نمازِ کسوف (سورج گرہن): شرعی حیثیت اور جماعت

نمازِ کسوف (سورج گرہن): شرعی حیثیت اور جماعت کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. نمازِ کسوف (سورج گرہن): شرعی حیثیت اور جماعت

سُنَّ رَكْعَتَانِ كَهَيْئَةِ النَّفْلِ لِلْكُسُوفِ بِإِمَامِ الْجُمُعَةِ أَوْ مَأْمُورِ السُّلْطَانِ، بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ وَلَا جَهْرٍ وَلَا خُطْبَةٍ بَلْ يُنَادَى: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ • بنیادی شرعی حیثیت: سورج گرہن کے وقت دو رکعت نماز پڑھنا سنت ہے۔ یہ نماز دیگر نفل نمازوں کی طرح پڑھی جاتی ہے۔ • جماعت کی شرط: کسوف کی جماعت صرف وہی امام کروا سکتا ہے جو جمعہ کا امام ہو یا سلطان (حکمران) کا مقرر کردہ نمائندہ ہو۔ • اذان و اقامت کی نفی: اس نماز کے لیے نہ تو اذان دی جائے گی اور نہ ہی اقامت کہی جائے گی۔ • منادی کا طریقہ: لوگوں کو بلانے کے لیے "الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ" (نماز باجماعت تیار ہے) پکارا جائے گا۔ • قراءت کا حکم: اس نماز میں جہری (اونچی آواز میں) قراءت نہیں کی جائے گی، اور نہ ہی اس کے بعد کوئی خطبہ ہوگا۔

2. نمازِ کسوف کی تلاوت اور ارکان کی طوالت

وَسُنَّ تَطْوِيلُهُمَا، وَتَطْوِيلُ رُكُوعِهِمَا وَسُجُودِهِمَا • ارکان کی طوالت: کسوف کی دونوں رکعتوں میں قراءت (تلاوت) کو طویل کرنا سنت ہے۔ • رکوع و سجود کی طوالت: نماز کے رکوع اور سجود کو بھی طویل کرنا (لمبا کھینچنا) مسنون ہے۔ • عمومی طریقہ: نمازی طویل سورہ الکافرون، سورہ الاخلاص یا دیگر طویل سورتیں پڑھ سکتے ہیں تاکہ پورا وقت تلاوت اور تسبیح میں گزرے۔

3. نماز کے بعد دعا اور سورج کے صاف ہونے کا انتظار

ثُمَّ يَدْعُو الْإِمَامُ جَالِسًا مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ إِنْ شَاءَ أَوْ قَائِمًا مُسْتَقْبِلَ النَّاسِ، وَيُؤَمِّنُونَ عَلَى دُعَائِهِ حَتَّى يَكْمُلَ انْجِلَاءُ الشَّمْسِ • دعا کی حالت: نماز مکمل کرنے کے بعد امام دعا کروائے گا: ◦ چاہے تو قبلہ رخ منہ کر کے بیٹھ کر دعا کرے۔ ◦ چاہے تو لوگوں کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو کر دعا کرے۔ • مقتدیوں کا عمل: مقتدی امام کی دعا پر "آمین" کہیں گے۔ • دعا کا دورانیہ: یہ دعا اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ سورج گرہن مکمل طور پر ختم نہ ہو جائے اور سورج صاف نہ ہو جائے۔

4. نمازِ خسوف (چاند گرہن) اور دیگر ہولناک آفات کے احکام

وَإِنْ لَمْ يَحْضُرِ الْإِمَامُ صَلَّوْا فُرَادَى كَالْخُسُوفِ، وَالظُّلْمَةِ الْهَائِلَةِ نَهَارًا، وَالرِّيحِ الشَّدِيدَةِ، وَالْفَزَعِ • انفرادی نماز: مجاز امام موجود نہ ہو تو لوگ انفرادی نماز پڑھیں۔ یہی انفرادی صورت چاند گرہن، دن کے ہولناک اندھیرے، شدید ہوا اور خوف کے لیے بیان ہوئی ہے؛ اس مقام پر جماعت مشروع نہیں بتائی گئی۔

مشق کے سوالات

سوال 1

سورج گرہن (کسوف) کی باجماعت نماز پڑھانے کا شرعی مجاز کون ہے؟

  • کوئی بھی مسلمان مرد جو حافظِ قرآن ہو۔
  • صرف جمعہ کا امام یا سلطان (حکومت) کا نامزد کردہ نمائندہ۔ [176]
  • نمازیوں کے لیے ہمیشہ بغیر امام کے اکیلے اکیلے نماز پڑھنا فرض ہے۔
  • عورتوں کی زیرِ قیادت جماعت افضل ہے۔

سوال 2

سورج گرہن کی نماز کے لیے نہ تو اذان پکاری جائے گی، نہ اقامت کہی جائے گی اور نہ ہی کوئی خطبہ دیا جائے گا۔

  • سچ [176]
  • جھوٹ

سوال 3

اذان کی عدم موجودگی میں لوگوں کو سورج گرہن کی نماز کی طرف بلانے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

  • تین بار بلند آواز سے 'حی علی الصلوٰۃ' کہنا۔
  • بلند آواز سے 'الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ' پکارنا۔ [176]
  • نرسنگا بجانا یا گھنٹی بجانا۔
  • کسی قسم کی آواز دینا جائز نہیں، لوگ خود وقت کا اندازہ لگائیں۔

سوال 4

چاند گرہن (خسوف) کے وقت مقتدیوں کا مرکزی مسجد میں جمع ہو کر باجماعت نماز پڑھنا سنت ہے۔

  • سچ
  • جھوٹ [176]

سوال 5

سورج گرہن کی نماز کے بعد امام کو کب تک دعا جاری رکھنی چاہیے؟

  • ٹھیک دس منٹ تک۔
  • یہاں تک کہ گرہن مکمل ختم ہو جائے اور سورج بالکل صاف ہو جائے۔ [176]
  • یہاں تک کہ اگلی فرض نماز کا وقت داخل ہو جائے۔
  • صرف ایک بار سورہ فاتحہ پڑھنے کے دورانیے جتنا۔

سوال 6

شدید طوفانی اندھیری چلنے یا دن کے وقت شدید ہولناک اندھیرا چھا جانے کے وقت اپنے اپنے گھروں میں انفرادی نماز پڑھنا مستحب ہے۔

  • سچ [176]
  • جھوٹ

سوال 7

مختلف گرہن اور آفت کی صورتوں کو ان کے درست حنفی باجماعت احکام سے جوڑیں:

سوال 8

نمازِ کسوف کے درج ذیل اعمال کو 'سنت و مستحب' اور 'ناجائز و مکروہ' کے زمروں میں تقسیم کریں:

تعاملی کوئز کھولیں