شہید کی فقہی تعریف اور شرائط

شہید کی فقہی تعریف اور شرائط کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. شہید کی فقہی تعریف اور شرائط

الشَّهِيدُ الْمَقْتُولُ بِأَجَلِهِ عِنْدَنَا أَهْلُ السُّنَّةِ، وَالشَّهِيدُ: مَنْ قَتَلَهُ أَهْلُ الْحَرْبِ أَوْ أَهْلُ الْبَغْيِ أَوْ قُطَّاعُ الطَّرِيقِ، أَوِ اللُّصُوصُ فِي مَنْزِلِهِ لَيْلًا وَلَوْ بِمِثْقَلٍ، أَوْ وُجِدَ فِي الْمَعْرَكَةِ وَبِهِ أَثَرٌ، أَوْ قَتَلَهُ مُسْلِمٌ ظُلْمًا عَمْدًا بِمُحَدَّدٍ • عقیدہ اہلسنت: اہل سنت و جماعت کے نزدیک شہید اپنی موت کے متعین وقت پر ہی فوت ہوتا ہے۔ • شہید کی فقہی تعریف: حنفی فقہ میں وہ بالغ، سمجھدار اور پاک مسلمان شہید کہلاتا ہے جو درج ذیل حالات میں قتل ہو: ◦ جسے کافروں، باغیوں یا ڈاکوؤں نے قتل کیا ہو۔ ◦ جسے رات کے وقت اس کے اپنے گھر میں چوروں نے کسی وزنی چیز سے ہی کیوں نہ قتل کیا ہو۔ ◦ جو جنگ ختم ہونے کے بعد میدانِ جنگ میں اس حال میں پایا جائے کہ اس کے جسم پر زخم یا خون کے نشانات ہوں۔ ◦ جسے کسی مسلمان نے ظلم و زیادتی کرتے ہوئے جان بوجھ کر کسی دھار دار ہتھیار سے قتل کیا ہو (جس سے قصاص لازم آتا ہو)۔

2. غسل کی معافی، خون آلود لباس اور نمازِ جنازہ کا حکم

فَيُكْفَنُ بِدَمِهِ وَثِيَابِهِ، وَيُصَلَّى عَلَيْهِ بِلَا غُسْلٍ، وَيُنْزَعُ عَنْهُ مَا لَيْسَ صَالِحًا لِلْكَفَنِ كَالْفَرْوِ وَالْحَشْوِ وَالسِّلَاحِ وَالدِّرْعِ، وَيُزَادُ وَيُنْقَصُ فِي ثِيَابِهِ • غسل کی معافی: شہید کو غسل نہیں دیا جائے گا، بلکہ اسے اس کے اسی خون آلود حالت میں دفن کیا جائے گا۔ • نمازِ جنازہ کا لزوم: شہید پر نمازِ جنازہ پڑھنا فرض اور لازم ہے (جنازہ معاف نہیں ہے)۔ • کفن کی ہیئت: شہید کو اس کے اپنے ہی خون آلود کپڑوں میں کفنایا جائے گا۔ • کپڑوں میں تبدیلی: ◦ اس کے جسم سے ایسی چیزیں ہٹا دی جائیں گی جو کفن کے لائق نہیں ہیں: جیسے ہتھیار، چمڑے کا بڑا کوٹ، لوہے کی زرہ، روئی دار موٹا لباس اور موزے۔ ◦ اس کے ذاتی کپڑوں میں اگر سنت کے مطابق کمی ہو تو مزید چادر کا اضافہ کیا جائے گا، اور اگر زیادہ ہوں تو کم کیا جائے گا۔

3. مذکور حالات میں غسل کا حکم

وَيُغْسَلُ إِنْ قُتِلَ صَبِيًّا أَوْ مَجْنُونًا أَوْ حَائِضًا أَوْ نُفَسَاءَ أَوْ جُنُبًا... وَإِنْ وُجِدَ مَيِّتًا قَبْلَ انْقِضَاءِ الْحَرْبِ... وَلَمْ يَرِثْ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْحَرْبِ بِأَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَوْ تَدَاوَى • غسل والے حالات: نابالغ، مجنون، یا جنابت، حیض یا نفاس کی حالت میں وفات پانے والے شخص کو غسل دیا جائے گا۔ • زخمی شخص: اگر زخمی شخص وفات سے پہلے کھائے، پیئے، علاج کرائے یا متن کی بیان کردہ دوسری حالت پائے تو غسل کا وہی حکم ہوگا جو متن نے بیان کیا ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

حنفی فقہ کے مطابق، ایک معتبر شہید کے غسل اور نمازِ جنازہ کا شرعی حکم کیا ہے؟

  • غسل اور نمازِ جنازہ دونوں معاف ہیں۔
  • غسل دینا بالکل معاف ہے، لیکن نمازِ جنازہ پڑھنا فرض ہے۔ [197]
  • غسل دینا فرض ہے، لیکن نمازِ جنازہ معاف ہے۔
  • غسل اور نمازِ جنازہ دونوں فرض ہیں۔

سوال 2

شہید کو اس کے اپنے ہی خون آلود جہادی کپڑوں میں کفنا کر دفن کیا جاتا ہے۔

  • سچ [197]
  • جھوٹ

سوال 3

کفنانے سے پہلے شہید کے جسم سے کون سی اشیاء ہٹانا شرعاً لازم ہے؟

  • ان کے قمیص اور شلوار۔
  • ہتھیار، بھاری چمڑے کا کوٹ، لوہے کی زرہ اور چمڑے کے موزے۔ [197]
  • ان کے سجدے کے اعضاء پر کافور لگانا۔
  • جسم کے تمام کپڑے اتار دیئے جائیں گے۔

سوال 4

حنفی مسلک کے صحیح ترین قول کے مطابق، معرکے میں شہید ہونے والے نابالغ بچے یا پاگل شخص کو غسل دینا واجب ہے۔

  • سچ [197]
  • جھوٹ

سوال 5

زخمی شخص کی وفات سے پہلے کون سی مذکور حالت متن کے غسل والے حکم کو لاگو کرتی ہے؟

  • وہ کھائے، پیئے، علاج کرائے یا متن کی دوسری مذکور حالت پائے۔
  • وہ زخمی رہے مگر متن کی بیان کردہ کوئی حالت پیش نہ آئے۔

سوال 6

اگر کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان نے جان بوجھ کر کسی تیز دھار ہتھیار (محدد) سے ظلم کر کے قتل کیا ہو، تو وہ مقتول بھی غسل کی معافی کے ساتھ شہید مانا جاتا ہے۔

  • سچ [196, 197]
  • جھوٹ

سوال 7

مختلف حالتِ شہادت کو ان کے درست غسل کے شرعی احکام سے جوڑیں:

سوال 8

معرکہ ختم ہونے کے بعد اگر کوئی مردہ سپاہی میدانِ جنگ میں پایا جائے، تو کس شرط پر اسے غسل دیئے بغیر دفنایا جائے گا؟

  • کسی بھی حال میں نہیں؛ انہیں غسل دیا جائے گا۔
  • اگر اس کے جسم پر زخم یا خون کے نمایاں نشانات پائے جائیں۔ [196]
  • صرف اس وقت جب وہ قیمتی زرہ پہنے ہوئے ہو۔
  • اگر وہ قبلہ رخ پائے جائیں۔

تعاملی کوئز کھولیں