نمازِ خوف کے دوران لشکر کو دو حصوں (گروہوں) میں کیوں تقسیم کیا جاتا ہے؟
نمازِ خوف: طریقہ اور دونوں گروہوں کے احکام
- تاکہ آدھی فوج سو سکے۔
- متن میں بیان کردہ دو گروہوں کا طریقہ اختیار کرنے کے لیے، جبکہ ایک گروہ دشمن کے سامنے رہے۔
- کیونکہ ایک باجماعت نماز دس سے زیادہ صفوں پر مشتمل نہیں ہو سکتی۔
- گھڑ سواروں کو پیادہ فوج سے الگ کرنے کے لیے۔