چھٹا اور ساتواں واجب: ناک کا زمین پر ملنا اور دوسرا سجدہ

چھٹا اور ساتواں واجب: ناک کا زمین پر ملنا اور دوسرا سجدہ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. چھٹا اور ساتواں واجب: ناک کا زمین پر ملنا اور دوسرا سجدہ

وَضَمُّ الأَنْفِ لِلْجَبْهَةِ فِي السُّجُودِ، وَالإِتْيَانُ بِالسَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ قَبْلَ الِانْتِقَالِ • چھٹا واجب: سجدہ کرتے وقت پیشانی کے ساتھ ساتھ ناک کی نرم ہڈی کو بھی زمین پر جمانا واجب ہے۔ • ساتواں واجب: ہر رکعت میں پہلا سجدہ کرنے کے بعد دوسرے سجدے کو بلا تاخیر انجام دینا واجب ہے۔ • قاعدہ: پہلے سجدے کے فوراً بعد بغیر کسی رکن یا لمبے وقفے کی حائل ہوئے دوسرا سجدہ کرنا لازم ہے؛ اگر کوئی دوسرا عمل بیچ میں آ گیا تو سجدہ سہو واجب ہو جائے گا۔

2. آٹھواں اور نواں واجب: ارکان میں سکون اور پہلا قعدہ

وَالِاطْمِئْنَانُ فِي الأَرْكَانِ... وَالْقُعُودُ الأَوَّلُ • آٹھواں واجب: نماز کے تمام ارکان (جیسے رکوع، سجود، اور قومہ) میں کم از کم ایک بار "سبحان اللہ" کہنے کے بقدر جسم کو پرسکون اور ساکن رکھنا واجب ہے۔ • نواں واجب: تین یا چار رکعت والی نمازوں میں دوسری رکعت کے سجدوں کے بعد بیٹھنا واجب ہے، جسے "قعدہ اولیٰ" کہا جاتا ہے۔ • حدود: اگر کوئی بھول کر دوسرے سجدے کے بعد قعدہ کیے بغیر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے، تو اس پر آخر میں سجدہ سہو لازم ہوگا۔

3. دسواں اور گیارہواں واجب: قعدہ میں تشہد پڑھنا اور تیسری رکعت کے لیے فوراً اٹھنا

وَقِرَاءَةُ التَّشَهُدِ فِيهِ... وَالْقِيَامُ إِلَى الثَّالِثَةِ مِنْ غَيْرِ تَرَاخٍ • دسواں واجب: پہلے قعدے میں اور آخری قعدے میں مکمل تشہد پڑھنا واجب ہے۔ • گیارہواں واجب: پہلے قعدے میں تشہد مکمل ہوتے ہی بلا تاخیر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہونا واجب ہے۔ • تاخیر کی حد: اگر کوئی شخص تشہد کے بعد بھول کر درود شریف پڑھنے لگے (مثلاً "اللهم صل على محمد" تک پہنچ جائے)، تو اس نے تاخیر کا ارتکاب کیا اور اس پر سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے۔

4. بارہواں اور تیرہواں واجب: تشہد کے الفاظ اور لفظِ سلام کہنا

وَلَفْظُ التَّشَهُدِ، وَلَفْظُ السَّلَامِ دُونَ "عَلَيْكُمْ" • بارہواں واجب: تشہد کی تلاوت کے لیے حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے مروی الفاظ کا بعینہ پڑھنا واجب ہے۔ • تیرہواں واجب: نماز سے باہر نکلنے کے لیے زبان سے لفظ "السلام" کہنا واجب ہے۔ • وضاحت: منہ پھیرتے ہوئے صرف "السلام" کہنا واجب ہے، جبکہ اس کے ساتھ "علیکم" ملانا سنت ہے۔ • اگر کوئی بغیر سلام کہے نماز ختم کرنے والا کوئی عمل کر لے (مثلاً جان بوجھ کر وضو توڑ دے)، تو نماز واجب الاعادہ ہو جاتی ہے۔

5. چودہواں، پندرہواں اور سولہواں واجب: قنوتِ وتر اور عیدین کی تکبیریں

وَقُنُوتُ الْوِتْرِ، وَتَكْبِيرَاتُ الْعِيدَيْنِ، وَتَكْبِيرَةُ الرُّكُوعِ فِي ثَانِيَةِ الْعِيدَيْنِ • چودہواں واجب: نمازِ وتر کی تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے دعاۓ قنوت پڑھنا اور اس کے لیے تکبیر کہنا واجب ہے۔ • پندرہواں واجب: عیدین کی دونوں نمازوں میں زائد چھ تکبیریں (ہر رکعت میں تین تین) کہنا واجب ہے۔ • سولہواں واجب: عید کی نماز کی دوسری رکعت میں، سورت مکمل کرنے کے بعد رکوع میں جانے کے لیے جو تکبیر کہی جاتی ہے، اس کا خاص طور پر کہنا واجب ہے۔

6. سترہواں واجب: امام کا بلند آواز سے تلاوت کرنا

وَجَهْرُ الإِمَامِ بِالْفَجْرِ وَأُولَيَيِ الْعِشَاءَيْنِ وَالْجُمُعَةِ وَالْعِيدَيْنِ وَالتَّرَاوِيحِ وَالْوِتْرِ فِي رَمَضَانَ • بلند آواز: امام کے لیے مخصوص نمازوں میں بلند آواز سے قرات کرنا واجب ہے۔ • بلند آواز والی نمازیں: ◦ فجر کی دونوں رکعتیں۔ ◦ مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتیں (خواہ وہ وقت پر ادا ہوں یا قضا ہو رہی ہوں)۔ ◦ جمعہ کی نماز، عیدین کی نمازیں، اور تراویح کی تمام رکعتیں۔ ◦ رمضان المبارک میں باجماعت پڑھی جانے والی نمازِ وتر۔ • حکم: اگر امام ان میں بلند آواز سے قرات کرنا بھول جائے، تو سجدہ سہو لازم ہوگا۔

7. اٹھارہواں واجب: آہستہ آواز سے تلاوت کرنا

وَالإِسْرَارُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَفِيمَا بَعْدَ أُولَيَيِ الْعِشَاءَيْنِ وَنَفْلِ النَّهَارِ • آہستہ آواز: آہستہ آواز سے قرات کرنا ان نمازوں میں واجب ہے: ◦ ظہر اور عصر کی تمام رکعتوں میں۔ ◦ مغرب کی تیسری رکعت، اور عشاء کی تیسری اور چوتھی رکعت میں۔ ◦ دن کے وقت پڑھی جانے والی تمام نفل نمازوں میں۔ • انفرادی نمازی کا اختیار: اکیلا نماز پڑھنے والا شخص بلند آواز والی نمازوں (فجر، مغرب، عشاء) میں آواز بلند کرنے یا نہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے رات کی نفل نمازوں میں اختیار ہوتا ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

امام کے لیے کس صورت میں بلند آواز سے قرات کرنا واجب ہے؟

  • مغرب کی تیسری رکعت میں۔
  • فجر میں، مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں، جمعہ، عیدین، تراویح اور رمضان کے وتر میں۔ [86]
  • دن کی تمام نفل نمازوں میں۔
  • ظہر اور عصر کی نمازوں میں۔

سوال 2

اگر کوئی نمازی فرض نماز میں پہلا قعدہ کرنا بھول جائے اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے، تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی اور اس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔

  • سچ
  • جھوٹ [85, 153]

سوال 3

پہلے قعدے میں تشہد مکمل ہونے کے بعد کتنی تاخیر کرنے سے سجدہ سہو لازم ہو جاتا ہے؟

  • صرف ایک سانس لینے کی تاخیر۔
  • اتنی تاخیر کہ درود شریف میں "اللهم صل على محمد" تک پڑھ لیا جائے۔ [85]
  • ٹھیک پانچ منٹ۔
  • کسی قسم کی تاخیر پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا۔

سوال 4

آخری قعدے میں تشہد پڑھنا شرعاً فرض ہے۔

  • سچ
  • جھوٹ [85]

سوال 5

نماز سے باہر نکلنے کے لیے زبان سے کم از کم کتنا لفظ کہنا واجب ہے؟

  • صرف لفظ "السلام" کہنا۔ [85]
  • تین بار تسبیح پڑھنا۔
  • "الحمد للہ" کہنا۔
  • "السلام علیکم و رحمۃ اللہ" مکمل کہنا۔

سوال 6

اکیلا نماز پڑھنے والے (منفرد) کے لیے بھی ظہر اور عصر کی نمازوں میں آہستہ تلاوت کرنا واجب ہے۔

  • سچ [86]
  • جھوٹ

سوال 7

سجدے اور قعدہ کے درج ذیل افعال کو ان کے درست شرعی درجات سے جوڑیں:

سوال 8

درج ذیل میں سے کون سا فعل نماز کے اٹھارہ واجبات میں شامل نہیں ہے؟

  • فرض کی پہلی دو رکعتوں میں سورت ملانا۔
  • پہلا قعدہ کرنا۔
  • قبلہ کی طرف رخ کرنا۔ [75, 85]
  • پہلے قعدے میں تشہد پڑھنا۔

تعاملی کوئز کھولیں