پاک کرنے والے پانی اور مطلق پانی

پاک کرنے والے پانی اور مطلق پانی کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. پانی طہارت کا اصل ذریعہ ہے

• بنیادی اصول: شریعتِ اسلامیہ میں نجاستِ حقیقی اور نجاستِ حکمی کو دور کرنے کا بنیادی اور اصل ذریعہ صرف پانی ہے۔ • تبدیلی کے بغیر پانی: کوئی بھی ایسا پانی جو اپنے قدرتی خواص اور پیدائشی حالت پر برقرار ہو، وہ بالاتفاق پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ • شریعت میں طہارت کے لیے چائے، عرق یا جوس جیسے مائعات کو استعمال کرنا وضو یا غسل کے لیے جائز نہیں ہے۔

2. سات قسم کے پانی جن سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے

اصل متن الْمِيَاهُ الَّتِي يَجُوزُ التَّطْهِيرُ بِهَا سَبْعَةُ مِيَاهٍ... • مصنف نے نور الإیضاح کے متن میں پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے سات قسم کے پانی مخصوص فرمائے ہیں: ◦ مَاءُ السَّمَاءِ: بارش کا پانی ◦ مَاءُ الْبَحْرِ: سمندر کا پانی ◦ مَاءُ النَّهْرِ: نہر یا دریا کا جاری پانی ◦ مَاءُ الْبِئْرِ: کنویں کا پانی ◦ مَاءُ الْعَيْنِ: چشمے کا پانی ◦ مَاءٌ ذَابَ مِنَ الثَّلْجِ: پگھلی ہوئی برف کا پانی ◦ مَاءٌ ذَابَ مِنَ الْبَرَدِ: پگھلے ہوئے اولوں کا پانی

3. سمندر اور اولوں کے پانی کے احکام

• سمندر کا پانی: کچھ لوگوں کو وہم تھا کہ سمندر کا پانی نمکین اور کڑوا ہونے کی وجہ سے ناپاک یا ناجائز ہے۔ لیکن صحیح حدیث کے مطابق: "هو الطهور ماؤه الحل ميتته" (سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے)۔ • پگھلی ہوئی برف اور اولے: پگھلنے کے بعد یہ مائع بن کر بہنے لگتے ہیں، اس لیے ان کا پانی جاری پانی کی طرح پاک اور پاک کرنے والا بن جاتا ہے۔ • چشمے اور نہریں: زمین سے ابلنے اور قدرتی طور پر بہنے کی وجہ سے ان کا پانی بلا اتفاق پاک اور پاک کرنے والا ہے۔ • بارش، سمندر، دریا، کنواں، پگھلی ہوئی برف و اولے اور چشمے کا پانی طہارت کے لیے جائز ہے۔

4. "ماءِ مطلق" کا فقہی مفہوم

اصل متن وَهُوَ الْمَاءُ الْمُطْلَقُ الَّذِي بَقِيَ عَلَى خِلْقَتِهِ • ماءِ مطلق کی تعریف: ماءِ مطلق وہ پانی ہے جو اپنی اصل پیدائشی حالت پر برقرار ہو اور اس کے ساتھ کوئی ایسی مستقل قید نہ لگی ہو جو اس کے نام کا حصہ بن جائے۔ جیسے ندی، کنویں یا چشمے کا پانی، جنہیں صرف "پانی" کہا جاتا ہے۔ • مقید پانی: ◦ وہ مائع جس کے نام کے ساتھ کوئی قید مستقل طور پر جڑ جائے (جیسے عرقِ گلاب -، یا انگور کا رس)۔ ◦ قاعدہ: مقید پانی سے وضو یا غسل کرنا شرعی طور پر جائز نہیں ہے۔

5. پانی کی اضافت اور غیر کی ملکیت میں وضو کا حکم

• اضافت کا اصول: ان سات قسم کے پانیوں میں جو اضافت ہے (جیسے کنویں کا پانی یا بارش کا پانی)، وہ صرف تعریف (تعارف) کے لیے ہے، تقیید (مستقل قید) کے لیے نہیں، اس لیے یہ سب ماءِ مطلق ہیں۔ اس کے برعکس "عرقِ گلاب" میں اضافت تقیید کے لیے ہے۔ • غیر کی ملکیت میں وضو: اگر کوئی شخص دوسرے کی ملکیت کا پانی بغیر اجازت کے استعمال کر لے، تو کیا اس کا وضو ہو جائے گا؟ حاشیہ کے مطابق طہارت جائز اور درست ہو جائے گی، اگرچہ بغیر اجازت کے دوسرے کا پانی استعمال کرنے کا گناہ ہوگا۔

مشق کے سوالات

سوال 1

درج ذیل مائعات میں سے کون سا پانی "ماءِ مقید" شمار ہوتا ہے اور اس سے وضو کرنا جائز نہیں ہے؟

  • کنویں کا پانی
  • سمندر کا پانی
  • عرقِ گلاب
  • پگھلی ہوئی برف

سوال 2

اگر صاف پانی کو بغیر کسی چیز کے ابالا جائے، تو اس سے وضو اور غسل کرنا کامل طور پر جائز رہتا ہے۔

سوال 3

سات پاک کرنے والے پانیوں کے درج ذیل عربی ناموں کو ان کے درست انگریزی ترجمہ سے جوڑیں:

سوال 4

کتاب کے متن کے مطابق "ماءِ مطلق" (مطلق پانی) کی بنیادی تعریف کیا ہے؟

  • وہ پانی جسے سبزیوں کے ساتھ ابالا گیا ہو۔
  • وہ پانی جو اپنی اصل پیدائشی حالت پر برقرار ہو اور اس میں کوئی مستقل قید نہ ہو۔
  • وہ پانی جس میں صابن ملایا گیا ہو۔
  • انگور سے نچوڑا ہوا پانی۔

سوال 5

صفحہ ۹ کے حواشی کے مطابق، بارش کا پانی (مَاءُ السَّمَاءِ) جیسے الفاظ میں پانی کی اضافت صرف تعارف (تعریف) کے لیے ہے، تقیید (پابندی) کے لیے نہیں ہے۔

سوال 6

اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی ملکیت کا پانی اس کی اجازت کے بغیر استعمال کر کے وضو کرے، تو صفحہ ۹ کے حاشیے کے مطابق اس کے وضو کا شرعی حکم کیا ہوگا؟

  • وضو باطل ہے اور اسے دہرانا فرض ہے۔
  • وضو شرعاً درست ہے، اگرچہ بغیر اجازت کے پانی استعمال کرنے کا گناہ ہوگا۔
  • وضو درست ہے اور اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔
  • وضو باطل ہے، لیکن تیمم کرنا کافی ہوگا۔

سوال 7

پانی کے درج ذیل حالات کو ان کے شرعی حکم (جوازِ طہارت) سے جوڑیں:

سوال 8

فرمانِ نبوی ﷺ کے مطابق سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے، اس لیے اس سے وضو اور غسل کرنا شرعاً جائز ہے۔

تعاملی کوئز کھولیں