کنویں کی پاکی: مکمل پانی نکالنے کے احکام

کنویں کی پاکی: مکمل پانی نکالنے کے احکام کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. کنووں کی پاکی کا باب: چھوٹے کنویں کی تعریف

• بنیادی شرعی دائرہ: حنفی فقہ میں کنووں کی ناپاکی اور پاکی کے احکام کا انحصار ان کے حجم (سائز) پر ہے۔ • چھوٹے کنویں کی تعریف: وہ کنواں جس کا چوڑان (سطح کا رقبہ) دس بائی دس گز سے کم ہو ("ما دون عشر في عشر")۔ • حکم: اس حجم کے کنویں کا پانی شرعاً 'قائم و ساکت' مانا جاتا ہے۔ اس میں ناپاکی گرنے سے سارا پانی ناپاک ہو جاتا ہے، جبکہ اس سے بڑے یا جاری کنویں کا حکم بہتے پانی جیسا ہوتا ہے۔

2. پہلی وجہ: غیر جاندار نجاست کا گرنا (خون یا شراب کی بوند)

اصل متن تَنْزَحُ الْبِئْرُ الصَّغِيرَةُ بِوُقُوعِ نَجَاسَةٍ وَإِنْ قَلَّتْ كَقَطْرَةِ دَمٍ أَوْ خَمْرٍ • اصول: اگر کسی چھوٹے کنویں میں کوئی غیر جاندار ظاہری ناپاکی گر جائے، خواہ وہ مقدار میں کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو: • مثال: جیسے خون کا ایک قطرہ، پیشاب کی بوند، منی کا قطرہ، یا شراب کا قطرہ۔ • حکم: اس معمولی نجاست کی وجہ سے کنویں کا پورا پانی نجس (ناپاک) ہو جائے گا اور اسے پاک کرنے کے لیے سارے پانی کو باہر نکالنا (خارج کرنا) فرض ہو جائے گا۔

3. دوسری وجہ: نجس العین جانور (خنزیر/سور) کا کنویں میں گرنا

اصل متن وَبِوُقُوعِ خِنْزِيرٍ وَلَوْ خَرَجَ حَيًّا وَلَمْ يُصِبْ فَمُهُ الْمَاءَ • مسائل کا نقشہ: اگر کنویں میں خنزیر گر جائے: • حکم: کنویں کا سارا پانی ناپاک ہو جائے گا اور کنویں کی تطہیر کے لیے مکمل پانی کا نکالنا لازم ہوگا۔ • حتیٰ کہ اگر وہ خنزیر زندہ باہر نکل آئے اور اس کا منہ پانی کو نہ بھی چھوا ہو، تب بھی کنواں ناپاک مانا جائے گا۔ کیوں؟ • علت: کیونکہ خنزیر 'نجس العین' (سراپا ناپاک) ہے؛ اس کا جسم، بال اور جلد پانی میں گرتے ہی اسے ناپاک کر دیتے ہیں۔

4. تیسری وجہ: بڑے جانور کا کنویں میں مر جانا

اصل متن وَبِمَوْتِ كَلْبٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ آدَمِيٍّ فِيهَا • مسائل کا نقشہ: اگر کنویں میں کوئی بڑا جاندار گر کر مر جائے اور وہیں پھولنے سے پہلے ہی نکال لیا جائے: • مثال: جیسے کتا، بکری یا بھیڑ، یا کوئی انسان۔ • حکم: اس بڑے جاندار کے مرنے کی وجہ سے کنویں کا پورا پانی ناپاک ہو جاتا ہے اور پورا پانی نکالنا فرض ہو جاتا ہے۔ • کتے کا تھوک ناپاک ہے، اور بھیڑ اور غیر غسل یافتہ انسان کے جسمانی رطوبات اور موت پانی کو نجس کر دیتے ہیں۔

5. چوتھی وجہ: کسی بھی مردہ جانور کا کنویں میں پھول جانا یا گل جانا

اصل متن وَبِانْتِفَاخِ حَيَوَانٍ وَلَوْ صَغِيرًا • مسائل کا نقشہ: اگر کنویں میں کوئی جانور مر جائے اور وہ کنویں کے اندر ہی پھول جائے یا گل سڑ جائے: • حکم: کنویں کا سارا پانی ناپاک ہو جائے گا اور پورا پانی نکالنا فرض ہوگا۔ • چاہے وہ جانور کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو (جیسے معمولی چوہا، چھپکلی یا چڑیا)۔ • وجہ: کیونکہ لاش کے پھولنے یا پھٹنے سے اس کی اندرونی ناپاک رطوبات اور خون پانی میں شامل ہو جاتے ہیں جو اسے شدید نجس کر دیتے ہیں۔

6. کنویں کا سارا پانی نکالنا ناممکن ہونے کا حکم

اصل متن وَمِائَتَا دَلْوٍ لَوْ لَمْ يُمْكِنْ نَزْحُهَا • مسائل کا نقشہ: اگر کنواں کسی چٹان پر ہو یا اس کے نیچے بہتا چشمہ ہو، جس کی وجہ سے جتنا بھی پانی نکالا جائے وہ ختم نہ ہو اور سارا پانی نکالنا ناممکن ہو جائے: • حکم: حنفی مذہب میں اہل ترجیح کا مستند فیصلہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں کنویں سے دو سو ڈول پانی نکال لینا شرعاً کافی ہوگا اور کنواں پاک ہو جائے گا۔ • ڈول کا معیار: ڈول اسی کنویں کا مخصوص ڈول ہوگا؛ اگر مخصوص ڈول نہ ہو تو درمیانے سائز کا عام ڈول استعمال کیا جائے گا۔

مشق کے سوالات

سوال 1

حنفی فقہ میں 'چھوٹے کنویں' کی شرعی تعریف کیا ہے؟

  • وہ کنواں جس میں ۱۰۰ ڈول سے کم پانی ہو۔
  • وہ ساکن پانی جس کا سطح کا رقبہ دس گز چوڑے اور دس گز لمبے سے کم ہو۔
  • وہ کنواں جو ۱۰ میٹر سے زیادہ گہرا ہو۔
  • وہ کنواں جو براہِ راست دریائے نیل سے جڑا ہو۔

سوال 2

اگر کسی چھوٹے کنویں میں شراب یا خون کا ایک قطرہ بھی گر جائے، تو پورا کنواں ناپاک ہو جاتا ہے اور سارا پانی نکالنا فرض ہوتا ہے۔

سوال 3

اگر کنویں میں خنزیر گر جائے اور اسے زندہ باہر نکال لیا جائے اور اس کا منہ پانی سے نہ لگا ہو، تو کیا حکم ہے؟

  • کنواں پاک رہے گا کیونکہ خنزیر زندہ نکل گیا۔
  • کنویں کا پورا پانی نکالنا لازم ہوگا کیونکہ خنزیر سراپا ناپاک (نجس العین) ہے۔
  • صرف ۲۰ ڈول نکالنا کافی ہے۔
  • صرف کنویں کے کنارے کو صاف کرنا کافی ہے۔

سوال 4

اگر کوئی انسان یا بھیڑ کنویں میں مر جائے، تو پورا پانی نکالنا لازم ہوتا ہے، خواہ لاش پھولی اور گلی سڑی نہ ہو۔

سوال 5

اگر کوئی چھوٹا جانور (جیسے چوہا) کنویں میں مر جائے اور وہیں پھول جائے یا پھٹ جائے، تو پاکی کا کیا طریقہ ہے؟

  • صرف ۲۰ ڈول پانی نکالنا۔
  • کنویں کا پورا پانی باہر نکالنا۔
  • لاش کو دھو کر واپس کنویں میں ڈال دینا۔
  • کسی طہارت کی ضرورت نہیں کیونکہ جانور چھوٹا ہے۔

سوال 6

اگر کنواں کسی چٹان یا بہتے چشمے پر ہو اور اس کا سارا پانی نکالنا ناممکن ہو، تو کنویں کی پاکی کا حکم سرے سے ساقط ہو جاتا ہے اور پانی خود بخود پاک مانا جاتا ہے۔

سوال 7

کنویں میں جانوروں کے گرنے اور مرنے کی مختلف حالتوں کو ان کے درست شرعی احکام سے جوڑیں:

سوال 8

سارا پانی نکالنا ناممکن ہونے کی صورت میں، ۲۰۰ ڈول گنتی کرنے کے لیے ڈول (بالٹی) کا سائز کیسے مقرر کیا جائے گا؟

  • اسی کنویں کا مخصوص ڈول، اور اگر نہ ہو تو درمیانے سائز کا عام ڈول۔
  • اس شہر کا سب سے بڑا ڈول یا بالٹی۔
  • فی بالٹی ٹھیک ۱ لیٹر مقرر کیا جائے گا۔
  • گھر کا کوئی بھی برتن یا پیالہ۔

تعاملی کوئز کھولیں