نفاس اور استحاضہ
نفاس اور استحاضہ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. نفاس کا تعارف اور اس کی اقل واکثر مدت
اصل متن وَالنِّفَاسُ: هُوَ الدَّمُ الْخَارِجُ عَقِبَ الْوِلَادَةِ، وَلَا حَدَّ لِأَقَلِّهِ، وَأَكْثَرُهُ أَرْبَعُونَ يَوْمًا • تعریف: نفاس وہ خون ہے جو بچے کی پیدائش (ولادت) کے بعد رحم سے خارج ہوتا ہے۔ • اقل مدت: نفاس کی کم سے کم مدت کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ ◦ اگر کسی عورت کو ولادت کے بعد صرف ایک لمحہ خون آیا یا بالکل بھی خون نہیں آیا، تب بھی وہ نفاس سے پاک مانی جائے گی۔ • اکثر مدت: نفاس کی زیادہ سے زیادہ شرعی مدت چالیس دن ہے۔ ◦ اگر خون چالیس دن سے زیادہ جاری رہے، تو چالیس دن پورے ہوتے ہی نفاس کا وقت ختم مانا جائے گا اور بقیہ زائد دن بیماری (استحاضہ) شمار ہوں گے۔
2. نفاس کی شرعی پابندیاں اور مسائل
• حکم: نفاس کے تمام شرعی احکام اور پابندیاں بعینہ حیض کی طرح ہیں۔ • تفصیلی پابندیاں: نفاس کی حالت میں بھی عورت پر نماز پڑھنا، روزہ رکھنا، مسجد میں جانا، طواف کرنا، قرآن مجید کی تلاوت کرنا یا اسے بغیر غلاف کے چھونا، اور ہمبستری کرنا سخت حرام ہے۔ • معافی اور قضا: ◦ نفاس کے دنوں کی نمازیں مکمل معاف ہیں (قضا نہیں کرنی)۔ ◦ رمضان کے چھوڑے گئے روزوں کی قضا کرنا فرض ہے۔
3. استحاضہ (بیماری کا خون) کا مفہوم اور دائرہ کار
اصل متن وَالِاسْتِحَاضَةُ: دَمٌ نَقَصَ عَنْ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوْ زَادَ عَلَى عَشَرَةٍ... • استحاضہ کے اسباب: ◦ اگر خون حیض کی کم سے کم مدت (3 دن) سے کم آ کر بند ہو جائے۔ ◦ اگر خون حیض کی زیادہ سے زیادہ حد (10 دن) سے زیادہ جاری رہے۔ ◦ اگر خون نفاس کی زیادہ سے زیادہ حد (40 دن) سے تجاوز کر جائے۔ ◦ دورانِ حمل (حاملہ عورت کو) آنے والا ہر خون بالاتفاق استحاضہ ہے۔ • استحاضہ وہ خون ہے جو حیض و نفاس کی شرعی مدتوں سے باہر ہو؛ کتاب حمل کے دوران آنے والے خون کو بھی استحاضہ قرار دیتی ہے۔
4. استحاضہ کا شرعی حکم: نماز، روزہ اور ہمبستری کا جواز
اصل متن وَحُكْمُ الِاسْتِحَاضَةِ كَالرُّعَافِ الدَّائِمِ لَا يَمْنَعُ صَلَاةً وَلَا صَوْمًا وَلَا وَطْئًا • بنیادی فقہی تشبیہ: شریعت میں استحاضہ کا حکم ایسے ہی ہے جیسے کسی کے ناک سے مسلسل بہنے والا خون (الرعاف الدائم) ہو۔ • شرعی اثرات: ◦ یہ خون عورت کو نماز پڑھنے سے منع نہیں کرتا۔ ◦ یہ رمضان المبارک کے روزے رکھنے سے منع نہیں کرتا۔ ◦ اس حالت میں میاں بیوی کے لیے ہمبستری (جماع) کرنا مکمل طور پر جائز ہے۔ ◦ عورت اس حالت میں قرآن مجید کی تلاوت بھی کر سکتی ہے اور مسجد میں داخل بھی ہو سکتی ہے۔
5. معذور شخص کے مسائل کا اجمالی خاکہ
اصل متن وَتَتَوَضَّأُ الْمُسْتَحَاضَةُ وَمَنْ بِهِ عُذْرٌ... لِوَقْتِ كُلِّ فَرْضٍ • عذر والے اشخاص: وہ عورت جسے استحاضہ کا خون مسلسل بہتا ہو، یا وہ مرد/عورت جسے پیشاب کے قطرے آنے (سلس بول) یا گیس خارج ہونے کی مسلسل بیماری ہو۔ • وضو کا مسنون طریقہ: ایسا معذور شخص ہر فرض نماز کے وقت کے لیے نیا وضو کرے گا (لوقت كل فرض)۔ • وضو کب تک قائم رہے گا؟: ◦ اس وضو کے ساتھ وہ اس مخصوص نماز کے وقت کے اندر جتنے چاہیں فرض اور نفل نمازیں پڑھ سکتے ہیں۔ ◦ ان کا وضو اس عذر (مثلاً بہتے خون یا قطروں) سے نہیں ٹوٹے گا۔ ◦ جیسے ہی اس مخصوص نماز کا وقت ختم ہوگا (خروجِ وقت)، ان کا وضو خود بخود باطل ہو جائے گا اور اگلی نماز کے لیے نیا وضو کرنا فرض ہوگا۔
مشق کے سوالات
سوال 1
حنفی فقہ کے مطابق نفاس (زچگی کے بعد آنے والے خون) کی زیادہ سے زیادہ شرعی حد کتنے دن ہے؟
سوال 2
حیض کے برعکس، نفاس کی کم سے کم مدت کی کوئی حد مقرر نہیں ہے؛ اگر ولادت کے بعد کسی عورت کو صرف ایک لمحہ خون آئے تو اس کا نفاس شرعاً مکمل مانا جائے گا۔
سوال 3
حاملہ عورت کو حمل کے دوران آنے والا خون شرعی طور پر کس خانے میں شمار ہوتا ہے؟
سوال 4
استحاضہ (بیماری کے خون) کی حالت میں عورت پر روزہ رکھنا، مسجد میں داخل ہونا اور ہمبستری کرنا حرام ہوتا ہے۔
سوال 5
کسی معذور شخص (جیسے استحاضہ والی عورت یا پیشاب کے قطروں کا مریض) کے لیے وضو کا بنیادی فقہی قاعدہ کیا ہے؟
- انہیں ہر نماز کے لیے نیا غسل کرنا ہوگا۔
- انہیں ہر فرض نماز کے وقت کے لیے نیا وضو کرنا ہوگا۔
- ان پر سے وضو کا حکم بالکل معاف ہے۔
- وہ دن میں صرف ایک بار وضو کریں گے۔
سوال 6
معذور شخص کا وضو اس وقت خود بخود باطل ہو جاتا ہے جب موجودہ نماز کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔
سوال 7
مختلف خون آنے کی کیفیات کو ان کی درست زیادہ سے زیادہ شرعی مدتوں سے جوڑیں:
سوال 8
درج ذیل خون آنے کی حالتوں کو "استحاضہ" اور "حیض" کے خانوں میں الگ الگ کریں:
تعاملی کوئز کھولیں