ستر کھلنے کا قانون: چوتھائی (1/4) حصے کی حد
ستر کھلنے کا قانون: چوتھائی (1/4) حصے کی حد کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. ستر کھلنے کا قانون: چوتھائی (1/4) حصے کی حد
وَكَشْفُ رُبُعِ عُضْوٍ مِنْ أَعْضَاءِ الْعَوْرَةِ يَمْنَعُ صِحَّةَ الصَّلَاةِ • بنیادی قانون: اگر نماز کی حالت میں عورہ (پوشیدہ اعضاء) میں سے کسی ایک عضو کا چوتھائی حصہ ننگا ہو جائے، تو نماز باطل ہو جائے گی۔ • وقت کا دورانیہ: ◦ اگر یہ چوتھائی حصہ غیر ارادی طور پر کھل جائے اور اتنی دیر ننگا رہے جس میں نماز کا ایک رکن (جیسے تین بار سبحان ربي العظيم کہنا) ادا کیا جا سکے، تو نماز باطل ہو جائے گی۔ ◦ اگر کھلتے ہی فوراً (ایک رکن کی مدت گزرنے سے پہلے) ڈھانپ لیا جائے، تو نماز صحیح رہے گی۔ • ارادی طور پر کھولنا: اگر نمازی نے خود اپنے ارادے سے ستر کا معمولی حصہ بھی ایک سیکنڈ کے لیے کھولا، تو نماز فوراً باطل ہو جائے گی۔
2. ستر کی حد معلوم کرنے کے لیے اعضاء کی مستقل تقسیم
تَقْسِيمُ أَعْضَاءِ الْعَوْرَةِ إِلَى أَعْضَاءٍ مُسْتَقِلَّةٍ • اعضاء کی مستقل تقسیم: چوتھائی (1/4) کے حساب کے لیے جسم کے اعضاء کو الگ الگ خود مختار عضو مانا گیا ہے: ◦ مرد کے لیے: ران ایک الگ عضو ہے؛ گھٹنا ایک الگ عضو ہے؛ اور دونوں مخصوص اعضاء الگ عضو ہیں۔ ◦ عورت کے لیے: پنڈلی ایک عضو ہے؛ ران ایک عضو ہے؛ کان ایک عضو ہے؛ ہر ایک پستان (چھاتی) ایک الگ عضو ہے؛ اور سر کے بالوں کا لٹکتا حصہ ایک عضو ہے۔ • قانون: اگر عورت کی ایک پنڈلی کا چوتھائی حصہ کھلا تو نماز ٹوٹ جائے گی، لیکن اگر مختلف اعضاء سے بہت تھوڑا کھلا جو مل کر چوتھائی بنے تو اس کی تفصیل حاشیے میں درج ہے۔
3. برہنہ (بے لباس) شخص کی نماز کا طریقہ
وَمَنْ لَمْ يَجِدْ مَا يَسْتُرُ عَوْرَتَهُ صَلَّى جَالِسًا بِالإِيمَاءِ • بے لباسی کا عذر: اگر کسی نمازی کے پاس اپنے ستر کو چھپانے کے لیے کوئی کپڑا، چٹائی یا پتوں جیسا متبادل بالکل موجود نہ ہو (وہ برہنہ ہو): • افضل طریقہ: اس کے لیے افضل اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھے اور اپنے دونوں پاؤں قبلہ رخ پھیلا لے۔ • علت: بیٹھنے کی حالت میں رانوں کے ملنے سے عورہ کا بڑا حصہ خود بخود چھپ جاتا ہے جو کھڑے ہونے میں ننگا رہتا ہے۔ • دوسرا طریقہ: اگر وہ کھڑے ہو کر رکوع اور سجدے کے ساتھ ننگی نماز پڑھے تو بھی نماز جائز ہو جائے گی، لیکن یہ بیٹھنے کے مقابلے میں ناپسندیدہ ہے۔
4. ناپاک کپڑوں والے شخص کی نماز کا حکم
فَإِنْ كَانَ رُبُعُ ثَوْبِهِ طَاهِرًا صَلَّى فِيهِ عُرْيَانًا فِي الأَظْهَرِ • ناپاک کپڑوں کا مسئلہ: اگر کسی شخص کے پاس صرف ایک ہی نجس (ناپاک) کپڑا موجود ہو: ◦ اگر چوتھائی پاک ہو: اگر اس کپڑے کا کم از کم چوتھائی (1/4) حصہ پاک ہو، تو نمازی پر اسی کپڑے کو پہن کر نماز پڑھنا فرض ہے؛ وہ ننگا نماز نہیں پڑھ سکتا۔ ◦ اگر چوتھائی سے کم پاک ہو: اگر پورا کپڑا نجس ہو اور پاک حصہ چوتھائی سے بھی کم ہو: ◦ نمازی کو اختیار ہے کہ وہ اسی ناپاک کپڑے میں نماز پڑھے یا ننگا بیٹھ کر اشارے سے پڑھے۔ ◦ افضل قول: اسی ناپاک کپڑے کو پہن کر نماز پڑھنا ننگے پڑھنے سے زیادہ بہتر اور افضل ہے، کیونکہ نجاستِ حقیقی کا عذر ستر کھولنے کے عذر سے چھوٹا ہے۔
5. ریشم اور مٹی سے ستر پوشی کا متبادل حکم
وَلَا بَأْسَ بِصَلَاةِ الْعَارِي فِي الْحَرِيرِ عِنْدَ عَدَمِ غَيْرِهِ • ریشم کا ریشمی لباس: اگر کسی مرد کے پاس عام کپڑے نہ ہوں اور صرف ریشم کا کپڑا موجود ہو (ریشم مردوں کے لیے عام حالات میں حرام ہے): ◦ حکم: ایسی مجبوری کی حالت میں مرد کا ریشمی لباس پہن کر نماز پڑھنا بلا کسی کراہت کے کامل طور پر جائز ہے۔ • مٹی یا کیچڑ کا متبادل: اگر کسی کے پاس کوئی کپڑا نہ ہو لیکن مٹی یا کیچڑ موجود ہو: ◦ اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے ستر کے مقام پر مٹی یا کیچڑ لیپ کر لے (تاکہ جلد کا رنگ چھپ جائے) اور کھڑے ہو کر نماز پڑھے۔ ◦ شریعت میں ستر کو چھپانے کے لیے مادی اسباب کو ہر ممکن حد تک تلاش کرنا لازم ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
عورہ (پوشیدہ اعضاء) میں سے کسی ایک عضو کا کم از کم کتنا حصہ ننگا رہنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے؟
- ایک تہائی (1/3) حصہ۔
- چوتھائی (1/4) حصہ۔ [82]
- نصف سے زیادہ حصہ۔
- جب تک پورا عضو ننگا نہ ہو۔
سوال 2
اگر نمازی کا ستر غیر ارادی طور پر کھل جائے، لیکن وہ ایک رکن (تین بار تسبیح کہنے) کی مدت گزرنے سے پہلے ہی اسے فوراً ڈھانپ لے، تو اس کی نماز صحیح رہے گی۔
سوال 3
اگر کسی شخص کے پاس نماز پڑھنے کے لیے کوئی کپڑا یا ستر پوشی کا سامان بالکل موجود نہ ہو، تو اس کے لیے نماز پڑھنے کا افضل ترین طریقہ کیا ہے؟
- ننگے کھڑے ہو کر رکوع اور سجدے کے ساتھ نماز پڑھنا۔
- بیٹھ کر اپنے پاؤں قبلہ رخ پھیلا کر اشارے سے نماز پڑھنا۔ [80]
- نماز قضا کر دینا جب تک کپڑے نہ مل جائیں۔
- ان سے نماز کی فرضیت ہی ساقط ہو جاتی ہے۔
سوال 4
اگر کسی مرد کے پاس عام کپڑے نہ ہوں اور صرف خالص ریشمی لباس ہو، تو اس کے لیے ریشم پہن کر نماز پڑھنا حرام ہے اور اسے ننگا نماز پڑھنی ہوگی۔
سوال 5
اگر کسی کا واحد دستیاب کپڑا ناپاک ہو اور اس کا پاک حصہ چوتھائی (1/4) سے بھی کم ہو، تو کیا شرعی حکم ہے؟
- ان پر ننگا نماز پڑھنا فرض ہے اور ناپاک کپڑا پہننا حرام ہے۔
- انہیں اختیار ہے کہ ناپاک کپڑے میں پڑھیں یا ننگے؛ البتہ ناپاک کپڑا پہن کر پڑھنا زیادہ افضل ہے۔ [81]
- انہیں پہلے کپڑے پر تیمم کرنا ہوگا۔
- وہ نماز قضا کر دیں گے۔
سوال 6
درج ذیل بے لباسی اور مجبوری کی حالتوں کو ان کے درست شرعی احکام سے جوڑیں:
سوال 7
چوتھائی (1/4) ستر کھلنے کے قانون کے حساب کے لیے آزاد عورت کے درج ذیل اعضاء کو "مستقل خود مختار عضو" کے خانوں میں ترتیب دیں:
سوال 8
اگر نمازی خود اپنے ارادے سے ستر کا معمولی سا حصہ بھی ایک سیکنڈ کے لیے کھول دے، تو اس کی نماز فوراً باطل ہو جائے گی۔
تعاملی کوئز کھولیں