قیام سے عاجز ہونے اور رکوع و سجود کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم
قیام سے عاجز ہونے اور رکوع و سجود کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. قیام سے عاجز ہونے اور رکوع و سجود کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم
إِذَا تَعَذَّرَ عَلَى الْمَرِيضِ الْقِيَامُ، أَوْ خَافَ زِيَادَةَ الْمَرَضِ، صَلَّى قَاعِدًا بِرُكُوعٍ وَسُجُودٍ • قائم ہونے سے عاجزی: اگر مریض کے لیے کھڑے ہونا بالکل ناممکن ہو، یا کھڑے ہونے سے بیماری میں شدید اضافے، شفا یابی میں تاخیر یا ناقابلِ برداشت درد کا خوف ہو۔ • بیٹھنے کی حالت: ایسی صورت میں مریض زمین پر بیٹھ کر رکوع اور سجدہ مکمل کرتے ہوئے نماز ادا کرے گا۔ • بیٹھنے کی ہیئت: مریض جس طرح چاہے بیٹھ سکتا ہے، لیکن اگر ممکن ہو تو تشہد کی طرح بیٹھنا زیادہ پسندیدہ ہے۔ • کھڑے ہونے پر معمولی تکلیف یا وہم کی وجہ سے فرض نماز میں قیام چھوڑنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
2. رکوع و سجود سے عاجزی اور اشارے سے نماز پڑھنا
وَإِنْ تَعَذَّرَ الرُّكُوعُ وَالسُّجُودُ صَلَّى قَاعِدًا بِإِيمَاءٍ، وَيَجْعَلُ سُجُودَهُ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِهِ • اشارے کا حکم: اگر مریض بیٹھنے پر قادر ہو لیکن رکوع اور سجدہ کرنے سے بالکل عاجز ہو، تو وہ بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھے گا۔ • اشارے کا طریقہ: وہ اپنے سر کے جھکاؤ کے ذریعے اشارہ کرے گا، اور سجدے کا اشارہ رکوع کے اشارے سے زیادہ نیچا (أخفض) رکھے گا۔ • ممانعت: مریض کے لیے اپنے ماتھے پر سجدہ کروانے کے لیے تکیہ، لکڑی یا کسی بلند چیز کو اٹھا کر اس پر سجدہ کرنا مکروہِ تحریمی ہے۔ • اگر کسی نے بلند چیز پر سجدہ کیا لیکن سجدے کے اشارے کو رکوع سے زیادہ جھکایا تو اشارے کی حد تک نماز درست ہو جائے گی، ورنہ باطل رہے گی۔
3. بیٹھنے سے عاجز ہونے اور لیٹ کر اشارے سے نماز پڑھنے کے احکام
فَإِنْ تَعَذَّرَ الْقُعُودُ أَوْمَأَ مُسْتَلْقِيًا عَلَى ظَهْرِهِ وَرِجْلَاهُ إِلَى الْقِبْلَةِ، وَيُرْفَعُ رَأْسُهُ بِمِخَدَّةٍ لِيَتَوَجَّهَ وَجْهُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ • چت لیٹنے کی حالت: اگر مریض بیٹھنے سے بھی بالکل عاجز ہو جائے، تو وہ چت لیٹ کر اشارے سے نماز پڑھے گا۔ • رخ کی تعیین: چت لیٹتے وقت اس کے پاؤں قبلہ کی طرف رکھے جائیں گے، اور اس کے سر کے نیچے تکیہ رکھ کر سر کو تھوڑا اٹھایا جائے گا تاکہ اس کا چہرہ قبلہ کی طرف متوجہ رہے۔ • کروٹ پر لیٹنا: اگر مریض کروٹ پر لیٹ کر چہرہ قبلہ رخ کر کے اشارہ کرے، تو یہ بھی جائز ہے، لیکن چت لیٹ کر چہرہ قبلہ رخ کرنا حنفی فقہ میں زیادہ افضل (أولى) ہے۔
4. سر سے اشارہ کرنے کی عاجزی اور نماز ساقط ہونے کی حد
فَإِنْ تَعَذَّرَ الْإِيمَاءُ بِالرَّأْسِ أُخِّرَتْ الصَّلَاةُ... فَإِنْ زَادَ عَمَلُ الْإِيمَاءِ عَلَى يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ سَقَطَ الْقَضَاءُ • سر کے اشارے سے عاجزی: اگر مریض کا مرض اتنا شدید ہو جائے کہ وہ اپنے سر سے بھی اشارہ کرنے کے قابل نہ رہے، تو نماز مؤخر (ملتوی) کر دی جائے گی۔ • آنکھ یا ابرو کا اشارہ: حنفی فقہ کے راجح قول کے مطابق آنکھوں، ابرو یا دل کے اشارے سے نماز پڑھنا جائز اور معتبر نہیں ہے۔ • نمازیں ساقط ہونے کا قانون: ◦ اگر سر سے اشارہ کرنے کی معذوری یا بے ہوشی/دیوانگی کا یہ تسلسل پانچ نمازوں سے زیادہ (چھ یا اس سے زائد) وقت تک برقرار رہے، تو قضا کا لزوم ساقط (معاف) ہو جاتا ہے۔ ◦ اگر معذوری پانچ یا اس سے کم نمازوں تک رہے، تو صحت یاب ہونے پر ان نمازوں کی قضا کرنا واجب ہے۔
5. نماز کے دوران مریض کی صحت یابی اور حالت کی تبدیلی کا حکم
وَلَوْ صَلَّى قَاعِدًا بِرُكُوعٍ وَسُجُودٍ لِعِلَّةٍ ثُمَّ صَحَّ قَامَ وَبَنَى عَلَى صَلَاتِهِ • نماز میں تندرستی: اگر کوئی مریض رکوع اور سجدے کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو، اور نماز کے دوران ہی اس کی تکلیف دور ہو جائے اور وہ کھڑے ہونے پر قادر ہو جائے: ◦ وہ فوراً کھڑا ہو جائے گا اور اپنی بقیہ نماز کھڑے ہو کر پوری کرے گا۔ • اشارے سے رکوع و سجود کی طرف: اگر وہ اشارے سے پڑھ رہا تھا، اور نماز کے دوران رکوع و سجود کی قدرت مل گئی: ◦ وہ از سرِ نو (نئے سرے سے) نماز شروع کرے گا، کیونکہ اشارے پر حقیقی رکوع و سجود کی بنیاد رکھنا جائز نہیں ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
کس بیماری کی حالت میں مریض کے لیے فرض نماز بیٹھ کر پڑھنا شرعاً جائز ہوتا ہے؟
- اگر انہیں معمولی سستی یا سر میں ہلکا درد ہو۔
- اگر کھڑے ہونا ناممکن ہو، یا کھڑے ہونے سے مرض میں شدید اضافہ یا ناقابلِ برداشت درد کا خوف ہو۔ [143]
- صرف اسی وقت جب وہ پہلے ہی کروٹ پر لیٹے ہوئے ہوں۔
- اگر وہ ٹرین میں سفر کر رہے ہوں۔
سوال 2
اگر مریض رکوع اور سجدہ کرنے سے عاجز ہو، تو اپنے ماتھے پر سجدہ کروانے کے لیے تکیہ یا کوئی بلند چیز اٹھانا مکروہِ تحریمی ہے۔
سوال 3
اشارے سے نماز پڑھتے وقت رکوع اور سجدے کے اشارے کا صحیح شرعی طریقہ کیا ہے؟
- دونوں اشارے بالکل ایک ہی سطح پر ہونے چاہئیں۔
- سجدے کا اشارہ رکوع کے اشارے سے زیادہ نیچا ہونا لازم ہے۔ [143]
- رکوع کا اشارہ سجدے کے اشارے سے زیادہ نیچا ہونا چاہئے۔
- اشارہ صرف آنکھوں سے ہونا چاہئے۔
سوال 4
اگر مریض سر سے اشارہ کرنے سے بھی عاجز ہو، تو راجح حنفی قول کے مطابق وہ آنکھوں یا ابرو کے اشارے سے نماز پڑھ سکتا ہے۔
سوال 5
سر سے اشارہ کرنے کی عاجزی یا بے ہوشی کے تسلسل کی وہ کیا شرعی حد ہے جس سے نمازوں کی قضا مکمل طور پر معاف ہو جاتی ہے؟
- ٹھیک دو نمازیں۔
- پانچ نمازوں سے زیادہ (یعنی چھ یا اس سے زائد)۔ [144, 145]
- ٹھیک چوبیس گھنٹے۔
- بیمار ہونے کی صورت میں نماز کی قضا کبھی معاف نہیں ہوتی۔
سوال 6
اگر مریض چت لیٹ کر نماز پڑھ رہا ہو، تو اس کے پاؤں قبلہ رخ رکھے جائیں گے اور سر کے نیچے تکیہ رکھ کر اسے تھوڑا اٹھایا جائے گا۔
سوال 7
بیماری کی مختلف حالتوں کو ان کے درست فقہی طریقوں اور تقاضوں سے جوڑیں:
سوال 8
درج ذیل کیفیات کو "نمازوں کی قضا کرنا فرض ہے" اور "نمازوں کی قضا ساقط (معاف) ہے" کے خانوں میں تقسیم کریں:
تعاملی کوئز کھولیں