حکم پر عمل کب کیا جائے؟ غیر موقت عبادات
حکم پر عمل کب کیا جائے؟ غیر موقت عبادات کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. عمل کا وقت کیسے معلوم ہو؟
حکم کے مطابق کام کرنے کو امتثال کہتے ہیں۔ مگر یہ کام فوراً کرنا ہے یا بعد میں کرنے کی گنجائش ہے؟ یہ 2 باتیں دیکھیں: • ”پانی لاؤ۔“ عام حالات میں اس سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ پانی ابھی لانا ہے۔ • ”دعوت کا کھانا پکاؤ۔“ سننے والے کو معلوم ہے کہ دعوت کل ہے، تو کھانا کل کے لیے پکایا جائے گا۔ امر کا صیغہ کام کرنے کا مطالبہ بتاتا ہے۔ فوراً یا بعد میں کرنے کا فیصلہ قرینے1 سے ہوتا ہے، صرف امر کے صیغے سے نہیں۔ 1. قرینہ: ایسی بات یا صورتِ حال جس سے مراد واضح ہو؛ مثلاً یہ معلوم ہونا کہ دعوت کب ہے۔
2. عبادت لازم ہو، مگر ادائیگی کا وقت مقرر نہ ہو
کبھی عبادت لازم ہوتی ہے، مگر اس کے حکم میں ادائیگی کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہوتا۔ اسے غیر موقت عبادت1 کہتے ہیں۔ وقت مقرر نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ لازم عبادت کرنا یا چھوڑنا برابر ہے۔ مثلاً کسی نے دن مقرر کیے بغیر منّت مانی: لِلَّهِ عَلَيَّ صَوْمٌ ”مجھ پر اللہ کے لیے ایک روزہ رکھنا لازم ہے۔“ اس منّت سے روزہ لازم ہوا، مگر ان الفاظ میں اس کا دن مقرر نہیں کیا گیا۔ کیا کرنا لازم ہے؟ اور کس دن کرنا ہے؟ یہ الگ سوال ہیں۔ 1. غیر موقت عبادت: ایسی عبادت جس کے حکم میں ادائیگی کا خاص وقت مقرر نہ کیا گیا ہو۔
3. کون سی عبادتیں اس میں شامل ہیں؟
اس تقسیم میں غیر موقت عبادات کی مثالیں یہ ہیں: • زکات۔ • صدقۂ فطر1۔ • کفّارے کے روزے2۔ • رمضان کے قضا روزے3۔ • ایسی منّت کی عبادت جس کا وقت مقرر نہ کیا گیا ہو، جیسے ابھی پڑھی ہوئی ایک روزے کی منّت۔ بات ذمے کی عبادت پوری کرنے کے مقرر وقت کی ہے۔ اس سے عبادت کی اپنی شرطیں یا درست نیت کی ضرورت ختم نہیں ہوتی۔ 1. صدقۂ فطر: وہ صدقہ جسے فطرانہ بھی کہتے ہیں۔ 2. کفّارے کے روزے: کفّارے کے طور پر ذمے آنے والے روزے؛ یہ لفظ بتاتا ہے کہ کون سا واجب پورا کیا جا رہا ہے۔ 3. قضا روزہ: رمضان کا ذمے رہ جانے والا روزہ پورا کرنے کے لیے رکھا جانے والا روزہ۔
4. جلد ادائیگی کی اہمیت کیوں باقی ہے؟
غیر موقت عبادت کا عمومی حکم یہ ہے کہ لازم ہونے کے بعد اسے کچھ دیر سے ادا کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ جلد ادا کرنا مستحب اور زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ اس سے یہ نہ سمجھیں کہ ہر تاخیر بے ضرر ہے۔ امام کرخی کی بیان کردہ احتیاط1 یہ ہے کہ عبادت جلد ادا کی جائے اور بلاعذر تاخیر نہ ہو، خصوصاً زکات میں۔ زکات جلد ادا کرنے کی وجہ محض امر کا صیغہ نہیں؛ فقیر کی ضرورت جلد پوری کرنا مقصود ہے۔ اسی لیے زکات میں بلاعذر تاخیر گناہ ہے۔ 1. متعلقہ روایت: فقیہ ابو جعفر نے امام ابو حنیفہ سے زکات میں تاخیر کی حرمت نقل کی ہے، اور صاحبین سے بھی اس کی تائید منقول ہے۔
5. بعد میں ادائیگی اور لفظ ادا
غیر موقت عبادت بعد میں پوری کی جائے تو اس تقسیم میں وہ ادا ہی کہلاتی ہے۔ ذمے کی عبادت پوری ہو رہی ہے؛ ایسا نہیں کہ ادائیگی کا مقرر وقت ختم ہونے سے اس کے بدلے ایک نئی قضا لازم ہوئی ہو۔ مثلاً ذمے کی زکات بعد میں دینے سے زکات ادا ہوتی ہے۔ اسے ادا کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ بلاعذر تاخیر جائز تھی۔ اسی طرح ”رمضان کا قضا روزہ“ اپنی جگہ درست نام ہے: وہ رمضان کا رہ جانے والا روزہ پورا کرنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ ذمے کے اس غیر موقت روزے کو پورا کرنے سے یہ مطلب نہیں نکلتا کہ اصل روزہ رمضان ہی میں رکھ لیا گیا تھا۔ عبادت ادا ہونا اور تاخیر جائز ہونا الگ باتیں ہیں۔
6. نیت میں کون سی عبادت مقصود ہے؟
غیر موقت عبادت کی نیت میں خاص عبادت متعین کرنا ضروری ہے، اور نیت عبادت شروع کرنے سے پہلے ہونی چاہیے۔ مثلاً: • زکات دیتے وقت زکات ادا کرنے کی نیت ہو، صرف کسی کو مال دینے کی نہیں۔ • رمضان کا قضا روزہ رکھتے وقت اسی قضا روزے کی نیت ہو، صرف کوئی روزہ رکھنے کی نہیں۔ نیت میں خاص عبادت متعین کرنے کو تعیین1 کہتے ہیں۔ یہ مثالیں نیت کا مطلب سمجھاتی ہیں؛ زبان سے پڑھنے کے مقرر جملے نہیں ہیں۔ 1. تعیین: یہ متعین کرنا کہ کون سی عبادت یا کون سا واجب پورا کرنا مقصود ہے۔
7. مال دینے کے بعد زکات کی نیت کرنا
ایک شخص نے فقیر کو مال دیا، مگر اس وقت زکات کی نیت نہیں تھی۔ مال دینے کے بعد اس نے ارادہ کیا: ”یہ مال میری زکات میں شمار ہو جائے۔“ اس مثال میں بعد کی نیت سے وہ مال زکات میں شمار نہیں ہوگا۔ مال دیتے وقت زکات کی خاص نیت موجود نہیں تھی۔ اس کے مقابلے میں زکات ادا کرنے والا مال دینے سے پہلے زکات کی نیت کرتا ہے۔ یہاں فرق مال کی مقدار کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کون سا واجب پورا کرنے کی نیت تھی اور کب تھی۔
8. رمضان کے قضا روزے کی نیت کب ہو؟
رمضان کے قضا روزے کی خاص نیت صبح صادق سے پہلے1 کرنا ضروری ہے۔ یہ صورتیں دیکھیں: • صبح صادق سے پہلے رمضان کے قضا روزے کی نیت کر لی: مطلوبہ خاص نیت اپنے وقت پر موجود ہے۔ • صبح صادق سے پہلے روزے کی کوئی نیت نہیں کی، پھر بعد میں قضا کی نیت کی: یہ بعد کی قضا کی نیت درست نہیں۔ • صبح صادق سے پہلے صرف روزہ رکھنے کی عام نیت کی، پھر بعد میں اسے قضا میں شمار کرنے کا ارادہ کیا: اس طرح بھی قضا کی نیت درست نہیں ہوگی۔ روزے کی عام نیت اور وقت پر کی ہوئی قضا کی خاص نیت ایک بات نہیں۔ 1. صبح صادق: فجر کا وقت شروع ہونے کی حد؛ سورج نکلنے کا وقت نہیں۔
مشق کے سوالات
سوال 1
کسی نے کہا: ”اجلاس کے لیے کمرہ تیار کرو۔“ آپ دونوں جانتے ہیں کہ اجلاس کل ہے۔ تیاری کا مطلوبہ وقت سمجھنے میں کون سی بات مدد دے گی؟
- مطالبے میں استعمال ہونے والے الفاظ کی تعداد
- اجلاس کے وقت کا دونوں کو معلوم ہونا
- امر کے صیغے کا ہمیشہ فوراً کا معنی دینا
- امر کے صیغے کا ہمیشہ کل کا معنی دینا
سوال 2
کسی نے ایک روزے کی منّت مانی مگر دن مقرر نہیں کیا۔ یہ مثال کیا سمجھاتی ہے؟
- دن مقرر ہے مگر روزہ لازم نہیں
- اگلے جمعے کا روزہ لازم ہے
- نہ کوئی عبادت لازم ہے نہ وقت کا سوال ہے
- روزہ لازم ہے مگر ادائیگی کا دن مقرر نہیں
سوال 3
پڑھی ہوئی بحث میں زکات کی بلاعذر تاخیر کو گناہ کیوں کہا گیا ہے؟
- فقیر کی ضرورت جلد پوری کرنا مقصود ہے
- ہر امر کا صیغہ خود فوری ادائیگی مقرر کرتا ہے
- زکات غیر موقت عبادتوں میں شامل نہیں رہتی
- بعد کی ادائیگی سے زکات کبھی ادا نہیں ہو سکتی
سوال 4
زکات کی بعد میں کی ہوئی ادائیگی کو ادا کہا گیا۔ صرف اس نام سے کون سا نتیجہ درست ہے؟
- تاخیر ضرور مستحب تھی
- ادائیگی سے پہلے ہی واجب ختم ہو گیا تھا
- ذمے کی زکات پوری کی جا رہی ہے
- اس ادائیگی کے لیے نیت ضروری نہیں تھی
سوال 5
غیر موقت عبادت کی نیت کی دونوں شرطوں کو کون سا جواب درست جمع کرتا ہے؟
- ملتا جلتا کام مکمل کرنے کے بعد واجب متعین کریں
- عبادت شروع کرنے سے پہلے خاص واجب کی نیت کریں
- عام نیت کریں اور بعد میں خاص واجب متعین کریں
- واجب کی نیت کے بجائے صرف ادائیگی کا دن چنیں
سوال 6
فقیر کو مال دیتے وقت زکات کی نیت نہیں تھی۔ دینے والے نے صرف بعد میں زکات کی نیت کی۔ بیان کردہ مثال میں کیا کمی ہے؟
- مال دینے سے پہلے زکات کی خاص نیت
- اگلی نماز کے وقت کا علم
- بعد میں فقیر کا نام زبان سے لینا
- بعد میں ادائیگی کو نفلی بنانے کی نیت
سوال 7
صبح صادق سے پہلے صرف روزہ رکھنے کی عام نیت تھی۔ صبح صادق کے بعد اسے رمضان کی قضا میں شمار کرنے کا ارادہ ہوا۔ سبق کے مطابق کون سی بات درست ہے؟
- عام نیت میں ہر ذمے کا روزہ خود بخود شامل ہے
- طلوع آفتاب تک اسے قضا کی نیت میں بدل سکتے ہیں
- غیر موقت ہونے سے خاص روزے کی نیت ضروری نہیں رہتی
- قضا کی خاص نیت صبح صادق سے پہلے ضروری تھی
تعاملی کوئز کھولیں