کھالوں کی دباغت اور خاص پاک مادے

کھالوں کی دباغت اور خاص پاک مادے کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. مردار کی کھال کو پاک (دباغت) کرنے کا طریقہ

اصل متن يَطْهُرُ جِلْدُ الْمِيتَةِ بِالدِّبَاغَةِ الْحَقِيقِيَّةِ... وَبِالْحُكْمِيَّةِ... • مردار کی کھال: حنفی فقہ میں ذبح کے بغیر مرنے والے حلال یا حرام جانور کی کھال ناپاک ہوتی ہے، لیکن اسے دباغت کے ذریعے مکمل پاک کیا جا سکتا ہے: • دباغت کی دو اقسام: ◦ دباغتِ حقیقی: کیمیاوی اشیاء (جیسے نمک، پھٹکری یا پتے) لگا کر کھال کو صاف کرنا۔ ◦ دباغتِ حکمی: کھال کو دھوپ، تیز ہوا، یا خشک مٹی میں چھوڑنا یہاں تک کہ اس کا تعفن اور رطوبت ختم ہو جائے۔ • دباغت کے بعد اس کھال پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا اور اسے استعمال کرنا جائز ہے۔

2. دباغت سے استثنیٰ: خنزیر اور انسان کی کھال

اصل متن إِلَّا جِلْدَ الْخِنْزِيرِ وَالْآدَمِيِّ... • علت: کیونکہ خنزیر 'نجس العین' (ذاتی طور پر سراپا ناپاک) ہے؛ اس کا کوئی بھی حصہ کسی صورت پاک نہیں ہو سکتا۔ • انسان کی کھال کا حکم: انسانی کھال کو دباغت دینا اور اسے استعمال کرنا سخت حرام ہے۔ • دباغت خنزیر یا انسان کی کھال کو پاک نہیں کرتی۔ کتاب کا حاشیہ انسان کے استثنا کو اس کی حرمت و تکریم سے متعلق کرتا ہے، نجاست سے نہیں۔

3. غیر ماکول جانور کو ذبح کرنے کا حکم اور بغیر بہتے خون والے اعضاء

اصل متن وَتَطْهُرُ الذَّكَاةُ الشَّرْعِيَّةُ جِلْدَ غَيْرِ الْمَأْكُولِ... وَكُلُّ شَيْءٍ لَا يَسْرِي فِيهِ الدَّمُ لَا يَنْجُسُ بِالْمَوْتِ... • شرعی ذبح: اگر کسی ایسے جانور کو شرعی طریقے سے ذبح کر دیا جائے جس کا گوشت کھانا حلال نہیں ہے (جیسے چیتا یا گدھا): ◦ تو اس ذبح کی وجہ سے اس کی کھال بغیر دباغت کے بھی پاک ہو جائے گی (اگرچہ گوشت پھر بھی حرام رہے گا)۔ • بغیر بہتے خون کے اعضاء: مردار جانور کا ہر وہ حصہ جس میں بہتا ہوا خون گردش نہیں کرتا، وہ جانور کے مرنے کے بعد بھی پاک ہی رہتا ہے: ◦ کٹے ہوئے بال، کٹے ہوئے پر۔ ◦ ہڈیاں بشرطیکہ ان پر چربی یا گوشت کی رطوبت نہ ہو۔ ◦ سینگ اور کھر۔ • پٹھے یا عصب کا حکم کتاب کے حاشیے میں بیان ہوا ہے؛ یہ وضاحت متن کے الفاظ نہیں۔

4. مشک نافہ اور زباد (خوشبو) کی طہارت

اصل متن وَنَافِجَةُ الْمِسْكِ طَاهِرَةٌ كَالْمِسْكِ وَأَكْلُهُ حَلَالٌ، وَالزَّبَادُ طَاهِرٌ تَصُحُّ صَلَاةُ مُتَطَيِّبٍ بِهِ • مشک: ہرن کی ناف سے نکلنے والا مشک اور اس کی تھیلی: ◦ شرعاً کامل طور پر پاک ہے اور اسے کھانا بھی حلال ہے۔ • زباد: ایک خاص بلی سے حاصل ہونے والی خوشبو دار مائع رطوبت: ◦ شرعاً پاک ہے اور اس خوشبو کو جسم یا کپڑے پر لگا کر نماز پڑھنا بالکل جائز اور صحیح ہے۔ • یہ مائعات حیاتیاتی طور پر جانور سے الگ ہوتے ہیں لیکن شریعت نے ان کی خوشبو اور افادیت کی وجہ سے انہیں ناپاکی کے حکم سے مستثنیٰ رکھا ہے۔ • نافۂ مشک اور مشک پاک ہیں، مشک کھانا حلال ہے، اور زباد پاک ہے؛ اسے لگا کر نماز درست ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

مردار کی کھال کو پاک کرنے کے لیے دباغت کی کون سی دو اقسام کتاب میں بیان کی گئی ہیں؟

  • صنعتی دباغت اور گھریلو دباغت۔
  • دباغتِ حقیقی (کیمیکل والی) اور دباغتِ حکمی (دھوپ اور ہوا والی)۔
  • پانی کی دباغت اور مٹی کی دباغت۔
  • گرم دباغت اور ٹھنڈی دباغت۔

سوال 2

اگر خنزیر کی کھال کو اچھی طرح کیمیکل سے دباغت دی جائے، تو وہ پاک ہو جاتی ہے اور اس پر نماز پڑھنا جائز ہو جاتا ہے۔

سوال 3

انسانی کھال کو دباغت دینے اور اسے استعمال کرنے سے کیوں منع کیا گیا ہے؟

  • کیونکہ انسانی کھال خنزیر کی طرح ناپاک ہوتی ہے۔
  • انسان کی تکریم، شرافت اور شرفِ انسانیت کی وجہ سے۔
  • صرف اس وقت جب وہ غیر مسلم مرا ہو۔
  • کیونکہ وہ دباغت قبول نہیں کرتی۔

سوال 4

اگر کسی حرام گوشت والے چوپائے (جیسے چیتے یا گدھے) کو شرعی طریقے سے ذبح کر دیا جائے، تو اس کا کیا حکم ہے؟

  • اس کا گوشت کھانا حلال ہو جاتا ہے۔
  • اس کی کھال بغیر دباغت کے بھی پاک ہو جاتی ہے اور اس پر نماز پڑھنا جائز ہو جاتا ہے۔
  • اس کا کوئی فائدہ نہیں، کھال ناپاک ہی رہے گی۔
  • اس سے صرف سینگ پاک ہوتے ہیں۔

سوال 5

مردار چوپائے کے کٹے ہوئے بال، پر، ہڈیاں، سینگ اور کھر پاک مانے جاتے ہیں کیونکہ ان میں بہتا ہوا خون گردش نہیں کرتا۔

سوال 6

مردار کے درج ذیل اعضاء کو ان کے درست شرعی حکم سے جوڑیں:

سوال 7

درج ذیل اشیاء کو کتاب کے مطابق "پاک" اور "ناپاک" کے خانوں میں الگ الگ کریں:

سوال 8

زباد (بلی کی رطوبت) ناپاک مائع ہے، اور اسے لگا کر نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔

تعاملی کوئز کھولیں