکم

اصل متن وَلَا يَضُرُّ بَقَاءُ أَثَرٍ شَقَّ زَوَالُهُ... • سخت نشانات کا حکم: اگر مادی ناپاکی کو اچھی طرح پانی اور صابن سے دھویا گیا، لیکن اس ناپاکی کا کوئی سخت دھبہ یا رنگ یا بو باقی رہ جائے جسے دور کرنا انتہائی دشوار ہو۔ • شرعی حکم: وہ بقایا نشان یا دھبہ نماز کی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہے اور وہ کپڑا پاک مانا جائے گا۔ • انسان کو کپڑا پھاڑنے یا شدید نقصان پہنچانے کی ضرورت نہیں ہے۔

3. نجاستِ غیر مرئیہ (چھپی ہوئی ناپاکی) کو پاک کرنے کا طریقہ

اصل متن وَغَيْرُ الْمُرْئِيَّةِ بِغَسْلِهَا ثَلَاثًا، وَالْعَصْرِ كُلَّ مَرَّةٍ... • نجاصتِ غیر مرئیہ: وہ گندگی جو سوکھنے کے بعد مادی شکل میں نظر نہیں آتی (جیسے پیشاب یا شراب)۔ • پاک کرنے کا اصول: ایسی ناپاکی کو دور کرنے کے لیے کپڑے کو تین بار دھونا اور ہر بار اچھی طرح نچوڑنا (العصر) فرض ہے۔ • نچوڑنے کی طاقت: ہر بار نچوڑتے وقت اپنی پوری طاقت کا استعمال کرے تاکہ قطرے گرنا بند ہو جائیں۔

4. نہ نچوڑی جا سکنے والی چیزوں کو پاک کرنے کا طریقہ

اصل متن وَفِي غَيْرِ الْمَنْعَصِرِ طَهَارَتُهُ بِغَسْلِهِ ثَلَاثًا مَعَ التَّجْفِيفِ كُلَّ مَرَّةٍ • نہ نچوڑنے والی اشیاء: وہ چمڑے کا سامان، موٹے قالین، یا جوتے جنہیں نچوڑا نہیں جا سکتا: • پاک کرنے کا طریقہ: ◦ انہیں تین بار دھونا ہوگا۔ ◦ ہر بار دھونے کے بعد انہیں اتنی دیر کے لیے چھوڑ دیا جائے کہ وہ بالکل خشک ہو جائیں اور پانی ٹپکنا بند ہو جائے۔ • تیسری بار خشک ہونے پر وہ چیز مکمل پاک مانی جائے گی۔

5. برتنوں اور تلواروں کو پونچھنا اور چمڑے کا رگڑنا

اصل متن وَيُطَهَّرُ السَّيْفُ وَنَحْوُهُ بِالْمَسْحِ، وَيُطَهَّرُ الْخُفُّ بِالدَّلْكِ مِنَ النَّجَاسَةِ الْمُتَجَسِّدَةِ • ہموار چیزوں کو پونچھنا: وہ ہموار چیزیں جو ناپاکی جذب نہیں کرتیں (جیسے فولاد کی تلوار، شیشہ، آئینہ یا ہموار برتن): ◦ انہیں مٹی یا کپڑے سے اچھی طرح پونچھنا (المسح) ان کی طہارت کے لیے کافی ہے۔ • چمڑے پر رگڑ کا قانون: چمڑے کے موزے یا جوتے پر اگر مادی ٹھوس نجاست (جیسے پاخانہ یا گوبر) لگی ہو اور وہ سوکھ جائے: ◦ اسے زمین پر اچھی طرح رگڑنا (الدلك) طہارت کے لیے کافی ہے جب تک کہ نجاست ختم ہو جائے۔ ◦ لیکن اگر نجاست مائع ہو (جیسے پیشاب) تو اسے دھونا لازم ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

صحیح ترین قول کے مطابق، نجاستِ مرئیہ (جیسے خون کا دھبہ) سے بھرے کپڑے کو پاک کرنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

  • اسے ٹھیک سات بار دھونا۔
  • اس ناپاکی کے مادی وجود اور اثر کو مکمل دور کرنا، خواہ وہ ایک ہی بار دھونے سے دور ہو جائے۔
  • اسے ۳ دن کے لیے صاف مٹی میں دفن کرنا۔
  • صرف اس جگہ کو آگ لگا کر۔

سوال 2

اگر کپڑے کو اچھی طرح دھونے کے بعد بھی خون کا سخت دھبہ یا نشان باقی رہ جائے، تو وہ کپڑا ناپاک ہی رہے گا اور اس میں نماز جائز نہیں ہوگی۔

سوال 3

نجاستِ غیر مرئیہ (جیسے پیشاب) سے آلودہ کپڑے کو پاک کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟

  • اسے پتھر پر رگڑنا۔
  • اسے تین بار دھونا اور ہر بار اچھی طرح نچوڑنا۔
  • اسے ۲۴ گھنٹے دھوپ میں چھوڑ دینا۔
  • اسے گیلے کپڑے سے پونچھنا۔

سوال 4

قالین یا چمڑے جیسے سامان جنہیں نچوڑا نہیں جا سکتا، انہیں تین بار دھونا اور ہر بار مکمل خشک ہونے کے لیے چھوڑ دینا شرعاً کافی ہے۔

سوال 5

شیشے، آئینے یا ہموار تلواروں پر نجاست لگنے کی صورت میں انہیں پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

  • انہیں سرکے میں ۳ گھنٹے بھگویا جائے۔
  • انہیں تین بار دھو کر نچوڑا جائے۔
  • انہیں خشک مٹی یا صاف کپڑے سے اچھی طرح پونچھ لیا جائے۔
  • وہ کبھی پاک نہیں ہو سکتے۔

سوال 6

درج ذیل ناپاک اشیاء کو ان کے پاک کرنے کے شرعی طریقوں سے جوڑیں:

سوال 7

چمڑے کے موزوں پر اگر مائع نجاست (جیسے پیشاب) لگی ہو، تو سوکھنے کے بعد انہیں مٹی پر رگڑنا پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے کافی ہے۔

سوال 8

درج ذیل کیفیات کو "شرعاً پاک" اور "شرعاً ناپاک" کے خانوں میں تقسیم کریں:

تعاملی کوئز کھولیں