موزوں پر مسح کے نواقض اور حالت کی تبدیلی
موزوں پر مسح کے نواقض اور حالت کی تبدیلی کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. چمڑے کے موزوں پر مسح توڑنے والی چار چیزیں
اصل متن وَيَنْقُضُ مَسْحَ الْخُفِّ أَرْبَعَةُ أَشْيَاءَ... • چمڑے کے موزوں پر کیا گیا مسح درج ذیل چار امور سے ٹوٹ جاتا ہے: ◦ وضو توڑنے والے امور: ہر وہ چیز جو وضو کو توڑ دیتی ہے (جیسے پیشاب خارج ہونا یا بہتا ہوا خون)، اس سے مسح بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ ◦ موزہ اتار دینا: پاؤں سے موزہ باہر نکال دینا، خواہ وہ ایک ہی موزہ کیوں نہ اتارا گیا ہو۔ ◦ پاؤں کا موزے سے پھسلنا: پاؤں کا موزے کی پنڈلی (ساق) والے حصے کی طرف اس حد تک سرک جانا کہ پاؤں کا زیادہ تر حصہ ٹخنے سے اوپر نکل جائے۔ ◦ پانی کا داخل ہونا: موزے کے اندر پانی داخل ہو کر کسی ایک پاؤں کے اکثر حصے کو گیلا کر دینا۔
2. مسح کی شرعی مدت کا مکمل ہو جانا
اصل متن وَمَضِيُّ الْمُدَّةِ... • 5. شرعی مدت کا گزر جانا: مقیم کے لیے 24 گھنٹے اور مسافر کے لیے 72 گھنٹے مکمل ہو جانا۔ • اہم مسئلہ: اگر کسی شخص کا وضو قائم تھا، اور اس کے مسح کرنے کی مدت ختم ہو گئی: ◦ اس کا پورا وضو باطل نہیں ہوتا۔ ◦ وہ اپنے موزے اتارے گا اور صرف اپنے دونوں پاؤں دھوئے گا۔ پاؤں دھونے کے بعد اس کا وضو دوبارہ کامل ہو جائے گا اور وہ نماز پڑھ سکتا ہے۔ ◦ پاؤں دھونے کے لیے دوبارہ نئے سرے سے پورا وضو کرنا واجب نہیں ہے۔
3. مقیم کا دورانِ مسح سفر پر نکلنے کا شرعی حکم
اصل متن وَإِنْ مَسَحَ مُقِيمٌ ثُمَّ سَافَرَ قَبْلَ تَمَامِ مُدَّتِهِ أَتَمَّ مُدَّةَ الْمُسَافِرِ • مسائل کا نقشہ: اگر ایک مقیم شخص نے وضو کر کے موزوں پر مسح شروع کیا، اور ابھی اس کی مقیم والی مدت (24 گھنٹے) پوری ہونے میں وقت باقی تھا کہ وہ سفر شرعی پر روانہ ہو گیا: • شرعی حکم: اس کا مسح ٹوٹے گا نہیں، بلکہ اس کی مدت مقیم سے تبدیل ہو کر مسافر والی ہو جائے گی۔ وہ اب تین دن اور تین راتیں (72 گھنٹے) کی مدت پوری کر سکتا ہے۔ ◦ مثال: اگر اس نے مقیم کی حالت میں 10 گھنٹے مسح کر لیا تھا، تو سفر شروع کرتے ہی وہ بقیہ 62 گھنٹے مزید مسح کر سکتا ہے۔
4. مسافر کا دورانِ مسح گھر واپس آنے کا شرعی حکم
اصل متن وَإِنْ أَقَامَ الْمُسَافِرُ بَعْدَ مَا يَمْسَحُ يَوْمًا وَلَيْلَةً نَزَعَ... • مسائل کا نقشہ: اگر کوئی مسافر سفر سے واپس اپنے گھر (وطن) لوٹ آئے: ◦ اگر وہ ایک دن اور ایک رات (24 گھنٹے) یا اس سے زیادہ مسح کر چکا ہو: تو وطن پہنچتے ہی اس کے مسح کی مدت فورا ختم ہو جائے گی۔ اسے موزے اتار کر پاؤں دھونے ہوں گے۔ ◦ اگر اس نے ابھی 24 گھنٹے سے کم مسح کیا ہو: (مثلاً صرف 15 گھنٹے)، تو وہ گھر پہنچ کر مقیم کی مدت پوری کرے گا، یعنی وہ مزید 9 گھنٹے (مجموعی طور پر 24 گھنٹے پورے ہونے تک) مسح کر سکتا ہے۔
5. صرف ایک موزہ اتارنے کا شرعی حکم
• اصول: پاؤں دھونے کے معاملے میں طہارت تقسیم نہیں ہو سکتی۔ یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ انسان ایک پاؤں کو دھوئے اور دوسرے پر مسح کرے۔ • حکم: اگر کسی نے وضو کی حالت میں اپنے دو موزوں میں سے صرف ایک موزہ اتار دیا: ◦ اس کے دوسرے پاؤں کا مسح بھی خود بخود باطل ہو جائے گا۔ ◦ اس پر واجب ہوگا کہ وہ دوسرا موزہ بھی اتارے اور اپنے دونوں پاؤں پانی سے دھوئے۔ ◦ ایک پاؤں پر مسح برقرار رکھنا اور دوسرے پاؤں کو دھونا شرعاً قطعی باطل ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
ایک مقیم شخص باوضو تھا کہ اس کے موزوں پر مسح کی ۲۴ گھنٹے کی مدت ختم ہو گئی۔ نماز پڑھنے کے لیے اس پر کیا کرنا لازم ہے؟
- اسے نئے سرے سے پورا وضو کرنا ہوگا۔
- اسے مٹی سے تیمم کرنا ہوگا۔
- اسے موزے اتار کر صرف اپنے دونوں پاؤں دھونے ہوں گے۔
- جب تک وضو نہ ٹوٹے وہ کچھ کیے بغیر نماز پڑھ سکتا ہے۔
سوال 2
صرف ایک موزہ پاؤں سے باہر نکالنے سے دوسرے پاؤں کے مسح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
سوال 3
ایک مقیم شخص نے گھر پر مسح شروع کیا اور ابھی ۱۵ گھنٹے ہی گزرے تھے کہ وہ شرعی سفر پر روانہ ہو گیا۔ اب اس کے مسح کرنے کی زیادہ سے زیادہ کل مدت کتنی ہوگی؟
- اس کی مدت ۲۴ گھنٹے ہی رہے گی
- اس کی مدت آغاز کے وقت سے بڑھ کر ۷۲ گھنٹے (تین دن اور رات) ہو جائے گی
- اس کا مسح سفر شروع ہوتے ہی ٹوٹ جائے گا
- سفر شروع کرنے کے لمحے سے اسے نئے سرے سے ۷۲ گھنٹے ملیں گے
سوال 4
اگر کوئی مسافر سفر کے دوران ۳۰ گھنٹے تک موزوں پر مسح کر چکا ہو اور پھر اپنے گھر واپس لوٹ آئے، تو گھر پہنچتے ہی اس کے مسح کی مدت فورا ختم ہو جائے گی۔
سوال 5
موزے کے اندر پانی داخل ہونے کی صورت میں کس شرط کے تحت مسح ٹوٹ جاتا ہے؟
- اگر نمی کا ایک قطرہ بھی داخل ہو جائے
- اگر پانی داخل ہو کر کسی ایک پاؤں کے اکثر حصے کو گیلا کر دے
- موزے کے اندر پانی جانے سے مسح کبھی نہیں ٹوٹتا
- صرف اس صورت میں جب پانی گرم ہو
سوال 6
درج ذیل کیفیات کو ان کے درست شرعی احکام سے جوڑیں:
سوال 7
اگر کسی کا پاؤں موزے کے اندر اوپر کی طرف سرک جائے یہاں تک کہ ایڑی اور پاؤں کا اکثر حصہ ٹخنے والے نالی دار حصے میں پہنچ جائے تو کیا حکم ہے؟
- اس کا مسح بالکل قائم رہے گا۔
- اس کا مسح ٹوٹ جائے گا، اسے موزے اتار کر پاؤں دھونے ہوں گے۔
- اسے تیمم کرنا پڑے گا۔
- مسح صرف نفل نمازوں کے لیے جائز رہے گا۔
سوال 8
ہر وہ چیز جو عام وضو کو توڑتی ہے، وہ چمڑے کے موزوں پر کیے گئے مسح کو بھی توڑ دیتی ہے۔
تعاملی کوئز کھولیں