موزوں پر مسح: شرطیں اور طریقہ
موزوں پر مسح: شرطیں اور طریقہ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. چمڑے کے موزوں پر مسح کرنے کا شرعی حکم اور دائرہ کار
• مشرُوعِيَّت: شریعتِ اسلامیہ میں وضو کرتے وقت پاؤں دھونے کے متبادل کے طور پر چمڑے کے موزوں پر مسح کرنا بالاتفاق جائز ہے۔ • دائرہ کار: مسح کرنا صرف حدثِ اصغر (یعنی وہ ناپاکیاں جن سے وضو ٹوٹتا ہے) کے لیے جائز ہے۔ • اہم استثنیٰ: غسل واجب ہونے کی صورت میں (حدثِ اکبر جیسے جنابت، حیض یا نفاس) موزوں پر مسح کرنا بالکل جائز نہیں ہے؛ غسل کے لیے موزے اتار کر پاؤں دھونا فرض ہے۔ • یہ سہولت مرد اور عورت دونوں کے لیے یکساں طور پر عام حالات اور سفر دونوں میں میسر ہے۔
2. موزوں پر مسح کے جائز ہونے کی شرائط: طہارت اور ٹخنوں کا چھپنا
اصل متن وَشُرُوطُ جَوَازِهِ سَبْعَةٌ: أَنْ يَلْبَسَهُمَا بَعْدَ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ... • موزوں پر مسح کرنے کے جواز کے لیے سات بنیادی شرائط ہیں: 1. کامل طہارت پر پہننا: موزے اس وقت پہنے گئے ہوں جب انسان پاؤں دھو کر کامل طہارت (وضو) کی حالت میں ہو۔ ◦ باریک مسئلہ: اگر کسی نے پاؤں دھو کر موزے پہن لیے، اور پھر وضو ٹوٹنے سے پہلے اپنا وضو مکمل کر لیا، تو مسح جائز ہے۔ 2. ٹخنوں کا ڈھانپنا: موزے ٹخنوں سمیت پاؤں کے فرض حصے کو مکمل چھپاتے ہوں۔
3. موزوں پر مسح کے جائز ہونے کی شرائط: پائیداری، چلنا اور موٹائی
اصل متن وَإِمْكَانُ مُتَابَعَةِ الْمَشْيِ فِيهِمَا فَرْسَخًا... • موزوں پر مسح کی بقیہ شرائط درج ذیل ہیں: ◦ مسلسل چلنے کی صلاحیت: وہ اتنے مضبوط ہوں کہ ان کو پہن کر مسلسل ایک فرسخ (تقریباً 3 میل / 5 کلومیٹر) سے زیادہ پیدل چلا جا سکے۔ ◦ بغیر باندھے قائم رہنا: وہ چمڑے یا اتنے سخت مواد کے ہوں کہ بغیر کسی رسی یا پٹی کے پاؤں پر سیدھے کھڑے رہ سکیں۔ ◦ پانی کا نہ چھننا: وہ اتنے باریک نہ ہوں کہ پانی ان میں سے فوراً پاؤں کی جلد تک پہنچ جائے۔ ◦ شیشے یا لکڑی کا نہ ہونا: وہ لکڑی، شیشے یا لوہے جیسے سخت مواد سے بنے ہوئے نہ ہوں جن پر مسح کرنا متبادل غسل یا وضو کا فائدہ نہ دے سکے۔
4. ساتویں شرط: موزے کا سوراخ یا پھٹا ہونے کی شرعی حد
اصل متن وَخُلُوُّ كُلِّ مِنْهُمَا عَنْ خَرْقٍ قَدْرِ ثَلَاثِ أَصَابِعَ مِنْ أَصْغَرِ أَصَابِعِ الْقَدَمِ • 7. سوراخ یا پھٹنے کی حد: ہر موزہ پاؤں کی چھوٹی انگلیوں میں سے تین انگلیوں کی چوڑائی کے برابر پھٹنے یا کھلے ہونے سے پاک ہو۔ ◦ اہم قانون: اگر کسی ایک موزے میں پاؤں کی تین چھوٹی انگلیوں کے برابر سوراخ ہو، تو مسح جائز نہیں ہے۔ ◦ مجموعی سوراخ کا قاعدہ: اگر سوراخ الگ الگ ہوں لیکن وہ ایک ہی موزے میں ہوں، تو انہیں جمع کیا جائے گا۔ لیکن اگر دونوں موزوں کے سوراخ ملا کر تین انگلیوں کے برابر ہوں (مثلاً ایک موزے میں ایک انگلی اور دوسرے میں دو انگلیوں کے برابر)، تو مسح جائز ہے۔
5. مسح کی شرعی مدت اور وقت کا آغاز
اصل متن وَيَمْسَحُ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَالْمُسَافِرُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا... • مقیم کی مدت: وہ شخص جو اپنے وطن میں ہو، وہ ایک دن اور ایک رات (24 گھنٹے) تک مسح کر سکتا ہے۔ • مسافر کی مدت: شرعی مسافر تین دن اور تین راتیں (72 گھنٹے) تک مسح کر سکتا ہے۔ • وقت کے آغاز کا شرعی اصول: مسح کی مدت کا آغاز موزے پہننے کے وقت سے نہیں ہوتا، اور نہ ہی وضو کرنے کے وقت سے ہوتا ہے۔ بلکہ مدت کا آغاز موزے پہننے کے بعد پہلی بار وضو ٹوٹنے (حدث ہونے) کے وقت سے ہوتا ہے۔ ◦ مثال: اگر کسی نے ظہر کے وقت وضو کر کے موزے پہنے، اور عصر کے وقت اس کا وضو ٹوٹ گیا، تو اس کے 24 یا 72 گھنٹوں کا آغاز عصر کے وقت سے ہوگا۔
6. مسح کرنے کا مسنون طریقہ اور فرض مقدار
اصل متن وَالْفَرْضُ فِي الْمَسْحِ قَدْرُ ثَلَاثِ أَصَابِعَ مِنْ أَصْغَرِ أَصَابِعِ الْيَدِ عَلَى ظَاهِرِ مُقَدَّمِ الْخُفِّ • فرض مقدار: ہر پاؤں کے موزے کے اوپر والے حصے (ظاہر) پر ہاتھ کی چھوٹی انگلیوں میں سے تین انگلیوں کی چوڑائی کے برابر مسح کرنا فرض ہے۔ • مسنون طریقہ: اپنے ہاتھ کی بھیگی ہوئی انگلیوں کو پھیلا کر موزے کے اگلے حصے (انگلیوں کی طرف) رکھے، اور انہیں اوپر ٹخنوں کی طرف کھینچے۔ • اہم مقامات جہاں مسح جائز نہیں: ◦ موزے کے نیچے والے حصے (تلوا) پر مسح کرنا جائز نہیں ہے۔ ◦ موزے کی ایڑی یا اطراف (سائیڈز) پر مسح کرنا جائز نہیں ہے۔ ◦ انگلیوں کو پھیلائے بغیر محض پانی چھڑکنا یا پاؤں کی چوڑائی میں مسح کرنا سنت کے خلاف ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
ایک مقیم شخص جمعہ کے دن دوپہر ۱۲:۰۰ بجے وضو کر کے موزے پہنتا ہے۔ جمعہ کے دن سہ پہر ۳:۰۰ بجے اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کے موزوں پر مسح کرنے کی مدت کب ختم ہوگی؟
- ہفتہ کے دن دوپہر ۱۲:۰۰ بجے
- ہفتہ کے دن سہ پہر ۳:۰۰ بجے
- پیر کے دن سہ پہر ۳:۰۰ بجے
- جمعہ کے دن دوپہر ۱۲:۰۰ بجے
سوال 2
چمڑے کے موزوں پر مسح کرنا وضو اور غسل دونوں حالتوں میں جائز ہے۔
سوال 3
ایک موزے میں زیادہ سے زیادہ کتنے سائز کا سوراخ یا پھٹا ہونا معاف ہے جس کے بعد بھی مسح کرنا جائز رہتا ہے؟
- پاؤں کی تین چھوٹی انگلیوں کی چوڑائی سے کم
- پاؤں کی پانچ انگلیوں کی چوڑائی کے برابر
- کسی قسم کا سوراخ بالکل معاف نہیں ہے
- ایڑی کے سائز سے کم
سوال 4
اگر بائیں موزے میں دو انگلیوں کے برابر اور دائیں موزے میں دو انگلیوں کے برابر سوراخ ہو، تو دونوں کا مجموعہ چار انگلیاں ہونے کی وجہ سے مسح باطل ہو جائے گا۔
سوال 5
وضو کے دوران چمڑے کے موزے کے کس حصے پر مسح کرنا شرعاً فرض ہے؟
- موزے کا نچلا حصہ (تلوا)
- موزے کے دائیں اور بائیں اطراف
- موزے کے اگلے حصے کا اوپر والا حصہ (ظاہر)
- صرف ایڑی کا حصہ
سوال 6
مقیم اور مسافر کی حالتوں کو ان کی درست مسح کی شرعی مدت سے جوڑیں:
سوال 7
درج ذیل طریقوں کو "درست طریقہ مسح" اور "ناجائز طریقہ مسح" کے خانوں میں الگ الگ کریں:
سوال 8
چمڑے کے موزے پہننے کے لیے پہلے سے کامل طہارت (وضو) کی حالت میں ہونا شرط نہیں ہے، بشرطیکہ موزہ پہننے سے پہلے کم از کم ایک پاؤں دھو لیا گیا ہو۔
تعاملی کوئز کھولیں