نماز کا آغاز: ہاتھ اٹھانا اور تحریمہ باندھنا

نماز کا آغاز: ہاتھ اٹھانا اور تحریمہ باندھنا کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. نماز کا آغاز: ہاتھ اٹھانا اور تحریمہ باندھنا

إِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ الدُّخُولَ فِي الصَّلَاةِ أَخْرَجَ كَفَّيْهِ مِنْ كُمَّيْهِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا حِذَاءَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ بِلَا مَدِّ • ہاتھ باہر نکالنا: مرد کے لیے مستحب ہے کہ تکبیر کہنے کے لیے اپنے دونوں ہاتھوں کو آستینوں سے باہر نکالے۔ • ہاتھ اٹھانا: اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک اٹھائے (خواتین اپنے کندھوں تک اٹھائیں گی)۔ • تکبیر کہنا: بغیر کسی مد کے "اللہ اکبر" کہے؛ اگر الف یا ب کو کھینچ کر پکارا گیا (مثلاً آاللہ یا اکبار) تو تحریمہ منعقد نہیں ہوگا اور نماز باطل ہو جائے گی۔ • ہاتھ باندھنا: تکبیر کہتے ہی اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے اوپر ناف کے نیچے باندھ لے (مرد)۔

2. قیام میں تلاوت کی ترتیب اور شرائط

وَيَقْرَأُ الثَّنَاءَ ثُمَّ يَتَعَوَّذُ ثُمَّ يُسَمِّي سِرًّا فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَبْلَ الْفَاتِحَةِ فَقَطْ • ثنا کی تلاوت: ہاتھ باندھنے کے بعد فوراً "ثنا" پڑھے۔ • تعوذ اور تسمیہ: پھر آہستہ آواز میں "اعوذ باللہ" اور "بسم اللہ" پڑھے۔ • بنیادی اصول: ◦ تعوذ: صرف پہلی رکعت میں فجر، ظہر، عصر، عشاء، اور نفل کے آغاز میں پڑھا جائے گا۔ ◦ تسمیہ: ہر رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے آہستہ آواز میں پڑھنا مسنون ہے۔ • سورہ فاتحہ اور سورت: اس کے بعد سورہ فاتحہ پڑھے اور پھر کوئی سورت یا تین آیات ملائے۔

3. رکوع کا درست مسنون طریقہ

ثُمَّ كَبَّرَ رَاكِعًا مُطْمَئِنًّا وَسَبَّحَ فِيهِ ثَلَاثًا وَبَسَطَ ظَهْرَهُ وَتَسْوِيَةُ رَأْسِهِ بِعَجُزِهِ • رکوع میں جانا: سورت مکمل کرنے کے بعد تکبیر (اللہ اکبر) کہتا ہوا رکوع میں جائے۔ • کمر سیدھی کرنا: اپنی پیٹھ (کمر) کو بالکل سیدھا بچھائے اور اپنے سر کو سرین (کولہے) کے برابر رکھے؛ سر کو نہ اوپر اٹھائے اور نہ نیچے جھکائے۔ • گھٹنوں کو پکڑنا: اپنی انگلیوں کو کھلا رکھ کر گھٹنوں کو مضبوطی سے پکڑے۔ • تسبیح: رکوع کی حالت میں اطمینان سے کم از کم تین بار "سبحان ربي العظيم" پکارے۔

4. رکوع سے اٹھنا اور سجدے میں جانے کی ترتیب

ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ قَائِلًا: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ... ثُمَّ كَبَّرَ خَارًّا لِلسُّجُودِ وَسَجَدَ عَلَى أَنْفِهِ وَجَبْهَتِهِ • تسمیع پکارنا: رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے امام یا اکیلا نمازی بلند یا آہستہ آواز میں "سمع اللہ لمن حمدہ" پکارے۔ • تحمید (مقتدی): جب بالکل سیدھا کھڑا ہو جائے (قومہ)، تو مقتدی آہستہ آواز میں "ربنا لك الحمد" پکارے۔ • سجدے میں گرنا: پھر تکبیر کہتا ہوا سجدے میں جائے۔ • زمین پر رکھنے کی ترتیب: سجدے میں جاتے وقت زمین پر پہلے گھٹنے رکھے، پھر ہاتھ رکھے، پھر ناک رکھے، اور آخر میں پیشانی جمائے۔ • تسبیح: سجدے کی حالت میں کم از کم تین بار "سبحان ربي الأعلى" پکارے۔

5. جلسہ اور قاعدہ میں بیٹھنے کا شرعی طریقہ

ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُكَبِّرًا وَجَلَسَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ... وَافْتِرَاشُ رِجْلِهِ الْيُسْرَى وَنَصْبُ الْيُمْنَى لِلرَّجُلِ • دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا: پہلے سجدے سے سر اٹھا کر سیدھا بیٹھے (جلسہ)؛ دونوں سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا واجب ہے۔ • مردوں کے بیٹھنے کا طریقہ: اپنے بائیں پاؤں کو زمین پر بچھائے اور اس پر بیٹھے، اور دائیں پاؤں کو انگلیوں کے بل قبلہ رخ کھڑا رکھے۔ • خواتین کے بیٹھنے کا طریقہ: اپنے دونوں پاؤں کو دائیں طرف باہر نکالے اور بائیں سرین پر زمین پر بیٹھے۔ • تشہد پکارنا: دوسری اور آخری رکعت کے قعدہ میں بیٹھ کر التحیات (تشہد) پڑھے۔

6. سلام پھیرنے کا مسنون طریقہ اور نیتیں

ثُمَّ يُسَلِّمُ يَمِينًا وَيَسَارًا، فَيَقُولُ: "السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ" نَاوِيًا مَنْ مَعَهُ مَعَ الْمَلَائِكَةِ • پہلا سلام پھیرنا: اپنے دائیں طرف چہرہ پھیرتے ہوئے پکارے: "السلام عليكم ورحمة الله"۔ ◦ نیت: دائیں طرف کے نمازیوں، فرشتوں اور نیک جنات کی نیت کرے۔ • دوسرا سلام پھیرنا: اپنے بائیں طرف چہرہ پھیرتے ہوئے دوبارہ پکارے: "السلام عليكم ورحمة الله"۔ ◦ نیت: بائیں طرف کے نمازیوں، فرشتوں اور نیک جنات کی نیت کرے۔ • آخری نظر: سلام پھیرتے وقت اتنی گردن گھمائے کہ پیچھے بیٹھے شخص کو گال کی سفیدی نظر آ سکے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

سجدے میں جاتے وقت اعضاء کو زمین پر رکھنے کی مسنون ترتیب کیا ہے؟

  • پہلے پیشانی، پھر ناک، پھر ہاتھ، پھر گھٹنے۔
  • پہلے ہاتھ، پھر گھٹنے، پھر ناک، پھر پیشانی۔
  • پہلے گھٹنے، پھر ہاتھ، پھر ناک، اور آخر میں پیشانی۔ [95]
  • پہلے گھٹنے، پھر پیشانی، پھر ہاتھ، اور آخر میں ناک۔

سوال 2

اگر کوئی شخص تکبیرِ تحریمہ کے حروف کو کھینچ کر ادا کرے (مثلاً آاللہ یا اکبار پکارے)، تو اس کا تحریمہ منعقد ہو جائے گا اور نماز درست رہے گی۔

  • سچ
  • جھوٹ [93]

سوال 3

حنفی فقہ کے مطابق دونوں صنفوں کو ان کے مخصوص مسنون بیٹھنے کے طریقے (قعدہ) سے جوڑیں:

سوال 4

مرد کے لیے تکبیرِ تحریمہ کہتے وقت اپنے ہاتھوں کو آستینوں کے اندر ہی رکھنا کب جائز یا مسنون ہے؟

  • ہمیشہ، تمام موسموں میں۔
  • صرف نفل نمازوں میں۔
  • صرف شدید سردی یا کسی عذر کی صورت میں، ورنہ عام حالات میں انہیں باہر نکالنا مستحب ہے۔ [93]
  • صرف امام کے پیچھے نماز پڑھتے وقت۔

سوال 5

مقتدی کے لیے نماز میں تسمیع (سمع اللہ لمن حمدہ) اور تحمید (ربنا لك الحمد) دونوں بلند آواز میں کہنا فرض ہے۔

  • سچ
  • جھوٹ [95]

سوال 6

رکوع کی حالت میں سر اور کمر کی مسنون پوزیشن کیا ہونی چاہیے؟

  • سر کو پیٹھ سے کافی اوپر اٹھا کر رکھنا۔
  • سر کو کمر کی سطح سے نیچے جھکا کر رکھنا۔
  • کمر کو بالکل سیدھا بچھایا جائے اور سر کو کولہوں کے برابر سطح پر رکھا جائے۔ [95]
  • رکوع کی حالت کا کوئی مخصوص شرعی طریقہ نہیں ہے۔

سوال 7

چار رکعت والی نماز کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے تعوذ (اعوذ باللہ) پڑھنا واجب ہے۔

  • سچ
  • جھوٹ [95]

سوال 8

نماز کے آخر میں دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرتے وقت دل میں کس کی نیت کرنی چاہیے؟

  • صرف اپنے گھر والوں کی۔
  • دائیں اور بائیں موجود نمازیوں، فرشتوں، اور نیک جنات کی۔ [97]
  • صرف امام کی نیت۔
  • سلام کے وقت کسی نیت کی ضرورت نہیں ہے۔

تعاملی کوئز کھولیں