کنویں کی پاکی: مقررہ ڈول اور نامعلوم مدت
کنویں کی پاکی: مقررہ ڈول اور نامعلوم مدت کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. مقداری اخراج: جانور کے مرنے پر چند ڈول نکالنے کا حکم
• بنیادی اصول: اگر کنویں میں گر کر جانور مر جائے لیکن وہ لاش ابھی پھولی یا سڑی نہ ہو: • حکم: ایسی صورت میں کنویں کو پورا خالی کرنا فرض نہیں ہوتا۔ شریعت نے جانور کے سائز (حجم) کے لحاظ سے مخصوص تعداد میں ڈول نکالنا فرض کیا ہے۔ • اس سلائیڈ میں ہم چھوٹے اور درمیانے جانوروں کے مرنے پر واجب ڈول کی تفصیل پڑھیں گے۔
2. چھوٹے جانور (چوہا، چڑیا) کی موت پر پانی نکالنے کی مقدار
اصل متن وَإِنْ مَاتَ فِيهَا فَأْرَةٌ أَوْ نَحْوُهَا لَزِمَ نَزْحُ عِشْرِينَ دَلْوًا إِلَى ثَلَاثِينَ • مسائل کا نقشہ: اگر کنویں میں کوئی چھوٹا جانور گر کر مر جائے اور پھولنے سے پہلے ہی نکال لیا جائے: • مثال: جیسے چوہا، چڑیا، یا اسی سائز کی چھوٹی چھپکلی۔ • ڈول کی مقدار: ◦ عشرون (20 ڈول): پانی نکالنا واجب ہے۔ ◦ ثلاثون (30 ڈول): پانی نکالنا مستحب ہے۔ • یہ زیادتی (اضافی ۱۰ ڈول) کنویں کی طہارت میں شک اور وسوسے کو دور کرنے کے لیے مستحب قرار دی گئی ہے۔
3. درمیانے جانور (بلی، مرغی) کی موت پر پانی نکالنے کی مقدار
اصل متن وَإِنْ مَاتَ فِيهَا دَجَاجَةٌ أَوْ هِرَّةٌ أَوْ نَحْوُهُمَا لَزِمَ نَزْحُ أَرْبَعِينَ دَلْوًا إِلَى سِتِّينَ • مسائل کا نقشہ: اگر کنویں میں کوئی درمیانے سائز کا جانور گر کر مر جائے اور پھولنے سے پہلے ہی نکال لیا جائے: • مثال: جیسے پالتو بلی، مرغی، کبوتر یا اس سائز کا کوئی دوسرا جانور۔ • ڈول کی مقدار: ◦ اربعون (40 ڈول): پانی نکالنا واجب ہے۔ ◦ ستین (60 ڈول): پانی نکالنا مستحب ہے۔ • ان ڈولوں کے اخراج کے بعد کنواں مکمل طور پر پاک شمار ہوگا اور اس کا پانی وضو کے لیے جائز ہو جائے گا۔
4. وہ جاندار جن کے کنویں میں مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا
اصل متن لَا تَنْجُسُ الْبِئْرُ بِمَوْتِ مَا لَا دَمَ لَهُ فِيهِ كَسَمَكٍ وَضِفْدَعٍ وَبَقٍّ وَعَقْرَبٍ • عام مستثنیٰ: درج ذیل جانداروں کے کنویں میں مرنے سے کنویں کا پانی ناپاک نہیں ہوتا: ◦ جن میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا: جیسے مکھیاں، مچھر، بچھو، شہد کی مکھیاں، اور مکڑیاں۔ ◦ پانی کے پیداائشی جاندار: جیسے مچھلی، مینڈک، اور کیکڑے۔ ◦ زندہ جانور کا گرنا: اگر کوئی انسان یا ایسا جانور جس کا گوشت حلال ہو کنویں میں گرے اور زندہ باہر نکل آئے، بشرطیکہ اس کے جسم پر کوئی نجاست نہ لگی ہو اور اس کا منہ پانی میں نہ ڈوبا ہو۔
5. لید اور مینگنی کے گرنے سے معافی کی شرائط
اصل متن وَلَا تَنْجُسُ الْبِئْرُ بِالْبَعْرِ وَالرَّوْثِ وَالْخَثْيِ إِلَّا أَنْ يَسْتَكْثِرَهُ النَّاظِرُ • عموم بلویٰ کی آسانی: جنگلی یا پالتو چوپایوں کے فضلے کی قلیل مقدار کے کنویں میں گرنے کو شریعت نے معاف رکھا ہے: • شامل اشیاء: اونٹ یا گائے کا گوبر, بھیڑ یا بکری کی مینگنی, اور گھوڑے کی لید۔ • شرط: یہ فضلہ پانی کو ناپاک نہیں کرتا جب تک کہ وہ برتن یا کنویں میں اتنی زیادہ مقدار میں نہ ہو کہ دیکھنے والے کو بہت زیادہ محسوس ہو۔ • اس آسانی کا سبب یہ ہے کہ دیہاتی علاقوں میں کنووں کو چوپایوں کے فضلے سے مکمل محفوظ رکھنا انتہائی مشکل مانا گیا ہے۔
6. بغیر پھولے جانور کا حکم: ایک دن رات کا اصول
اصل متن وَوُجُودُ حَيَوَانٍ مَيِّتٍ فِيهَا يَنْجُسُهَا مِنْ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِذَا لَمْ يَنْتَفِخْ • مسائل کا نقشہ: اگر کنویں میں کوئی مردہ جانور (جیسے چوہا) پایا جائے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کب گرا اور مرا تھا، لیکن لاش ابھی پھولی یا سڑی نہیں ہے: • شرعی حکم: اس پانی کو دریافت ہونے کے وقت سے ایک دن اور ایک رات (24 گھنٹے) پہلے سے ناپاک مانا جائے گا۔ • فقہی اثر: اس چوبیس گھنٹے کے دوران اس کنویں کے پانی سے کیے گئے تمام وضو باطل شمار ہوں گے، اور اس پانی سے پڑھی گئی تمام نمازوں کو دوبارہ دہرانا واجب ہوگا۔ اس پانی سے دھوئے گئے کپڑوں کو دوبارہ دھونا لازم ہوگا۔
7. پھولے ہوئے جانور کا حکم: تین دن رات کا اصول
اصل متن وَإِنْ تَنَفَّخَ أَوْ تَفَسَّخَ فَمِنْ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا • مسائل کا نقشہ: اگر پایا جانے والا جانور کنویں میں پھول چکا ہو یا اس کے اعضاء سڑ کر الگ ہو چکے ہوں، اور اس کے گرنے کا وقت معلوم نہ ہو: • شرعی حکم: اس پانی کو دریافت ہونے کے وقت سے تین دن اور تین راتیں (72 گھنٹے) پہلے سے ناپاک مانا جائے گا۔ • فقہی اثر: ان گذشتہ تین دنوں کے دوران اس پانی سے کیے گئے تمام وضو باطل مانے جائیں گے اور پڑھی گئی تمام نمازیں دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا۔
مشق کے سوالات
سوال 1
اگر کنویں میں چوہا یا چڑیا گر کر مر جائے اور وہ پھولے یا سڑے نہ ہوں، تو پاکی کے لیے کتنے ڈول پانی نکالنا فرض ہے؟
- ۱۰ سے ۱۵ ڈول۔
- ۲۰ ڈول (واجب) اور ۳۰ ڈول تک (مستحب)۔
- ٹھیک ۴۰ ڈول۔
- سارا پانی نکالنا فرض ہے۔
سوال 2
اگر پالتو بلی یا مرغی کنویں میں مر جائے اور پھولے نہ ہو، تو ۴۰ ڈول نکالنا واجب اور ۶۰ ڈول مستحب ہوتا ہے۔
سوال 3
درج ذیل میں سے کون سا جاندار اگر کنویں میں مر جائے تو پانی ناپاک نہیں ہوتا؟
- پالتو بلی۔
- چڑیا۔
- بچھو یا مکھی (جن میں بہنے والا خون نہیں ہوتا)۔
- کتا۔
سوال 4
پانی کے مینڈک اور مچھلی اگر پانی میں مر جائیں تو وہ پانی کو نجس (ناپاک) کر دیتے ہیں کیونکہ وہ پانی کے جاندار ہیں۔
سوال 5
چوپایوں کے فضلے (لید یا مینگنی) کے گرنے سے کنواں کس شرط کے تحت ناپاک ہوتا ہے؟
- اگر ایک ٹکڑا بھی گر جائے۔
- صرف اس وقت جب ان کا مقدار دیکھنے والے کو بہت زیادہ محسوس ہو، ورنہ عمومِ بلویٰ کی وجہ سے معمولی مقدار معاف ہے۔
- چوپایوں کا فضلہ ہمیشہ ذاتی طور پر پاک ہوتا ہے۔
- صرف اس وقت جب پانی کا رنگ تبدیل ہو جائے۔
سوال 6
اگر کنویں میں چوہا مرا ہوا پایا جائے اور وہ پھولا نہ ہو، اور گرنے کا وقت معلوم نہ ہو، تو پانی کب سے ناپاک مانا جائے گا؟
- تین دن اور تین رات پہلے سے۔
- ایک دن اور ایک رات (۲۴ گھنٹے) پہلے سے۔
- صرف دریافت ہونے کے بالکل اسی لمحے سے۔
- دس دن پہلے سے۔
سوال 7
اگر کنویں میں پایا جانے والا جانور پھول چکا ہو یا گل سڑ چکا ہو، اور گرنے کا وقت معلوم نہ ہو، تو پانی تین دن اور تین رات پہلے سے ناپاک مانا جائے گا۔
سوال 8
کنویں میں بغیر پھولے جانوروں کے مرنے پر واجب اور مستحب پانی نکالنے کی مقدار کو جانوروں کی اقسام سے جوڑیں:
تعاملی کوئز کھولیں