جملہ فعلیہ کو جملہ اسمیہ میں بدلنا
جملہ فعلیہ کو جملہ اسمیہ میں بدلنا کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. ایک ہی بات، جملے کی دو ترتیبیں
عربی میں ایک ہی بنیادی بات کو جملہ فعلیہ یا جملہ اسمیہ، دونوں ترتیبوں میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ خَلَقَ اللَّهُ الْأَرْضَ فعل پہلے آیا ہے، اس لیے یہ جملہ فعلیہ ہے۔ اللَّهُ خَلَقَ الْأَرْضَ اسم اللَّهُ پہلے آیا ہے، اس لیے یہ جملہ اسمیہ ہے۔ پورا فعلی حصہ خَلَقَ الْأَرْضَ اس کی خبر ہے۔ بنیادی واقعہ وہی رہتا ہے؛ صرف جملے کی ساخت بدلتی ہے۔
2. چار واضح مرحلوں میں تبدیلی
جب ظاہر فاعل فعل کے بعد ہو تو یہ چار مرحلے اختیار کریں۔ 1. فعل اور فاعل پہچانیں: دَخَلَ الْمُعَلِّمَانِ۔ 2. فاعل کو شروع میں لے آئیں: الْمُعَلِّمَانِ ...۔ اب یہ مبتدا ہے۔ 3. پہلے آنے والے مبتدا کے عدد اور جنس کے مطابق فعل بنائیں: دَخَلَا۔ 4. حاصل ہونے والا جملہ اسمیہ ہے: الْمُعَلِّمَانِ دَخَلَا۔ فعلی حصہ دَخَلَا اس کی خبر ہے۔ اسم کو آگے لا کر فعل کو پرانی صورت پر نہ چھوڑیں۔
3. فعل کی صورت کیوں بدلتی ہے؟
یہاں سکھائے گئے قاعدے میں دونوں ترتیبوں کی مطابقت الگ ہے۔ دَخَلَ الْمُعَلِّمُونَ فعل ظاہر جمع فاعل سے پہلے ہے، اس لیے فعل واحد کی صورت میں ہے۔ الْمُعَلِّمُونَ دَخَلُوا جمع اسم مبتدا بن کر پہلے آگیا، اس لیے اس کے بعد فعل بھی جمع مذکر ہے۔ لہٰذا الْمُعَلِّمُونَ دَخَلَ مطلوبہ تبدیلی نہیں۔ پہلے آنے والے مبتدا کے عدد اور جنس کے مطابق فعل لانا ضروری ہے۔
4. مذکر اسم بطور مبتدا
واحد، تثنیہ اور جمع کا تقابل کریں۔ مبتدا کے بعد آنے والا فعل بھی اسی عدد کو ظاہر کرتا ہے۔ جملہ فعلیہجملہ اسمیہدَخَلَ الْمُعَلِّمُالْمُعَلِّمُ دَخَلَدَخَلَ الْمُعَلِّمَانِالْمُعَلِّمَانِ دَخَلَادَخَلَ الْمُعَلِّمُونَالْمُعَلِّمُونَ دَخَلُوا آخری علامتیں دیکھیں: واحد میں عدد کی کوئی اضافی علامت نہیں، تثنیہ کے آخر میں ا، اور جمع مذکر کے آخر میں وا ہے۔
5. مؤنث اسم بطور مبتدا
یہی اصول مؤنث فاعل پر بھی لگتا ہے، لیکن جمع مؤنث کے فعل کی اپنی الگ صورت ہے۔ جملہ فعلیہجملہ اسمیہدَخَلَتِ الْمُعَلِّمَةُالْمُعَلِّمَةُ دَخَلَتْدَخَلَتِ الْمُعَلِّمَتَانِالْمُعَلِّمَتَانِ دَخَلَتَادَخَلَتِ الْمُعَلِّمَاتُالْمُعَلِّمَاتُ دَخَلْنَ ایک عام غلطی الْمُعَلِّمَاتُ دَخَلَتْ کہنا ہے۔ مبتدا جمع مؤنث ہے، اس لیے درست فعل دَخَلْنَ ہوگا۔
6. جب فاعل فعل کے اندر ضمیر ہو
فعل ماضی کی بعض صورتوں میں فاعل ضمیر کی شکل میں پہلے ہی موجود ہوتا ہے۔ جملہ اسمیہ کی ترتیب واضح کرنے کے لیے اس سے پہلے موافق منفصل ضمیر لائیں۔ دَخَلَ ← هُوَ دَخَلَ دَخَلْتُ ← أَنَا دَخَلْتُ دَخَلْنَا ← نَحْنُ دَخَلْنَا منفصل ضمیر مبتدا بن جاتا ہے۔ فعل ماضی اپنی وہی صورت رکھتا ہے جو اسی شخص، عدد اور جنس کو ظاہر کرتی ہے۔ أَنَا لگانے کے بعد دَخَلْتُ کو غائب کے صیغے میں نہ بدلیں۔
7. غائب کے ضمیر
غائب میں وہ منفصل ضمیر منتخب کریں جو فعل ماضی کے صیغے سے موافق ہو۔ فعل ماضیجملہ اسمیہ کی ترتیبدَخَلَهُوَ دَخَلَدَخَلَاهُمَا دَخَلَادَخَلُواهُمْ دَخَلُوادَخَلَتْهِيَ دَخَلَتْدَخَلَتَاهُمَا دَخَلَتَادَخَلْنَهُنَّ دَخَلْنَ تثنیہ کا ضمیر هُمَا مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے آتا ہے؛ فرق فعل کی صورت سے معلوم ہوتا ہے۔
8. حاضر کے ضمیر
حاضر کا منفصل ضمیر فعل کے ساتھ لگی ہوئی آخری علامت سے موافق ہونا چاہیے۔ فعل ماضیجملہ اسمیہ کی ترتیبدَخَلْتَأَنْتَ دَخَلْتَدَخَلْتُمَاأَنْتُمَا دَخَلْتُمَادَخَلْتُمْأَنْتُمْ دَخَلْتُمْدَخَلْتِأَنْتِ دَخَلْتِدَخَلْتُمَاأَنْتُمَا دَخَلْتُمَادَخَلْتُنَّأَنْتُنَّ دَخَلْتُنَّ تثنیہ کی صورت مذکر اور مؤنث دونوں مخاطبوں کے لیے مشترک ہے، اس لیے دونوں جگہ ایک ہی جوڑا آتا ہے۔
9. متکلم کے دو صیغے
یہاں متکلم کے دو صیغے ہیں: ایک اکیلے بولنے والے کے لیے اور دوسرا بولنے والوں کی جماعت کے لیے۔ دَخَلْتُ کا مطلب ہے ”میں داخل ہوا/ہوئی“۔ پہلے أَنَا لائیں: أَنَا دَخَلْتُ۔ دَخَلْنَا کا مطلب ہے ”ہم داخل ہوئے“۔ پہلے نَحْنُ لائیں: نَحْنُ دَخَلْنَا۔ آخر کا تُ ایک بولنے والے کو اور نَا بولنے والوں کی جماعت کو ظاہر کرتا ہے۔ شروع میں آنے والا منفصل ضمیر اسی شخص کو واضح طور پر بیان کرتا ہے۔
10. نئی ترتیب میں مطابقت لگائیں
اب مکمل جملوں پر قاعدہ لگائیں۔ جَلَسَ الْوَلَدَانِ أَمَامَ الْمُعَلِّمِ → الْوَلَدَانِ جَلَسَا أَمَامَ الْمُعَلِّمِ تثنیہ فاعل پہلے آیا، اس لیے فعل بھی تثنیہ ہوگیا۔ نَصَرَ الْمُسْلِمُونَ إِخْوَانَهُمْ → الْمُسْلِمُونَ نَصَرُوا إِخْوَانَهُمْ جمع مذکر فاعل پہلے آیا، اس لیے فعل بھی جمع مذکر ہوگیا۔ مفعول اپنی جگہ مفعول ہی رہا۔
11. جمع مؤنث، ملی جلی جماعت اور مجہول فعل
یہ تین مثالیں اسی تبدیلی کے مختلف استعمال دکھاتی ہیں۔ رَجَعَتِ الْبَنَاتُ مِنَ الْمَدْرَسَةِ → الْبَنَاتُ رَجَعْنَ مِنَ الْمَدْرَسَةِ پہلے آنے والا مبتدا جمع مؤنث ہے، اس لیے فعل رَجَعْنَ آیا۔ خَرَجَ فَاطِمَةُ وَزَيْنَبُ وَحَامِدٌ مِنَ الْبَيْتِ → فَاطِمَةُ وَزَيْنَبُ وَحَامِدٌ خَرَجُوا مِنَ الْبَيْتِ ملی جلی جماعت میں ایک مرد بھی شامل ہے، اس لیے جواب میں جمع مذکر خَرَجُوا آیا ہے۔ خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ طِينٍ → الْإِنْسَانُ خُلِقَ مِنْ طِينٍ فعل مجہول ہی رہتا ہے؛ تبدیلی کرتے وقت اپنی طرف سے کوئی فاعل نہیں بنایا جاتا۔
12. تبدیلی جانچنے کا آسان طریقہ
تبدیل شدہ جملہ درست ماننے سے پہلے یہ 4 باتیں جانچیں۔ 1. کیا اسم یا منفصل ضمیر اب مبتدا بن کر شروع میں آیا ہے؟ 2. کیا بعد کا فعل شخص، عدد اور جنس میں اس کے مطابق ہے؟ 3. کیا مفعول اور دوسرے متعلقات اپنے اصل کردار پر قائم ہیں؟ 4. اگر اصل فعل مجہول تھا تو کیا وہ مجہول ہی رہا؟ مثالیں: خَرَجُوا مِنَ الْمَسْجِدِ ← هُمْ خَرَجُوا مِنَ الْمَسْجِدِ؛ شَرِبْنَا الْمَاءَ ← نَحْنُ شَرِبْنَا الْمَاءَ۔
مشق کے سوالات
سوال 1
کون سا جملہ اسمیہ ہے اور اس میں جمع کی مطابقت درست ہے؟
- الطُّلَّابُ كَتَبُوا الدَّرْسَ
- كَتَبَ الطُّلَّابُ الدَّرْسَ
- الطُّلَّابُ كَتَبَ الدَّرْسَ
- كَتَبُوا الطُّلَّابُ الدَّرْسَ
سوال 2
جَلَسَ الْوَلَدَانِ أَمَامَ الْمُعَلِّمِ کو جملہ اسمیہ کی ترتیب میں بدلیں۔
- الْوَلَدَانِ جَلَسَ أَمَامَ الْمُعَلِّمِ
- الْوَلَدَانِ جَلَسَا أَمَامَ الْمُعَلِّمِ
- الْوَلَدَانِ جَلَسُوا أَمَامَ الْمُعَلِّمِ
- الْوَلَدَ جَلَسَا أَمَامَ الْمُعَلِّمِ
سوال 3
نَصَرَ الْمُسْلِمُونَ إِخْوَانَهُمْ کی درست تبدیلی کون سی ہے؟
- الْمُسْلِمُونَ نَصَرَ إِخْوَانَهُمْ
- إِخْوَانُهُمْ نَصَرُوا الْمُسْلِمِينَ
- الْمُسْلِمُونَ نَصَرُوا إِخْوَانَهُمْ
- الْمُسْلِمِينَ نَصَرُوا إِخْوَانُهُمْ
سوال 4
رَجَعَتِ الْبَنَاتُ مِنَ الْمَدْرَسَةِ کے لیے درست جملہ اسمیہ منتخب کریں۔
- الْبَنَاتُ رَجَعَتْ مِنَ الْمَدْرَسَةِ
- الْبَنَاتُ رَجَعُوا مِنَ الْمَدْرَسَةِ
- الْبِنْتُ رَجَعْنَ مِنَ الْمَدْرَسَةِ
- الْبَنَاتُ رَجَعْنَ مِنَ الْمَدْرَسَةِ
سوال 5
مجہول جملے خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ طِينٍ کو بدلیں۔
- الْإِنْسَانُ خُلِقَ مِنْ طِينٍ
- الْإِنْسَانُ خَلَقَ مِنْ طِينٍ
- هُوَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ طِينٍ
- الطِّينُ خَلَقَ الْإِنْسَانَ
سوال 6
فَاطِمَةُ وَزَيْنَبُ وَحَامِدٌ خَرَجُوا میں خَرَجُوا کیوں آیا ہے؟
- کیونکہ ہر عطفی جماعت مؤنث ہوتی ہے۔
- کیونکہ جماعت میں ایک مرد بھی شامل ہے اور اسے جمع مذکر کے طور پر لایا گیا ہے۔
- کیونکہ فعل مجہول ہے۔
- کیونکہ فَاطِمَةُ تثنیہ ہے۔
سوال 7
دَخَلَ فِي الْبَيْتِ کو جملہ اسمیہ کی ترتیب دینے کے لیے کون سا منفصل ضمیر درست ہے؟
سوال 8
ہر نئے جملہ اسمیہ کو اس کے مبتدا اور فعل سے ظاہر ہونے والے عدد اور جنس سے ملائیں۔
سوال 9
الْوَلَدَانِ جَلَسَا أَمَامَ الْمُعَلِّمِ میں ہر اصطلاح کو اس کے کردار سے ملائیں۔
سوال 10
فاعل کو فعل سے پہلے لانے سے اصل مفعول بھی فاعل بن جاتا ہے۔
سوال 11
جب ظاہر جمع مذکر فاعل پہلے آ کر مبتدا بنے تو اس تبدیلی میں بعد کا فعل بھی جمع مذکر ہوگا۔
سوال 12
ہر مبتدا کو اس فعل کی صورت کے مطابق الگ کریں جو اس کے بعد درکار ہے۔
سوال 13
نئے جملوں کو ان کی ترتیب کے لحاظ سے الگ کریں۔
سوال 14
الفاظ ترتیب دے کر بدلیں: دَخَلَ الْوَلَدَانِ الصَّالِحَانِ فِي الْمَسْجِدِ۔
سوال 15
ذَهَبَتْ إِلَى أُمِّهَا کے لیے جملہ اسمیہ ترتیب دیں۔
سوال 16
شَرِبْنَا الْمَاءَ کے لیے جملہ اسمیہ ترتیب دیں۔
سوال 17
أَكَلَ الْمُسَافِرُونَ الطَّعَامَ کی تبدیلی کے طور پر الْمُسَافِرُونَ أَكَلَ الطَّعَامَ میں کیا غلطی ہے؟
- مفعول کو مبتدا سے پہلے لانا چاہیے۔
- فعل کو مجہول بنانا چاہیے۔
- اسم کو واحد مؤنث ہونا چاہیے۔
- فعل کو جمع مذکر ہونا چاہیے کیونکہ مبتدا جمع مذکر ہے۔
تعاملی کوئز کھولیں