جملہ فعلیہ میں مفعولی ضمیریں
جملہ فعلیہ میں مفعولی ضمیریں کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. ہم کیا سیکھیں گے؟
اس سبق کے آخر تک آپ یہ کام کر سکیں گے: ● فعل کے ساتھ جڑی ہوئی مفعولی ضمیر پہچاننا۔ ● اس سبق میں آنے والی تمام چودہ مفعولی ضمیروں کے معنی سمجھنا۔ ● یائے متکلم کے ساتھ نونِ وقایہ درست لگانا۔ ● ضمیر جوڑتے وقت آنے والی دو خاص تبدیلیاں اور متعلقِ فعل پہچاننا۔
2. مفعول ضمیر بھی ہو سکتا ہے
مفعول ہمیشہ الگ اسمِ ظاہر نہیں ہوتا؛ وہ ضمیر کی صورت میں فعل کے ساتھ جڑ بھی سکتا ہے۔ ضَرَبَ حَامِدٌ مَحْمُودًا — حامد نے محمود کو مارا۔ ضَرَبَهُ حَامِدٌ — حامد نے اسے مارا۔ دوسرے جملے میں هُ کا معنی “اسے” ہے۔ یہ فعل کے ساتھ جڑا ہوا مفعول ہے، جبکہ اسمِ ظاہر فاعل حَامِدٌ اس کے بعد آیا ہے۔
3. غائب کی مفعولی ضمیریں
یہ چھ صورتیں اس شخص یا چیز کے لیے ہیں جس کا ذکر کیا جا رہا ہو۔ مذکر تثنیہ اور مؤنث تثنیہ دونوں کے لیے صورت هُمَا ہے؛ درست معنی سیاق سے معلوم ہوگا۔ جڑی ہوئی مفعولی ضمیر معنی مکمل صورت هُ اسے، ایک مذکر ضَرَبَهُ هُمَا ان دونوں کو، مذکر ضَرَبَهُمَا هُمْ ان سب کو، مذکر ضَرَبَهُمْ هَا اسے، ایک مؤنث ضَرَبَهَا هُمَا ان دونوں کو، مؤنث ضَرَبَهُمَا هُنَّ ان سب کو، مؤنث ضَرَبَهُنَّ
4. حاضر اور متکلم کی مفعولی ضمیریں
پہلی چھ صورتیں مخاطب کے لیے اور آخری دو متکلم کے لیے ہیں۔ صرف آخری حصہ یاد کرنے کے بجائے پوری فعلی صورت کو معنی کے ساتھ پڑھیں۔ جڑی ہوئی مفعولی ضمیر معنی مکمل صورت كَ تمہیں، ایک مذکر ضَرَبَكَ كُمَا تم دونوں کو، مذکر ضَرَبَكُمَا كُمْ تم سب کو، مذکر ضَرَبَكُمْ كِ تمہیں، ایک مؤنث ضَرَبَكِ كُمَا تم دونوں کو، مؤنث ضَرَبَكُمَا كُنَّ تم سب کو، مؤنث ضَرَبَكُنَّ نِي مجھے ضَرَبَنِي نَا ہمیں ضَرَبَنَا
5. ضَرَبَنِي میں ن کیوں آیا؟
جب مفعول ی یعنی “مجھے” ہو تو فعل اور یائے متکلم کے درمیان ایک حفاظتی ن آتا ہے: ضَرَبَ + نِ + ي = ضَرَبَنِي اسے نونِ وقایہ کہتے ہیں۔ نون کو کسرہ دی جاتی ہے تاکہ اگلی ی کے ساتھ ادائیگی آسان ہو۔ ضَرَبَنَا یعنی “اس نے ہمیں مارا” میں نَا خود مفعولی ضمیر ہے؛ یہاں الگ نونِ وقایہ نہیں بڑھایا جاتا۔
6. ضمیر جوڑتے وقت دو خاص تبدیلیاں
جمع مذکر غائب کے ساتھ: ضَرَبُوا حَامِدًا کو ضمیر کے ساتھ ضَرَبُوهُ کہیں گے۔ ضَرَبُوا کا آخری لکھا ہوا الف ضمیر سے پہلے نہیں لکھا جاتا۔ جمع مذکر حاضر کے ساتھ: ضَرَبْتُمْ حَامِدًا کو ضمیر کے ساتھ ضَرَبْتُمُوهُ کہیں گے۔ تُمْ ضمیر سے پہلے تُمُو کی صورت اختیار کرتا ہے۔ دونوں جوڑے بلند آواز سے پڑھیں؛ صورت بدلی ہے، مگر فاعل اور مفعول کا کردار نہیں بدلا۔
7. اسمِ ظاہر فاعل سے پہلے مفعولی ضمیر
جب فاعل اسمِ ظاہر اور مفعول ضمیر ہو تو مفعولی ضمیر پہلے فعل کے ساتھ جڑتی ہے: ● ضَرَبَهُ حَامِدٌ — حامد نے اسے مارا۔ ● ضَرَبَكَ حَامِدٌ — حامد نے تمہیں مارا۔ ● ضَرَبَنِي حَامِدٌ — حامد نے مجھے مارا۔ ہر جملے میں فعل کے ساتھ جڑا ہوا آخری حصہ مفعول ہے اور حَامِدٌ مرفوع فاعل ہے۔ جڑی ہوئی مفعولی ضمیر کو فاعل نہ سمجھیں۔
8. متعلقِ فعل والے اجزا
جملہ فعلیہ میں کبھی جار و مجرور ایسا تعلق بتاتا ہے جو فعل کے معنی کو واضح کرتا ہے، مثلاً جگہ، سمت، آغاز یا آلہ۔ فعل لازم کے ساتھ یہ عموماً فاعل کے بعد اور فعل متعدی کے ساتھ عموماً مفعول کے بعد آتا ہے۔ جملہ بامحاورہ ترجمہ تعلق بتانے والا حصہ جَلَسَ زَيْدٌ عَلَى الْكُرْسِيِّ زید کرسی پر بیٹھا عَلَى دَخَلَتْ فَاطِمَةُ فِي الْبَيْتِ فاطمہ گھر میں داخل ہوئی فِي ذَهَبَ إِبْرَاهِيمُ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلَى الْبَيْتِ ابراہیم مسجد سے گھر کی طرف گیا مِنْ ... إِلَى ضَرَبَ أُسَامَةُ إِبْرَاهِيمَ بِالسَّوْطِ اسامہ نے ابراہیم کو کوڑے سے مارا بِـ
9. اسمِ ظاہر مفعول کی جگہ ضمیر لگائیں
پہلا قدم: اسمِ ظاہر مفعول پہچانیں۔ دوسرا قدم: اسی معنی کی ضمیر چنیں۔ تیسرا قدم: اسے فعل کے ساتھ جوڑ دیں۔ ضَرَبَ حَامِدٌ مَحْمُودًا → ضَرَبَهُ حَامِدٌ نَصَرَ زَيْدٌ حَامِدًا → نَصَرَهُ زَيْدٌ كَتَبَ الطَّالِبُ الدَّرْسَ → كَتَبَهُ الطَّالِبُ یہ مثالیں جان بوجھ کر سادہ رکھی گئی ہیں۔ ہر جوڑے میں جس پر کام واقع ہوا وہ مفعول ہی ہے، اگرچہ اس کی ظاہری صورت بدل گئی ہے۔
10. چار قدمی جانچ
1. فعل اور اس کا فاعل پہچانیں۔ 2. فعل کے فوراً بعد جڑی ہوئی مفعولی ضمیر تلاش کریں۔ 3. ضمیر کا شخص، تعداد اور جنس دیکھ کر معنی طے کریں۔ 4. خاص اتصال جانچیں: نِي، ضَرَبُوهُ اور ضَرَبْتُمُوهُ۔ اس کے بعد جار و مجرور کو فعل کے ساتھ متعلق سمجھیں۔ یوں بامحاورہ ترجمہ کرنے سے پہلے جملے کے کردار صاف رہیں گے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
ضَرَبَهُ حَامِدٌ میں هُ کیا ہے؟
- جڑا ہوا فاعل
- جڑا ہوا مفعول
- حرفِ جر
- اسمِ ظاہر
سوال 2
ہر جڑی ہوئی صورت کو اس کے معنی سے ملائیں۔
سوال 3
مکمل صورتوں کو مفعول کے شخص کے لحاظ سے الگ کریں۔
سوال 4
عربی جملہ بنائیں: ‘حامد نے اسے مارا۔’
سوال 5
ضَرَبَنِي میں ن کیوں آیا ہے؟
- یہ تثنیہ کی علامت ہے۔
- یہ فاعل ہے۔
- یہ فعل اور ی کے درمیان نونِ وقایہ ہے۔
- یہ فعل کو مجہول بناتا ہے۔
سوال 6
ضَرَبُوا حَامِدًا میں حَامِدًا کی جگہ ‘اسے’ لگانے کی درست صورت کون سی ہے؟
- ضَرَبُوهُ
- ضَرَبُواهُ
- ضَرَبَهُمْ
- ضَرَبْتُمُوهُ
سوال 7
‘تم سب نے اسے مارا’ (مذکر) کی درست عربی صورت کون سی ہے؟
- ضَرَبْتُمْهُ
- ضَرَبُوهُ
- ضَرَبْتُمُوهُ
- ضَرَبَكُمْ
سوال 8
ضَرَبَهُ حَامِدٌ میں هُ مفعول اور حَامِدٌ فاعل ہے۔
سوال 9
ہر جملے کو حرفِ جر سے ظاہر ہونے والے تعلق سے ملائیں۔
سوال 10
ضَرَبَكَ حَامِدٌ میں كَ کا کیا معنی ہے؟
- اسے، مذکر
- تمہیں، ایک مذکر
- ہمیں
- ان سب مؤنث کو
سوال 11
عربی جملہ بنائیں: ‘فاطمہ گھر میں داخل ہوئی۔’
سوال 12
ہر جڑی ہوئی صورت کو مفعولی ضمیر کے نحوی عدد کے لحاظ سے الگ کریں۔
سوال 13
اگر ضَرَبَهُ حَامِدٌ میں هُ سے مراد محمود ہو تو انہی کرداروں والا اسمِ ظاہر کا جملہ کون سا ہے؟
- ضَرَبَ مَحْمُودٌ حَامِدًا
- ضَرَبَ حَامِدًا مَحْمُودٌ
- ضَرَبَ حَامِدًا مَحْمُودًا
- ضَرَبَ حَامِدٌ مَحْمُودًا
سوال 14
عربی جملہ بنائیں: ‘اسامہ نے ابراہیم کو کوڑے سے مارا۔’
سوال 15
ضَرَبُوهُ میں ضَرَبُوا کا آخری الف لکھا رہتا ہے۔
سوال 16
ضَرَبْتُمُوهُ کا درست تجزیہ کون سا ہے؟
- فعل + جڑا ہوا جمع حاضر فاعل + جڑا ہوا غائب مفعول
- فعل + دو اسمِ ظاہر
- فعل لازم، کوئی مفعول نہیں
- مبتدا اور خبر
تعاملی کوئز کھولیں