انگلی اٹھانے کی ترتیب اور مسنون دعاؤں کے قوانین

انگلی اٹھانے کی ترتیب اور مسنون دعاؤں کے قوانین کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. انگلی اٹھانے کی ترتیب اور مسنون دعاؤں کے قوانین

يَرْفَعُهَا عِنْدَ النَّفْيِ وَيَضَعُهَا عِنْدَ الإِثْبَاتِ، وَالدُّعَاءُ بِمَا يُشْبِهَ أَلْفَاظَ الْقُرْآنِ وَالسُّنَّةِ • تشہد کی انگلی کا قانون: تشہد میں کلمے کی انگلی اٹھانے اور بچھانے کی مسنون ہیئت یہ ہے: ◦ نفی: "لا إله" (کوئی معبود نہیں) کہتے وقت انگلی کو اوپر اٹھائے۔ ◦ اثبات: "إلا الله" (بجز اللہ کے) کہتے وقت انگلی کو واپس بچھا دے۔ • دعاؤں کی زبان: نماز کے آخر میں صرف ایسی دعائیں پڑھنا جائز ہے جو قرآن و سنت میں مروی الفاظ سے مشابہ ہوں۔ • ممانعت: عام انسانی گفتگو سے مشابہ دعائیں (مثلاً "یا اللہ مجھے اتنے پیسے دے دے") پڑھنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔

2. سلام پھیرتے وقت دل میں نیت کرنے کے مسائل

وَنِيَّةُ الإِمَامِ الرِّجَالِ وَالْحَفَظَةَ وَصَالِحَ الْجِنِّ فِي التَّسْلِيمَتَيْنِ • امام کا قاعدہ: امام جب دائیں اور بائیں سلام پھیرے، تو اسے اپنے دل میں دائیں اور بائیں جانب موجود مرد نمازیوں، حفاظت پر مامور فرشتوں اور نیک جنات کو مخاطب کرنے کی نیت کرنی چاہئے۔ • مقتدی کا قاعدہ: مقتدی سلام پھیرتے وقت اس طرف موجود نمازیوں، فرشتوں اور نیک جنات کے ساتھ ساتھ اپنے امام کو بھی سلام کرنے کی نیت کرے گا۔ • اکیلا پڑھنے والا: اکیلا نماز پڑھنے والا شخص دونوں سلام پھیرتے وقت صرف فرشتوں کو سلام کرنے کی نیت کرے گا۔

3. نماز کے آخر میں دونوں سلام پھیرنے کی ترتیب اور آواز

وَخَفْضُ الثَّانِيَةِ عَنِ الأُولَى، وَمُقَارَنَتُهُ لِسَلَامِ الإِمَامِ • آواز کی پچ: دوسرے سلام (بائیں طرف) کی آواز کو پہلے سلام (دائیں طرف) کے مقابلے میں واضح طور پر دھیما (آہستہ) رکھنا سنت ہے۔ • مقتدی کا ربط: مقتدی کا اپنا سلام امام کے سلام کے بالکل متصل ہونا چاہئے؛ جیسے ہی امام پہلا سلام پھیر لے، مقتدی بھی دائیں طرف سلام پھیرے۔ • دائیں سے شروعات: سلام کی ابتدا ہمیشہ دائیں طرف سے کرنا مسنون ہے۔ • مسبوق کا انتظار: دیر سے آنے والا مسبوق امام کے دونوں سلام مکمل ہونے کا انتظار کرے گا اور اس کے بعد ہی اپنی بقیہ نماز کے لیے کھڑا ہوگا۔

4. آدابِ نماز: آستینوں سے ہاتھ نکالنا اور نظر کی مسنون جگہیں

• آستینوں سے ہاتھ نکالنا: تکبیرِ تحریمہ کہتے وقت مرد کے لیے اپنے دونوں ہاتھوں کو آستینوں سے باہر نکال کر اٹھانا ادب ہے۔ (یہ حکم تب ہے جب چادر یا شال اوڑھی ہوئی ہو)۔ • نظر کی پوزیشنیں: قیام، رکوع، سجود اور قعدہ میں نظروں کو درج ذیل مخصوص مقامات پر رکھنا ادب ہے: ◦ کھڑے ہونے کی حالت: اپنی نظریں سجدہ کرنے کی جگہ (موضع سجود) پر جمائے رکھے۔ ◦ رکوع کی حالت: اپنی نظریں اپنے پاؤں کی پشت (ظاهر القدم) پر رکھے۔ ◦ سجدے کی حالت: اپنی نظریں اپنی ناک کی نوک (أرنبة أنفه) پر جمائے رکھے۔ ◦ بیٹھنے کی حالت: اپنی نظریں اپنی گود اور رانوں (حجرہ) پر رکھے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

تشہد کے دوران شہادت کی انگلی کو کب اٹھانا اور کب بچھانا مسنون ہے؟

  • التحیات پر اٹھائے اور المبارکات پر بچھائے۔
  • نفی کے کلمے "لا إله" پر اٹھائے اور اثبات کے کلمے "إلا الله" پر بچھا دے [91].
  • پورے قعدے میں انگلی کھڑی رکھے۔
  • حنفی فقہ میں انگلی اٹھانا منع ہے۔

سوال 2

نماز کے آخر میں عام انسانی بول چال سے ملتی جلتی زبان میں دعا مانگنے (مثلا "یا اللہ مجھے روٹی دے دے") سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

  • سچ
  • جھوٹ [91, 107]

سوال 3

اکیلا نماز پڑھنے والا شخص (منفرد) سلام پھیرتے وقت دل میں کس کو سلام کرنے کی نیت کرے گا؟

  • اپنے امام کو۔
  • جماعت کے دیگر نمازیوں کو۔
  • صرف فرشتوں کو [92].
  • سلام کے وقت نیت کرنا منع ہے۔

سوال 4

بائیں طرف دوسرا سلام پھیرتے وقت دائیں سلام کے مقابلے میں آواز کو دھیما (آہستہ) رکھنا سنت ہے۔

  • سچ [92]
  • جھوٹ

سوال 5

دیر سے جماعت میں شامل ہونے والے مسبوق کے لیے امام کے سلام کے وقت کیا کرنا مسنون ہے؟

  • جیسے ہی امام پہلا سلام شروع کرے، فوراً اٹھ کھڑا ہو۔
  • امام کے دونوں سلام مکمل ہونے کا انتظار کرے اور اس کے بعد کھڑا ہو [92].
  • امام کے ساتھ سلام پھیر کر پوری نماز دوبارہ پڑھے۔
  • براہِ راست سجدے میں چلا جائے۔

سوال 6

تکبیرِ تحریمہ کہتے وقت آستینوں سے ہاتھ باہر نکالنا مرد اور عورت دونوں کے لیے یکساں ادب (ادبِ نماز) ہے۔

  • سچ
  • جھوٹ [92]

سوال 7

نماز کی مختلف حالتوں کو ان کی مسنون نظر جمانے کی جگہوں سے جوڑیں:

سوال 8

مقتدی سلام پھیرتے وقت دل میں کس کو سلام کرنے کی نیت کرے گا؟

  • نمازیوں، فرشتوں، نیک جنات اور جس طرف امام ہو اس طرف اپنے امام کی بھی نیت کرے گا [92].
  • صرف فرشتوں کی نیت کرے گا۔
  • صرف امام کی نیت کرے گا اور نمازیوں کو چھوڑ دے گا۔
  • کوئی نیت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔

تعاملی کوئز کھولیں