مأمور بہ کی صفت: حسن لعینہ اور حسن لغیرہ

مأمور بہ کی صفت: حسن لعینہ اور حسن لغیرہ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اصل مقصد اور اس تک پہنچنے کا ذریعہ

فرض کریں آپ سبق پڑھنا چاہتے ہیں۔ اس کی کتاب لا کر رکھنا سبق پڑھنے میں مدد دیتا ہے۔ • سبق پڑھنا اصل مقصد ہے۔ • کتاب لا کر رکھنا اس مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ یہ سادہ فرق نماز اور وضو کا تعلق سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ نماز عبادت ہے اور وضو اس کی تیاری ہے۔ مأمور بہ وہ کام ہے جسے کرنے کا حکم دیا گیا ہو۔ اب دیکھیں گے کہ اس کی خوبی خود اس کام میں ہے یا کسی دوسرے کام سے تعلق کی وجہ سے آتی ہے۔

2. اللہ کا حکم اور کام کی خوبی

اللہ تعالیٰ حکیم اور ہر عیب سے پاک ہیں۔ وہ جس کام کا حکم دیتے ہیں، اس میں خوبی ہوتی ہے، چاہے کسی کو بظاہر اس میں مشقت نظر آئے۔ اسی طرح جس کام سے اللہ تعالیٰ منع کرتے ہیں، اس میں برائی ہوتی ہے، چاہے وہ بظاہر کسی کو پسند آئے۔ ان کے حکم پر عمل باعثِ ثواب اور منع کیے ہوئے کام کا کرنا سزا کا سبب ہے۔ بنیاد اللہ کا ثابت شدہ حکم ہے، ہماری اپنی پسند یا ناپسند نہیں۔ یہاں ”حسن“ سے مأمور بہ کی خوبی سمجھی جا رہی ہے۔

3. کام میں خوبی کہاں سے آتی ہے؟

مأمور بہ کی 2 بڑی قسمیں ہیں: • حسن لعینہ: کام کی خوبی خود اس کی ذات میں ہو۔ • حسن لغیرہ: کام میں خوبی کسی دوسرے کام یا مقصد کی وجہ سے آئے۔ یہ نام بتاتے ہیں کہ خوبی کا تعلق کہاں سے ہے۔ ان کا مطلب ”اچھا اور برا“ یا ”لازم اور اختیاری“ نہیں۔ دونوں بڑی قسموں کی مزید 2 صورتیں ہیں، جو مثالوں سے سمجھ میں آئیں گی۔

4. وہ خوبی جو کام سے جدا نہیں ہوتی

حسن لعینہ کی پہلی صورت میں کام کی اصل اور اس کے اجزا میں خوبی ہوتی ہے۔ یہ خوبی اس کام سے جدا نہیں ہوتی۔ • دل کا ایمان یعنی حق کو دل سے سچا ماننا ہر حال میں اچھا ہے۔ جان کا خطرہ بھی ہو تو حق کی اس دلی تصدیق کو چھوڑنے کی اجازت نہیں۔ • نماز کے اعمال میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے، اور اللہ کی تعظیم اچھی بات ہے۔ البتہ شرعی عذر کی مخصوص صورتوں1 میں نماز کا مطالبہ ساقط ہو سکتا ہے۔ متعلقہ صورت میں ذمہ داری اٹھنا الگ بات ہے؛ نماز کی خوبی ختم ہونا الگ۔ 1. مطالبہ ساقط ہونا: شریعت کی تسلیم کردہ متعلقہ صورت میں ذمہ داری کا اٹھ جانا؛ اپنی سہولت یا مشکل سے ایسی صورت خود مقرر نہیں ہوتی۔

5. واسطہ ہو، پھر بھی حسن لعینہ میں شامل

ایک صورت یہ بھی ہے کہ کام میں خوبی ایک واسطے1 سے آتی ہے، لیکن درجہ بندی میں اس واسطے کو نہ ہونے کے برابر مانا جاتا ہے۔ اسے ملحق بحسن لعینہ کہتے ہیں، یعنی حسن لعینہ کے ساتھ شامل کی گئی صورت۔ زکوٰۃ، روزہ اور حج اس کی مثالیں ہیں۔ واسطے کو اس طرح کیوں سمجھا گیا؟ ان مثالوں میں خوبی کا تعلق جس بنیاد سے ہے، وہ اللہ کی پیدا کردہ یا عطا کردہ ہے؛ بندے نے اپنے اختیاری فعل سے اسے پیدا نہیں کیا۔ آگے مثالوں سے یہ بات واضح ہوگی۔ 1. واسطہ: وہ چیز جس کے ذریعے کام میں خوبی آئے۔ ”واسطہ کالعدم“ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چیز حقیقت میں موجود ہی نہیں۔

6. زکوٰۃ: مال خرچ ہوا، حاجت پوری ہوئی

صرف مال ہاتھ سے نکلتے ہوئے دیکھیں تو مال کم ہوا۔ لیکن زکوٰۃ سے فقیر کی حاجت پوری ہوتی ہے۔ اس لیے یہ محض مال کا ضائع ہونا نہیں، حاجت پوری کرنے کے لیے خرچ ہونا ہے۔ تعلق یوں سمجھیں: زکوٰۃ دینا ← فقیر کی حاجت پوری ہونا ← خوبی اور ثواب۔ اس وضاحت میں فقیر کی حاجت واسطہ ہے۔ حاجت کو پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، غنی یا فقیر کے اختیاری فعل سے نہیں۔ اسی لیے واسطے کو کالعدم مان کر زکوٰۃ کو حسن لعینہ کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔

7. روزہ: نفس کو قابو میں رکھنا

روزے میں بھوک کی مشقت سامنے آتی ہے۔ لیکن روزے کی خوبی صرف یہ کہہ دینے سے نہیں سمجھی جاتی کہ بھوکا رہنا مشکل ہے۔ روزے سے نفس اور اس کی خواہشات کو قابو میں رکھنے1 میں مدد ملتی ہے۔ خواہش واسطہ ہے: خواہش نہ ہوتی تو اسے دبانے کی یہ ضرورت نہ ہوتی۔ فرشتوں کی مثال بھی یہی فرق سمجھاتی ہے؛ ان میں یہ شہوت نہیں، اس لیے ان کے لیے روزے کی یہ امتیازی فضیلت نہیں۔ انسان کی خواہش اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے؛ بندے نے کسی اختیاری فعل سے اسے پیدا نہیں کیا۔ اسی لیے اس واسطے کو کالعدم مانا جاتا ہے اور روزہ حسن لعینہ کے ساتھ شامل ہوتا ہے۔ 1. شہوتِ نفس: نفس کی وہ خواہشات جنہیں قابو میں رکھنا ہو؛ یہاں بات صرف جنسی خواہش کی نہیں۔

8. حج: مشقت کے ساتھ ایک عظیم مقصد

حج میں لمبا سفر اور جسمانی مشقت ہوتی ہے۔ احرام، طواف اور عرفات میں ٹھہرنے کو صرف ظاہری کام سمجھ کر دیکھیں تو یہ مشکل لگ سکتے ہیں۔ یہ اعمال اللہ کے محترم گھر کی زیارت سے تعلق رکھتے ہیں۔ بیت اللہ کی حرمت اور شرافت اللہ کی عطا ہے۔ اسی لیے یہ واسطہ کالعدم سمجھا جاتا ہے اور حج حسن لعینہ کے ساتھ شامل ہوتا ہے۔ زکوٰۃ، روزے اور حج کی خوبی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر عذر میں ہر مطالبہ جوں کا توں رہے۔ شریعت کی تسلیم کردہ مخصوص صورتوں میں ان کا مطالبہ ساقط ہو سکتا ہے۔ کام کی خوبی اور کسی صورت میں اس کی ذمہ داری باقی رہنا، الگ باتیں ہیں۔

9. وضو: نماز سے ملنے والی خوبی

حسن لغیرہ کی پہلی صورت میں دوسرا کام الگ ہوتا ہے اور بعد میں آتا ہے۔ وضو اور نماز اس تعلق کی مثال ہیں۔ وضو کو صرف ظاہری میل صاف کرنے سے نہیں سمجھا جا سکتا؛ اعضا پر میل نہ بھی ہو تو پانی استعمال ہوتا ہے۔ وضو میں عبادت کی خوبی نماز سے آتی ہے، جس کی وہ تیاری ہے۔ وضو کا مطالبہ نماز کے مطالبے کی وجہ سے ہے۔ یہ حکم کے تعلق کی ترتیب ہے، پہلے نماز پڑھ لینے کی ہدایت نہیں۔ عمل کرتے وقت وضو پہلے ہوتا ہے اور نماز بعد میں۔

10. اس تعلق کا اثر کیا ہے؟

جہاں کسی تسلیم شدہ صورت میں نماز کا مطالبہ نہیں، وہاں اس نماز کے لیے وضو کا مطالبہ بھی نہیں۔ مثال حیض والی عورت1 کی ہے: اس مدت میں نماز کی فرضیت اور اس کے لیے وضو کی فرضیت ساقط ہیں۔ ثواب کے لحاظ سے بھی تعلق کا اثر ہے۔ کوئی شخص وضو کرے مگر پھر نماز نہ پڑھے تو اس وضاحت کے مطابق وضو کے حسن اور ثواب میں کمی آتی ہے۔ ”کمی آنا“ اور ”بالکل ثواب نہ ہونا“ ایک بات نہیں۔ نہ اس سے یہ مطلب ہے کہ وضو ہوا ہی نہیں۔ بات تیاری اور اس کے مقصد کے تعلق کی ہے۔ 1. حیض: عورت کی ماہواری کی مدت؛ یہاں اسے نماز کا مطالبہ نہ ہونے کی بیان کردہ مثال کے طور پر سمجھیں۔

11. جمعہ کی نماز کے لیے جانا

فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ مفہوم: اللہ کے ذکر کی طرف جاؤ۔ جس پر جمعہ فرض ہو، اس کے لیے جمعہ کی اذان کے بعد نماز ادا کرنے کے لیے جانا واجب ہوتا ہے۔ یہ سعی1 یعنی جانا، نماز تک پہنچنے کا ذریعہ ہے؛ اس کی خوبی اور ثواب جمعہ کی نماز سے آتے ہیں۔ جس پر جمعہ فرض نہیں، اس پر یہ جانا بھی فرض نہیں۔ کوئی اس طرح چلے مگر جمعہ کی نماز کا ارادہ نہ ہو تو اس جانے کا بیان کردہ ثواب نہیں۔ اس لیے یہ حسن لغیرہ کی مثال ہے۔ 1. سعی: یہاں جمعہ کی نماز کے لیے جانا مراد ہے؛ بات نماز کی طرف چلنے کی ہے، دوڑ لگانے کی ہدایت نہیں۔

12. عمل کے ساتھ ہی ایک حق ادا ہوا

حسن لغیرہ کی دوسری صورت میں دوسرا مقصد مأمور بہ کے ساتھ ہی پورا ہوتا ہے، بعد میں نہیں۔ مسلمان میت کی نمازِ جنازہ کو دیکھیں۔ صرف میت کے سامنے کھڑے ہونے کی ظاہری صورت دیکھنے سے اصل مقصد چھپ سکتا ہے۔ یہ میت کی عبادت نہیں، بلکہ مسلمان میت کے حق کی ادائیگی ہے۔ یہ حق نمازِ جنازہ کے ساتھ ہی ادا ہوتا ہے؛ وضو کی مثال کی طرح کسی بعد والی نماز سے نہیں۔ اس درجہ بندی میں میت کا اسلام واسطہ ہے، جسے بندے کا اختیاری فعل قرار دیا گیا ہے۔

13. ایک کلاسیکی مثال اور اس کا مقصد

کلاسیکی اصولی بحث میں جہاد1 کو بھی حسن لغیرہ کی اس دوسری صورت کی مثال بنایا گیا ہے۔ لڑائی اور بستیوں کو پہنچنے والا نقصان بظاہر سامنے آتا ہے؛ اس کے مقابلے میں بیان کردہ مقصد اللہ کا کلمہ بلند ہونا اور توحید کی اشاعت ہے۔ مثال میں خوبی کا تعلق اس مقصد سے ہے، محض نقصان پہنچانے سے نہیں۔ اس بحث میں کفر کو واسطہ بتایا گیا ہے: کفر نہ ہوتا تو اعلائے کلمہ کی اس مخصوص کوشش کا بیان کردہ مقصد نہ ہوتا۔ یہاں کفر بندے کا اختیاری فعل ہے۔ یہ پہلے کی مثالوں میں اللہ کی پیدا کردہ خواہش یا حاجت سے مختلف ہے۔ 1. جہاد کی یہ مثال: کلاسیکی فقہی مثال سے اصول کی قسم سمجھی جا رہی ہے؛ کسی شخص یا گروہ کو جنگ یا تشدد کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

14. دونوں واسطوں میں اصل فرق

دونوں طرح کی مثالوں میں ایک دوسری چیز کا تعلق ہے۔ اس لیے صرف واسطہ دیکھ لینا درجہ بندی کے لیے کافی نہیں۔ • زکوٰۃ، روزے اور حج میں متعلقہ حاجت، خواہش یا حرمت اللہ کی پیدا کردہ یا عطا کردہ ہے۔ بندے نے اختیاری فعل سے وہ واسطہ پیدا نہیں کیا۔ واسطے کو کالعدم مان کر یہ اعمال حسن لعینہ کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔ • نمازِ جنازہ اور جہاد کی کلاسیکی مثالوں میں واسطہ وہ اسلام یا کفر ہے جسے اس بحث میں بندے کا اختیاری فعل بتایا گیا ہے۔ یہ واسطہ درجہ بندی میں برقرار رہتا ہے، اس لیے یہ مثالیں حسن لغیرہ ہیں۔ فرق واسطے کی نوعیت کا ہے؛ صرف یہ نہیں کہ کون سا کام زیادہ مشکل یا زیادہ اہم نظر آتا ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

ایک طالب علم جملہ سمجھنے کے لیے لغت کھولتا ہے۔ مقصد اور ذریعے کے فرق میں کون سا بیان درست ہے؟

  • لغت کھولنا مقصد ہے؛ جملہ سمجھنا اس کا ذریعہ
  • جملہ سمجھنا مقصد ہے؛ لغت کھولنا اس کا ذریعہ
  • دونوں ایک ہی عمل ہیں، مقصد کے لحاظ سے فرق نہیں
  • ان دونوں کاموں کا ایک دوسرے سے تعلق نہیں ہو سکتا

سوال 2

دل کے ایمان اور نماز کی مثالوں سے خوبی اور ذمہ داری کا کون سا فرق سمجھ میں آتا ہے؟

  • عذر والا شخص نماز کو برا کام سمجھے
  • ہر اچھے کام کا ہر عذر میں ایک ہی حکم ہو
  • دھمکی ملتے ہی حق کی دلی تصدیق کی خوبی ختم ہو
  • نماز اچھی رہتے ہوئے کسی تسلیم شدہ صورت میں اس کا مطالبہ ساقط ہو

سوال 3

فقیر کی حاجت واسطہ ہونے کے باوجود زکوٰۃ حسن لعینہ کے ساتھ کیوں شامل ہوتی ہے؟

  • واسطے کی پیدائش اللہ کی طرف سے ہے، بندے کے اختیاری فعل سے نہیں
  • واسطہ حقیقت میں موجود نہیں بتایا گیا، نہ کوئی حاجت پوری ہوتی ہے
  • مال کا خرچ ہونا کافی ہے، حاجت کا بتایا ہوا تعلق ضروری نہیں
  • ہر واسطہ لازماً حسن لغیرہ ہی کی درجہ بندی میں برقرار رہتا ہے

سوال 4

روزے کو اس کی بیان کردہ خوبی سے کون سی وضاحت جوڑتی ہے؟

  • بھوک جتنی زیادہ ہو، ہر عمل اتنا ہی اچھا ہوگا
  • روزہ اس لیے اچھا ہے کہ خواہش روزے دار کی اختیاری پیداوار ہے
  • روزہ خواہش کو قابو کرتا ہے؛ خواہش ہی اس ضبط کی ضرورت سمجھاتی ہے
  • روزے اور فرشتوں کا موازنہ ان کی یکساں انسانی خواہشات کی وجہ سے ہے

سوال 5

پڑھی ہوئی وضاحت میں حج کے سفر اور اعمال کو خوبی سے کیا جوڑتا ہے؟

  • مسافر کا ذاتی فیصلہ کہ ہر مشکل سفر عبادت ہے
  • اس گھر کی زیارت جس کی حرمت اللہ کی عطا ہے
  • یہ دعویٰ کہ مشقت ہر ممکن عذر ختم کر دیتی ہے
  • ایک بعد کی نماز جو اکیلی حج کے ہر عمل کو خوبی دیتی ہے

سوال 6

”وضو کی فرضیت نماز کی فرضیت پر موقوف ہے“ کا یہاں کیا مطلب ہے؟

  • شرعی مطالبہ نماز سے جڑا ہے، اگرچہ وضو نماز سے پہلے کیا جاتا ہے
  • شخص پہلے نماز مکمل کرے، پھر اس کا وضو کرے
  • وضو اور نماز ایک ہی عمل اور یکساں اجزا رکھتے ہیں
  • یہ تعلق صرف اعضا پر ظاہری میل ہونے پر لاگو ہوتا ہے

سوال 7

کسی نے وضو کیا مگر پھر نماز نہیں پڑھی۔ ثواب کا پڑھا ہوا فرق کون سا بیان محفوظ رکھتا ہے؟

  • نماز نہ پڑھنے سے کیا ہوا وضو بھی باطل ہو جاتا ہے
  • نماز پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے، خوبی اور ثواب یکساں رہتے ہیں
  • نماز نہ پڑھنے سے وضو کی ہر خوبی اور ثواب بالکل ختم ہو جاتے ہیں
  • بعد میں نماز نہ پڑھنے سے اس تعلق کے لحاظ سے خوبی اور ثواب میں کمی آتی ہے

سوال 8

جمعہ کے لیے جانے کی مثال میں دونوں قیدیں کون سا بیان محفوظ رکھتا ہے؟

  • جانا سب پر فرض ہے؛ اس کے بیان کردہ ثواب میں ارادے کا کوئی دخل نہیں
  • جانے کا فرضیت سے تعلق نہیں؛ صرف فاصلہ ثواب طے کرتا ہے
  • اس کی فرضیت جمعہ کی فرضیت کے تابع ہے؛ بیان کردہ ثواب اس نماز کے ارادے سے جڑا ہے
  • اذان سے نماز کی ضرورت ختم ہے؛ صرف چلنا پوری ذمہ داری ادا کر دیتا ہے

سوال 9

دوسرا مقصد پورا ہونے کے وقت کے لحاظ سے نمازِ جنازہ کی مثال وضو سے کیسے مختلف ہے؟

  • میت کا حق نمازِ جنازہ کے ساتھ ادا ہوتا ہے؛ نماز وضو کے بعد آتی ہے
  • میت کا حق نمازِ جنازہ کے بعد ادا ہوتا ہے؛ نماز وضو کے دوران ادا ہوتی ہے
  • میت کا حق اور نماز دونوں اپنی اپنی تیاری کے عمل کے دوران پورے ہوتے ہیں
  • میت کے حق اور نماز دونوں کے لیے بیان کردہ عمل کے بعد الگ عمل درکار ہے

سوال 10

زکوٰۃ اور نمازِ جنازہ کی مثالوں کے واسطوں میں کیا فرق ہے؟

  • حاجت بندے کا اختیاری فعل ہے؛ میت کا اسلام انسانی اختیار کے بغیر پیدا ہونے والا واسطہ بتایا گیا ہے
  • حاجت اللہ کی پیدا کردہ ہے؛ میت کا اسلام بندے کا اختیاری فعل بتایا گیا ہے
  • دونوں واسطے انسانی اختیار کے بغیر پیدا شدہ ہیں، اس لیے درجہ بندی میں دونوں کو کالعدم مانا گیا ہے
  • دونوں واسطے بندے کے اختیاری فعل ہیں، اس لیے دونوں حسن لغیرہ کے واسطے برقرار رہتے ہیں

تعاملی کوئز کھولیں