تسمیہ، آمین کہنا، اور تکبیر کے وقت سر کی سیدھی پوزیشن

تسمیہ، آمین کہنا، اور تکبیر کے وقت سر کی سیدھی پوزیشن کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. تسمیہ، آمین کہنا، اور تکبیر کے وقت سر کی سیدھی پوزیشن

• تسمیہ: ہر رکعت کے آغاز میں سورہ فاتحہ سے پہلے آہستہ آواز میں "بسم اللہ." پڑھنا سنت ہے۔ • آمین: سورہ فاتحہ ختم ہونے پر امام اور مقتدی دونوں کے لیے آہستہ آواز میں "آمین" کہنا سنت ہے۔ • تحمید: رکوع سے اٹھتے وقت آہستہ آواز میں "ربنا لک الحمد" کہنا سنت ہے۔ • سیدھی پوزیشن: تکبیرِ تحریمہ کہتے وقت سر کو آگے جھکانے یا پیچھے اکڑانے کے بجائے بالکل سیدھا رکھنا سنت ہے۔

2. امام کی تکبیریں اور قیام میں پاؤں کے درمیان چار انگلیوں کا فاصلہ

وَجَهْرُ الإِمَامِ بِالتَّكْبِيرِ، وَتَفْرِيقُ الْقَدَمَيْنِ فِي الْقِيَامِ قَدْرَ أَرْبَعِ أَصَابِعَ • بلند آواز تکبیریں: امام کے لیے نماز کی حالتیں بدلتے وقت کہی جانے والی تمام تکبیریں اور سمیع اللہ بلند آواز سے پکارنا سنت ہے۔ • پاؤں کا فاصلہ: قیام (کھڑے ہونے) کی حالت میں دونوں پاؤں کے درمیان چار انگلیوں کا فاصلہ رکھنا سنت ہے۔ • وجہ: یہ فاصلہ جسم کی طبعی بناوٹ اور سکون کے لحاظ سے موزوں ترین ہے اور بلا ضرورت پاؤں بہت زیادہ چوڑے کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

3. مقیم اور مسافر کے لیے سورتوں کے انتخاب کے اصول

أَنْ تَكُونَ السُّورَةُ مِنْ طَوَالِ الْمُفَصَّلِ... أَوْ أَوْسَاطِهِ... أَوْ قِصَارِهِ • مقیم کا قاعدہ: مقیم شخص کے لیے نمازوں میں سورتوں کا انتخاب درج ذیل حصوں میں سے کرنا سنت ہے: ◦ طوالِ مفصل: سورہ حجرات سے بروج تک۔ یہ فجر اور ظہر کے لیے ہیں۔ ◦ اوساطِ مفصل: سورہ طارق سے بینہ تک۔ یہ عصر اور عشاء کے لیے ہیں۔ ◦ قصارِ مفصل: سورہ زلزال سے ناس تک۔ یہ مغرب کے لیے ہیں۔ • مسافر کا قاعدہ: مسافر کے لیے سورتوں کی یہ تحدید نہیں ہے؛ وہ اپنی سہولت کے مطابق قرآن کے کسی بھی حصے سے تلاوت کر سکتا ہے۔

4. فجر کی پہلی رکعت کو طویل کرنے کا قانون

وَإِطَالَةُ الأُولَى فِي الْفَجْرِ فَقَطْ • پہلی رکعت کی طوالت: فجر کی نماز کی پہلی رکعت کو دوسری رکعت کے مقابلے میں واضح طور پر طویل کرنا سنت ہے۔ • مقصد: چونکہ صبح کا وقت غفلت کا ہوتا ہے، اس لیے پہلی رکعت کو طویل کرنے کا شرعی مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اور دیر سے آنے والے بھی جماعت کی پہلی رکعت میں شامل ہو سکیں۔ • یہ طوالت کا قانون صرف فجر کی نماز کے لیے مخصوص ہے؛ بقیہ چار نمازوں کی پہلی اور دوسری رکعتیں قرات کے لحاظ سے تقریباً برابر ہونی چاہئیں۔

5. رکوع کی سنتیں: پیٹھ کو سیدھا کرنا اور ٹانگیں کھڑی رکھنا

وَأَخْذُ رُكْبَتَيْهِ بِيَدَيْهِ حَالِ الرُّكُوعِ، وَنَصْبُ سَاقَيْهِ، وَبَسْطُ ظَهْرِهِ • گرفت: رکوع کی حالت میں دائیں اور بائیں ہاتھ سے اپنے دونوں گھٹنوں کو مضبوطی سے پکڑنا سنت ہے۔ • ٹانگیں کھڑی کرنا: اپنی پنڈلیوں اور ٹانگوں کو بالکل سیدھا اور کھڑا رکھنا مسنون ہے؛ انہیں آگے یا پیچھے کی طرف جھکنے نہ دے۔ • پیٹھ کا پھیلاؤ: اپنی پیٹھ اور کمر کو بالکل فلیٹ (سیدھا) پھیلانا سنت ہے۔ • سر کی سیدھ: اپنے سر کو کولہوں (مقعد) کے بالکل متوازی اور برابر رکھے، نہ سر اونچا رکھے اور نہ نیچے لٹکائے۔

6. رکوع میں انگلیوں کے پھیلاؤ میں مرد اور عورت کا فرق

مُفَرَّجَتَيِ الأَصَابِعِ، وَالْمَرْأَةُ لَا تُفَرِّجُهَا • مردوں کی سنت: گھٹنوں کو پکڑتے وقت مرد اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو پھیلا کر رکھے گا (مفرّجتین) تاکہ گھٹنوں پر مضبوط گرفت حاصل ہو۔ • عورتوں کی سنت: عورت اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے وقت اپنی انگلیوں کو پھیلائے گی نہیں بلکہ بند رکھے گی۔ • عورت کے لیے رکوع میں پیٹھ کو بالکل سیدھا پھیلانا مسنون نہیں ہے، بلکہ وہ پیٹھ کو تھوڑا سا جھکائے گی جس سے اس کا طبعی پردہ برقرار رہے۔

7. سجدے میں جانے اور اٹھنے کی مسنون ترتیب

وَوَضْعُ رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ يَدَيْهِ ثُمَّ وَجْهِهِ لِلسُّجُودِ، وَعَكْسُهُ لِلنُّهُوضِ • سجدے میں جانے کی ترتیب: سجدے میں جاتے وقت جسم کے اعضاء کو اس مسنون ترتیب سے زمین پر رکھنا سنت ہے: ◦ سب سے پہلے دونوں گھٹنے رکھے۔ ◦ پھر دونوں ہاتھ رکھے۔ ◦ پھر اپنا چہرہ (پہلے ناک اور پھر پیشانی) رکھے۔ • سجدے سے اٹھنے کی ترتیب: کھڑے ہوتے وقت اس کی بالکل برعکس ترتیب ہونی چاہئے: ◦ پہلے اپنا چہرہ زمین سے اٹھائے۔ ◦ پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ ◦ پھر اپنے دونوں گھٹنے اٹھا کر کھڑا ہو جائے۔

8. سجدے میں مرد اور عورت کے جسمانی تناسب کا فرق

وَمُجَافَاةُ الرَّجُلِ بَطْنَهُ عَنْ فَخِذَيْهِ، وَمِرْفَقَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ • مردوں کا طریقہ: سجدے کی حالت میں مرد اپنے اعضاء کو دور اور کھلا رکھے گا: ◦ اپنے پیٹ کو رانوں سے دور رکھے۔ ◦ اپنے دونوں کہنیوں کو پہلوؤں سے باہر نکال کر رکھے۔ ◦ اپنے بازوؤں کو زمین پر گرانے کے بجائے اٹھا کر رکھے۔ • عورتوں کا طریقہ: عورت سجدے میں اپنے اعضاء کو سکیڑ کر (ملا کر) رکھے گی: ◦ اپنے پیٹ کو اپنی رانوں کے ساتھ بالکل ملا کر چمٹا لے۔ ◦ اپنے بازوؤں کو پہلوؤں کے ساتھ بند رکھے اور انہیں زمین پر فلیٹ بچھا دے۔

9. قعدہ میں بیٹھنے کا طریقہ: افتراش اور تورک

وَافْتِرَاشُ رِجْلِهِ الْيُسْرَى وَنَصْبُ الْيُمْنَى، وَتَوَرُّكُ الْمَرْأَةِ • مردوں کی سنت: دونوں قعدوں اور سجدوں کے درمیان بیٹھتے وقت مرد اپنے بائیں پاؤں کو زمین پر بچھا کر اس کے اوپر بیٹھے گا، اور اپنے دائیں پاؤں کو انگلیوں کے بل سیدھا کھڑا رکھے گا۔ • عورتوں کی سنت: عورت اپنے بائیں کولہے (مقعد) کو زمین پر رکھے گی، اور اپنے دونوں پاؤں بائیں ران کے نیچے سے نکال کر دائیں طرف باہر نکال دے گی، اسے "تورّک" کہتے ہیں۔ • شہادت کی انگلی اٹھانا: تشہد پڑھتے وقت "لا إله" (لا پر) کلمے کی انگلی اٹھائے اور "إلا الله" (إلا پر) اسے واپس بچھا دے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

قیام کی حالت میں دونوں پاؤں کے درمیان کتنا فاصلہ رکھنا سنت ہے؟

  • دونوں پاؤں بالکل آپس میں ملے ہونے چاہئیں۔
  • پاؤں کے درمیان چار انگلیوں کا فاصلہ۔ [89]
  • ٹھیک ایک گز کا فاصلہ۔
  • پاؤں کی دوری کی کوئی حد نہیں ہے۔

سوال 2

مسافر کے لیے بھی روزمرہ کی نمازوں میں طوال، اوساط یا قصارِ مفصل کے اصول کے مطابق سورتیں منتخب کرنا شرعاً سنت ہے۔

  • سچ
  • جھوٹ [89]

سوال 3

مقیم شخص کے لیے مغرب کی نماز میں قرآن کے کس حصے (مفصل) سے تلاوت کرنا سنت ہے؟

  • طوالِ مفصل (طویل سورتوں) سے۔
  • اوساطِ مفصل (درمیانی سورتیں)۔
  • قصارِ مفصل (چھوٹی سورتوں، یعنی سورہ زلزال سے ناس تک) سے۔ [89]
  • سورہ بقرہ کا کوئی بھی حصہ۔

سوال 4

دوسری رکعت کے مقابلے میں پہلی رکعت کی قرات کو طویل کرنا صرف فجر کی نماز کے لیے مخصوص سنت ہے۔

  • سچ [90]
  • جھوٹ

سوال 5

سجدے میں جاتے وقت زمین پر اعضاء رکھنے کی درست مسنون ترتیب کیا ہے؟

  • پہلے ہاتھ، پھر گھٹنے، اور آخر میں چہرہ۔
  • پہلے گھٹنے، پھر ہاتھ، اور آخر میں چہرہ [90].
  • پہلے چہرہ، پھر ہاتھ، اور آخر میں گھٹنے۔
  • تمام اعضاء ایک ساتھ گرائے جائیں گے۔

سوال 6

رکوع کی حالت میں عورت پر بھی سنت ہے کہ وہ مرد کی طرح اپنی کمر کو بالکل زمین کے برابر فلیٹ سیدھا کرے اور ٹانگیں تان کر رکھے۔

  • سچ
  • جھوٹ [90]

سوال 7

نماز کے قعدوں میں بیٹھتے وقت عورت کے لیے کون سا مسنون طریقہ مقرر ہے؟

  • افتراش (بائیں پاؤں پر بیٹھنا)۔
  • تورّک (بائیں کولہے پر زمین پر بیٹھنا اور دونوں پاؤں دائیں طرف باہر نکالنا)۔ [90]
  • چار زانو ہو کر بیٹھنا۔
  • گھٹنوں پر سیدھا کھڑا رہنا۔

سوال 8

سجدے کی حالت میں درج ذیل جسمانی پوزیشنوں کو مرد اور عورت کی مناسبت سے جوڑیں:

تعاملی کوئز کھولیں