جماعت میں سجدہ سہو کے احکام
جماعت میں سجدہ سہو کے احکام کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. جماعت میں سجدہ سہو کے احکام
وَيَلْزَمُ الْمَأْمُومَ بِسَهْوِ إِمَامِهِ لَا بِسَهْوِ نَفْسِهِ • امام کا سہو: اگر جماعت کی نماز میں امام سے کوئی ایسی بھول ہو جائے جس سے سجدہ سہو لازم ہوتا ہو، تو مقتدی پر بھی امام کے ساتھ سجدہ سہو کرنا واجب ہے۔ • مقتدی کا اپنا سہو: اگر مقتدی سے اپنی انفرادی حالت میں کوئی بھول ہو جائے (مثلاً وہ التحیات پڑھنا بھول جائے)، تو اس مقتدی پر سجدہ سہو کرنا واجب نہیں ہے اور نہ ہی اس کی وجہ سے نماز باطل ہوگی۔ • علت: مقتدی کا اپنے امام کی اقتدا کا عزم اور اتباع اس کے انفرادی سہو کی تلافی کر دیتا ہے، لہذا جماعت کا نظم برقرار رکھنے کے لیے مقتدی تنہا سجدہ نہیں کرے گا۔
2. مسبوق اور لاحق کے لیے سجدہ سہو کا قانون
وَيَسْجُدُ الْمَسْبُوقُ مَعَهُ فِيمَا يَقْضِيهِ أَيْضًا لَا اللَّاحِقُ • مسبوق: وہ شخص جس کی جماعت میں کچھ رکعتیں چھوٹ چکی ہوں: ◦ وہ امام کے ساتھ اس کے سہو کا سجدہ سہو کرے گا، چاہے امام کا سہو اس کے شامل ہونے سے پہلے کا ہو یا بعد کا۔ ◦ اگر مسبوق اپنی چھوٹی ہوئی رکعتیں اکیلے پوری کرتے وقت کوئی بھول کر بیٹھے، تو وہ اپنی انفرادی نماز کے آخر میں سجدہ سہو کرے گا۔ • لاحق: وہ مقتدی جو شروع سے جماعت میں تھا لیکن نیند یا ہجوم کی وجہ سے اس کی کچھ رکعتیں نکل گئیں: ◦ لاحق اپنی چھوٹی ہوئی رکعتیں اکیلے پوری کرتے وقت امام کے سہو کا سجدہ سہو نہیں کرے گا۔
3. پہلے قعدہ سے بھول کر کھڑے ہو جانے کا شرعی حکم
وَمَنْ سَهَا عَنِ الْقُعُودِ الأَوَّلِ مِنَ الْفَرْضِ عَادَ إِلَيْهِ مَا لَمْ يَسْتَوِ قَائِمًا • قعدہ اولیٰ: اگر کوئی شخص فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں کے بعد قعدہ اولیٰ کرنا بھول جائے اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہونے لگے: ◦ بیٹھنے کے زیادہ قریب: اگر وہ ابھی سیدھا کھڑا نہیں ہوا بلکہ بیٹھنے کے زیادہ قریب ہے، تو وہ واپس بیٹھ جائے اور اس پر سجدہ سہو واجب نہیں ہے۔ ◦ کھڑے ہونے کے زیادہ قریب یا سیدھا کھڑا ہو گیا: اگر وہ سیدھا کھڑا ہو چکا ہے یا کھڑے ہونے کے زیادہ قریب ہے، تو وہ واپس نہیں بیٹھے گا۔ • تلافی: وہ اپنی نماز پوری کرے گا اور آخر میں سجدہ سہو کرنا واجب ہوگا۔
4. آخری قعدہ بھول کر زائد رکعت کے لیے کھڑے ہونے کا حکم
وَإِنْ سَهَا عَنِ الْقُعُودِ الأَخِيرِ عَادَ مَا لَمْ يَسْجُدْ لِلْخَامِسَةِ • مسائل کا نقشہ: اگر کوئی شخص فرض نماز کا آخری قعدہ بھول جائے اور زائد رکعت (مثلاً چار رکعت والی نماز میں پانچویں رکعت) کے لیے کھڑا ہو جائے: ◦ پانچویں کا سجدہ کرنے سے پہلے: اگر اسے سجدہ کرنے سے پہلے یاد آ جائے، تو وہ فوراً بیٹھ جائے، التحیات پڑھے اور آخر میں سجدہ سہو کرے۔ ◦ پانچویں کا سجدہ کرنے کے بعد: اگر وہ پانچویں رکعت کا سجدہ بھی کر چکا ہو، تو اس کی فرض نماز باطل (ختم) ہو جائے گی اور یہ پوری نماز نفل میں تبدیل ہو جائے گی۔ • نفل کی تکمیل: اسے چاہیے کہ اس کے ساتھ چھٹی رکعت بھی ملا لے تاکہ نفل کی رکعتیں جفت ہو جائیں۔
5. نماز کی رکعتوں کی تعداد میں شک ہو جانے کا قانون
بُطْلَتِ الصَّلَاةُ بِالشَّكِّ فِي عَدَدِ رَكَعَاتِهَا إِذَا كَانَ قَبْلَ إِكْمَالِهَا... وَإِنْ كَثُرَ الشَّكُّ عَمِلَ بِغَالِبِ ظَنِّهِ • پہلی بار شک: اگر کسی شخص کو زندگی میں پہلی بار یہ شک ہوا ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھیں (مثلاً تین پڑھیں یا چار)، تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی اور نئے سرے سے نیت باندھنا لازم ہوگا۔ • بار بار شک ہونا: اگر شک ہونا اس کی عادت ہو (اکثر شک ہوتا رہتا ہو): ◦ وہ اپنے غالب گمان پر عمل کرے گا۔ ◦ اگر کوئی غالب گمان نہ ہو، تو وہ کم سے کم تعداد کو بنیاد بنائے گا (مثلاً تین اور چار میں شک ہو تو تین مانے گا)۔ • بیٹھنے کا واجب: وہ ہر اس رکعت کے آخر میں تشہد (قعدہ) کے لیے بیٹھے گا جس میں نماز مکمل ہونے کا امکان ہو تاکہ کوئی فرض قعدہ نہ چھوٹ جائے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
اگر کوئی مقتدی امام کے پیچھے باجماعت نماز پڑھتے ہوئے بھولے سے کسی واجب کو چھوڑ دے، تو اس کا کیا حکم ہے؟
- انہیں آخر میں اکیلے سجدہ سہو کرنا ہوگا۔
- ان کی نماز باطل ہے اور انہیں دوبارہ پڑھنا ہوگی۔
- ان پر کچھ کرنا لازم نہیں، کیونکہ امام کی اقتدا ان کی غلطی کی تلافی کر دیتی ہے۔ [154]
- انہیں نماز توڑ کر نیا وضو کرنا ہوگا۔
سوال 2
مسبوق پر امام کے ساتھ سجدہ سہو کرنا واجب ہے، خواہ امام کی بھول مسبوق کے جماعت میں شامل ہونے سے پہلے ہوئی ہو۔
سوال 3
اگر کوئی شخص فرض نماز کا پہلا قعدہ بھول کر کھڑا ہونے لگے اور وہ سیدھا کھڑا ہو چکا ہو، تو شرعی قانون کیا ہے؟
- وہ فوراً واپس بیٹھ جائے اور نماز جاری رکھے۔
- وہ واپس نہ بیٹھے، اپنی نماز پوری کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے۔ [154]
- نماز باطل ہو چکی ہے اور دوبارہ شروع کرے۔
- وہ سجدہ تلاوت ادا کرے۔
سوال 4
اگر کوئی نمازی فرض کا آخری قعدہ کیے بغیر پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے اور اس کا سجدہ بھی کر لے، تو اس کی فرض نماز باطل ہو جاتی ہے۔
سوال 5
اگر کسی شخص کو زندگی میں پہلی بار نماز کی رکعتوں میں شک ہو جائے، تو اس کا کیا حکم ہے؟
- وہ کم سے کم تعداد کو بنیاد بنائے۔
- اس کی نماز باطل ہو جائے گی اور اسے شروع سے دوبارہ پڑھنی ہوگی۔ [157]
- وہ سجدہ سہو کر لے۔
- وہ اپنے قریب کھڑے شخص سے پوچھے من مانی۔
سوال 6
جب نماز میں شک ہونا روزمرہ کی عادت ہو، اور نمازی کا کوئی غالب گمان نہ بن رہا ہو، تو وہ کم سے کم رکعتوں کو بنیاد بنائے گا۔
سوال 7
بھول چوک کے درج ذیل مسائل کو ان کے درست شرعی احکام سے جوڑیں:
سوال 8
درج ذیل نمازیوں کو ان کے سجدہ سہو کے حکم کے مطابق "سجدہ کرنا واجب ہے" اور "سجدہ واجب نہیں" کے خانوں میں الگ الگ کریں:
تعاملی کوئز کھولیں