فرضیت کی شرائط، بچوں کی تاکید اور وجوب کا سبب
فرضیت کی شرائط، بچوں کی تاکید اور وجوب کا سبب کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. فرضیت کی شرائط، بچوں کی تاکید اور وجوب کا سبب
يُشْتَرَطُ لِفَرْضِيَّتِهَا ثَلَاثَةُ أَشْيَاءَ: الْإِسْلَامُ، وَالْبُلُوغُ، وَالْعَقْلُ، وَتُؤْمَرُ بِهَا الْأَوْلَادُ لِسَبْعِ سِنِينَ وَتُضْرَبُ عَلَيْهَا لِعَشْرٍ... وَأَسْبَابُهَا أَوْقَاتُهَا • فرضیت کی تین شرائط: کسی بھی انسان پر نماز کا فرض ہونا تین چیزوں پر موقوف ہے: ◦ الإسلام: اس کا مسلمان ہونا۔ ◦ البلوغ: اس کا بالغ ہونا۔ ◦ العقل: اس کا عاقل (صاحبِ عقل) ہونا۔ • بچوں کی تاکید: والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دیں، اور دس سال کی عمر ہونے پر نماز نہ پڑھنے پر ہاتھ سے (ہلکی) سرزنش کریں (لاٹھی یا لکڑی سے مارنے کی اجازت نہیں ہے)۔ • وجوب کا سبب: نماز فرض ہونے کا بنیادی شرعی سبب نماز کا وقت داخل ہونا ہے۔ وقت کے شروع میں نماز کی فرضیت واجبِ موسع (کشادہ وقت) کے طور پر ہوتی ہے۔
2. نمازِ فجر کا وقت اور اس کے حدود
وَالأَوْقَاتُ خَمْسَةٌ: وَقْتُ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ الصَّادِقِ إِلَى قُبَيْلِ طُلُوعِ الشَّمْسِ • فجر کا آغاز: فجر کا وقت الفجر الصادق (دوسری صبح) کے طلوع ہونے سے شروع ہوتا ہے۔ • فجر صادق کی تعریف: یہ وہ چمکدار سفید روشنی ہے جو آسمان کے مشرقی کنارے پر چوڑائی میں پھیلتی ہوئی ظاہر ہوتی ہے (افقی پھیلاؤ)۔ • فجر کا اختتام: فجر کا وقت سورج کا پہلا کنارہ طلوع ہونے سے بالکل پہلے (قبيل طلوع الشمس) ختم ہو جاتا ہے۔ • فجرِ کاذب کا مسئلہ: فجرِ صادق سے پہلے ایک لمبی عمودی روشنی (بھیڑیا کی دم کی طرح) ظاہر ہو کر غائب ہو جاتی ہے، اسے فجرِ کاذب کہتے ہیں؛ اس کا کوئی شرعی اعتبار نہیں ہے اور اس وقت فجر شروع نہیں ہوتی۔
3. نمازِ ظہر کا وقت اور صاحبین کا اختلاف
وَوَقْتُ الظُّهْرِ مِنْ زَوَالِ الشَّمْسِ إِلَى أَنْ يَصِيرَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ أَوْ مِثْلَهُ سِوَى ظِلِّ الِاسْتِوَاءِ • ظہر کا آغاز: ظہر کا وقت زوالِ شمس یعنی سورج کے آسمان کے وسط سے مغرب کی طرف ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے۔ • ظہر کا اختتام - ائمہ کا اختلاف: سورج کے زوال کے وقت جو اصل سایہ ہوتا ہے (جسے ظلِّ استواء یعنی دوپہر کا سایہ کہتے ہیں) اس کے علاوہ: ◦ صاحبین کا موقف (امام ابو یوسف اور امام محمد): جب ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے ایک گنا برابر (مثله) ہو جائے (امام طحاوی نے اسی قول کو اختیار کیا ہے اور یہی عام فتویٰ ہے)۔ ◦ امام اعظم ابو حنیفہ کا موقف: جب ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے دو گنا برابر (مثليه) ہو جائے۔
4. نمازِ عصر کا وقت اور سورج کے پیلے ہونے کا مسئلہ
وَوَقْتُ الْعَصْرِ مِنِ ابْتِدَاءِ الزِّيَادَةِ عَلَى الْمِثْلِ أَوِ الْمِثْلَيْنِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ • عصر کا آغاز: ظہر کا وقت ختم ہوتے ہی عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے، یعنی صاحبین کے نزدیک سائے کے ایک گنا سے زیادتی کے وقت، اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک سائے کے دو گنا سے زیادتی کے وقت۔ • عصر کا اختتام: عصر کا وقت سورج کے مکمل غروب ہونے (غروب الشمس) تک برقرار رہتا ہے۔ • اصفرار (پیلا ہونا) کا مسئلہ: اگرچہ عصر کی نماز سورج ڈوبنے تک جائز ہے، لیکن سورج کا رنگ تبدیل ہونے اور دھوپ پیلی پڑنے کے بعد بلا عذر عصر پڑھنا شدید مکروہِ تحریمی (ناپسندیدہ) ہے۔ تاہم نماز قضا نہیں ہوگی بلکہ ادا مانی جائے گی۔
5. نمازِ مغرب کا وقت اور شفقِ احمر کا فتویٰ
وَالْمَغْرِبِ مِنْهُ إِلَى غُرُوبِ الشَّفَقِ الأَحْمَرِ عَلَى الْمُفْتَى بِهِ • مغرب کا آغاز: مغرب کا وقت سورج کے غروب ہونے سے شروع ہوتا ہے۔ • مغرب کا اختتام: مغرب کا وقت آسمان کے مغربی کنارے سے شفقِ احمر (سرخ چمک) کے غائب ہونے تک رہتا ہے، اور اسی پر حنفی مذہب میں فتویٰ دیا گیا ہے۔ • شفق کی تفصیل: ◦ سورج غروب ہونے کے بعد پہلے آسمان پر سرخ چمک ظاہر ہوتی ہے (شفقِ احمر)، پھر سفید چمک ظاہر ہوتی ہے (شفقِ ابیض)۔ صاحبین کے نزدیک مغرب سرخ چمک کے غائب ہونے پر ختم ہو جاتی ہے، اور حنفی اصحابِ ترجیح نے اسی کو مستند قرار دیا ہے۔
6. نمازِ عشاء اور وتر کا وقت اور ترتیبِ لازم کا قانون
وَالْعِشَاءِ وَالْوِتْرِ مِنْهُ إِلَى الْفَجْرِ، وَلَا يُقَدَّمُ الْوِتْرُ عَلَى الْعِشَاءِ لِلتَّرْتِيبِ اللَّازِمِ • عشاء کا آغاز: عشاء کا وقت شفقِ احمر (سرخ چمک) کے غائب ہونے کے فوراً بعد شروع ہوتا ہے۔ • عشاء اور وتر کا اختتام: ان دونوں کا وقت فجرِ صادق کے طلوع ہونے تک رہتا ہے۔ • وتر اور عشاء کا تعلق (ترتیبِ لازم): ◦ وتر کا وقت بھی وہی ہے جو عشاء کا ہے، لیکن وتر کو عشاء کی فرض نماز پڑھنے سے پہلے ادا کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ ◦ علت: کیونکہ عشاء اور وتر کے درمیان شرعی ترتیب قائم رکھنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ اگر کسی نے بھول کر وتر پہلے پڑھ لیے تو نماز درست ہو جائے گی، لیکن جان بوجھ کر ترتیب توڑنا گناہ ہے۔
7. حنفی فقہ میں دو فرض نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنے کی ممانعت
وَلَا يُجْمَعُ بَيْنِ فَرْضَيْنِ فِي وَقْتٍ بِعُذْرٍ إِلَّا لِلْحَاجِّ فِي عَرَفَةَ... وَمُزْدَلِفَةَ • بنیادی قانون: حنفی فقہ کا ایک انتہائی سخت اور بنیادی قانون یہ ہے کہ کسی بھی عذر (جیسے سفر، بیماری، بارش، یا برف باری) کی وجہ سے دو فرض نمازوں کو ایک وقت میں جمع کر کے پڑھنا جائز نہیں ہے۔ ہر نماز کو اپنے مخصوص وقت میں ہی پڑھنا فرض ہے۔ • شرعی مستثنیات: شریعتِ اسلامیہ میں پورے سال میں صرف دو مقامات پر دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کی اجازت دی گئی ہے: ◦ عرافات (میدانِ عرفات میں حج کے دن): ظہر کے وقت میں ظہر اور عصر کو ملا کر پڑھنا، بشرطیکہ وہ احرام میں ہو اور حج/عرفات کی نماز پڑھانے والے امام کے پیچھے باجماعت پڑھے۔ ◦ مزدلفہ (مزدلفہ کی رات حج کے سفر میں): عشاء کے وقت میں مغرب اور عشاء کو ملا کر پڑھنا۔
مشق کے سوالات
سوال 1
درج ذیل میں سے کون سی چیز نماز فرض ہونے کی تین شرائط میں شامل نہیں ہے؟
- عاقل ہونا [65]
- بالغ ہونا [65]
- سفری برتن کا مالک ہونا
- مسلمان ہونا [65]
سوال 2
حنفی فقہ کے مطابق، سفر کی مشقت کی وجہ سے مسافر کے لیے دورانِ سفر ظہر اور عصر کی نمازوں کو ایک وقت میں ملا کر پڑھنا جائز ہے۔
سوال 3
ظہر کا وقت ختم ہونے کے متعلق ائمہ کے دونوں معتبر فقہی اقوال کو ان کے مفسر سے جوڑیں:
سوال 4
حنفی مذہب میں مغرب کا وقت ختم ہونے کے متعلق کون سا قول مفتیٰ بہ (جس پر فتویٰ دیا گیا ہو) ہے؟
- شفقِ ابیض (سفید چمک) کا غائب ہونا۔
- شفقِ احمر (سرخ چمک) کا افق سے غائب ہونا۔ [66]
- غروبِ آفتاب کے ٹھیک ۴۵ منٹ بعد۔
- جب آسمان پر ستارے چمکنے لگیں۔
سوال 5
وتر کا وقت بعینہٖ عشاء کا وقت ہے، اس لیے انسان کے لیے عشاء کی فرض نماز پڑھنے سے پہلے وتر ادا کرنا شرعاً جائز ہے۔
سوال 6
نمازِ فجر کا درست وقت کس فلکیاتی منظر کے طلوع ہونے سے شروع ہوتا ہے؟
- سورج طلوع ہونے سے۔
- بھیڑیا کی دم کی طرح آسمان پر لمبی عمودی روشنی کے ظاہر ہونے سے۔
- افجرِ صادق کے طلوع ہونے سے، جو افق پر چوڑائی میں پھیلنے والی روشنی ہے۔ [65]
- زوالِ شمس سے۔
سوال 7
سلائیڈ ۲.۲ کی روشنی میں درج ذیل سائل کو "فجر کے وقت کے لیے معتبر" اور "فجر کے وقت کے لیے غیر معتبر" کے خانوں میں تقسیم کریں:
سوال 8
اگر کوئی شخص عصر کی نماز سورج پیلا پڑنے اور دھوپ مدہم ہونے کے بعد پڑھے تو کیا شرعی حکم ہے؟
- نماز سرے سے باطل ہے اور اس کی قضا کرنا فرض ہے۔
- نماز ادا ہو جائے گی لیکن جان بوجھ کر تاخیر کرنے کی وجہ سے یہ عمل شدید ناپسندیدہ ہے۔ [65, 68]
- یہ عصر کا مستحب وقت ہے۔
- وضو کے بجائے تیمم کرنا ہوگا۔
تعاملی کوئز کھولیں