نمازِ وتر کا شرعی حکم اور اس کی رکعتوں کی تعداد
نمازِ وتر کا شرعی حکم اور اس کی رکعتوں کی تعداد کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. نمازِ وتر کا شرعی حکم اور اس کی رکعتوں کی تعداد
الْوِتْرُ وَاجِبٌ، وَهُوَ ثَلَاثُ رَكَعَاتٍ بِتَسْلِيمَةٍ • شرعی حکم: حنفی فقہ میں نمازِ وتر کا درجہ واجب ہے، جو کہ فضل اور اہمیت میں فرض کے قریب ہے۔ ◦ وتر کو جان بوجھ کر چھوڑنا گناہ ہے، اور اس کی قضا پڑھنا لازم ہے۔ • رکعتوں کی تعداد: وتر کی تین رکعتیں ہوتی ہیں جو آخر میں صرف ایک سلام کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔ ◦ حنفی مسلک میں دو رکعت پر سلام پھیر کر الگ کرنا (جیسے دیگر مذاہب میں ہے) جائز نہیں ہے۔
2. وتر میں قرات کی شرائط اور پہلا قعدہ
وَيَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ مِنْهُ الْفَاتِحَةَ وَسُورَةً، وَيَجْلِسُ عَلَى رَأْسِ الْأُولَيْنِ وَيَقْتَصِرُ عَلَى التَّشَهُّدِ • قرات کا حکم: وتر کی تینوں رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی دوسری سورت یا کم از کم تین آیات ملانا واجب ہے۔ ◦ (یاد رہے کہ فرض نمازوں میں صرف پہلی دو رکعتوں میں سورت ملانا واجب ہوتا ہے)۔ • قعدہ اولی: دو رکعتیں مکمل کرنے کے بعد بیٹھنا واجب ہے۔ ◦ حدود: اس بیٹھک میں صرف تشہد (التحیات) پڑھے گا اور درود شریف پڑھے بغیر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے گا۔
3. دعائے قنوت کا طریقہ اور تکبیرِ قنوت
فَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا رَفَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ ثُمَّ قَنَتَ قَائِمًا قَبْلَ الرُّكُوعِ فِي جَمِيعِ السَّنَةِ • تکبیرِ قنوت: تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ اور سورت پڑھنے کے بعد، رکوع میں جانے سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے اور بلند آواز سے "اللہ اکبر" کہے۔ • قنوت کا وقت: ہاتھ باندھنے کے بعد کھڑے ہو کر رکوع سے پہلے (قنوتِ قبل الرکوع) دعا پڑھے۔ • دیرپا حکم: قنوت کا عمل سال کے تمام دنوں میں واجب ہے اور صرف رمضان کے ساتھ مخصوص نہیں۔ • دعا کے الفاظ: مسنون دعا "اللهم إنا نستعينك..." پڑھی جا سکتی ہے؛ جسے یہ یاد نہ ہو وہ "ربنا آتنا..." پڑھ سکتا ہے۔ واجب قنوت کا عمل ہے، کسی ایک مخصوص دعا کے الفاظ نہیں۔
4. دعائے قنوت بھول جانا اور باجماعت وتر کا حکم
وَيُصَلِّي بِجَمَاعَةٍ فِي رَمَضَانَ فَقَطْ، وَلَا يَقْنُتُ فِي غَيْرِ الْوِتْرِ • قنوت بھولنے کا حکم: اگر کوئی نمازی تیسری رکعت میں دعائے قنوت پڑھنا بھول جائے اور رکوع میں چلا جائے: ◦ وہ رکوع کے اندر یا رکوع سے اٹھنے کے بعد قنوت کی دعا نہ پڑھے۔ ◦ سجدہ سہو کے ذریعے اس غلطی کی تلافی کرنا واجب ہے۔ • باجماعت وتر کا حکم: وتر کی نماز باجماعت پڑھنا صرف رمضان المبارک کے مہینے میں مشروع (مسنون) ہے۔ ◦ رمضان کے علاوہ باقی پورے سال وتر کی نماز اکیلے ہی پڑھی جائے گی۔ • نازلہ (آفت) کے علاوہ عام نمازوں میں دعائے قنوت پڑھنا حنفی مسلک میں مشروع نہیں ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
حنفی فقہ میں وتر کی نماز کا شرعی درجہ کیا ہے؟
- فرضِ عین
- واجب ہے۔ [126]
- سنتِ مؤکدہ ہے۔
- نفل ہے۔
سوال 2
حنفی فقہ کے مطابق وتر کی تینوں رکعتیں مسلسل پڑھی جاتی ہیں اور صرف آخر میں ایک سلام پھیرا جاتا ہے۔
سوال 3
وتر کی کون سی رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملانا واجب ہے؟
- صرف پہلی دو رکعتوں میں۔
- صرف تیسری رکعت میں۔
- تینوں رکعتوں میں۔ [126]
- وتر میں سورت ملانا واجب نہیں ہے۔
سوال 4
وتر کے پہلے قعدے میں نمازی پر لازم ہے کہ وہ صرف تشہد (التحیات) پڑھے اور درود شریف پڑھے بغیر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے۔
سوال 5
وتر کی نماز میں دعائے قنوت کب پڑھی جاتی ہے؟
- تیسری رکعت میں کھڑے ہو کر رکوع میں جانے سے پہلے۔ [126]
- تیسری رکعت کے رکوع کے اندر۔
- آخری قعدہ میں تشہد کے بعد۔
- دوسری رکعت کے رکوع سے اٹھنے کے بعد۔
سوال 6
وتر کی نماز باجماعت ادا کرنا سال کے تمام مہینوں میں مسنون ہے، رمضان کے علاوہ بھی۔
سوال 7
اگر کوئی نمازی وتر کی تیسری رکعت میں قنوت بھول جائے اور رکوع میں جا کر یاد آئے تو اسے کیا کرنا چاہیے؟
- وہ فوراً کھڑا ہو جائے، قنوت پڑھے اور دوبارہ رکوع کرے۔
- وہ رکوع جاری رکھے، قنوت نہ پڑھے اور آخر میں سجدہ سہو کر کے تلافی کرے۔ [127, 128]
- نماز ٹوٹ گئی ہے اور انہیں نئے سرے سے پڑھنی ہوگی۔
- انہیں رکوع کے اندر ہی آہستہ سے قنوت پڑھ لینی چاہیے۔
سوال 8
وتر کی نماز کے درج ذیل اجزاء کو ان کے درست حنفی شرعی احکام سے جوڑیں:
تعاملی کوئز کھولیں