إِنْ سے شرطیہ جملہ
إِنْ سے شرطیہ جملہ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. إِنْ سے شرطیہ جملہ
إِنْ کا معنی اگر ہے۔ یہ ایک شرط کو اس کے نتیجے کے ساتھ جوڑتا ہے۔ إِنْ تَدْرُسْ تَنْجَحْ اگر تم پڑھو گے تو کامیاب ہوگے۔ پڑھنا شرط ہے اور کامیابی اس کا نتیجہ۔ سبق کے آخر تک آپ دونوں حصے پہچان سکیں گے اور بتا سکیں گے کہ دونوں فعل مضارع مجزوم کیوں ہیں۔
2. شرطیہ جملے کے دو حصے
شرطیہ جملے کے دو باہم جڑے ہوئے حصے ہوتے ہیں۔ ● شرط: وہ کام جس سے پہلے إِنْ آتا ہے۔ ● جوابِ شرط یا جزاء: وہ نتیجہ جو شرط پوری ہونے پر سامنے آتا ہے۔ إِنْ تَجْلِسْ أَجْلِسْ میں: شرط: تَجْلِسْ — تم بیٹھو۔ جوابِ شرط: أَجْلِسْ — میں بیٹھوں۔ دوسرا کام پہلے کام کے ساتھ مشروط ہے۔
3. دونوں فعل مجزوم کیوں ہیں؟
جب دونوں حصوں میں فعل مضارع ہوں تو إِنْ شرط والے فعل کو مجزوم کرتا ہے، اور جوابِ شرط کا فعل بھی مجزوم ہوتا ہے۔ اس مجزوم صورت کو مضارع اخف کہتے ہیں۔ شرطیہ جملے سے پہلے: تَجْلِسُ — تم بیٹھتے ہو؛ أَجْلِسُ — میں بیٹھتا ہوں۔ شرطیہ جملے میں: إِنْ تَجْلِسْ أَجْلِسْ دونوں آخری ضمے سکون میں بدل گئے۔ صرف ایک فعل کو مجزوم کرکے دوسرے کو مرفوع نہ چھوڑیں۔
4. جزم کے معلوم قاعدے یہاں بھی لگتے ہیں
دونوں فعل مجزوم ہوتے ہیں، مگر اپنے اپنے آخری گروہ کی وجہ سے ان کی ظاہری تبدیلی مختلف ہوسکتی ہے۔ ● آخر میں سکون: تَدْرُسُ ← تَدْرُسْ اور تَنْجَحُ ← تَنْجَحْ۔ ● نونِ اعرابی کا حذف: يَجْلِسُونَ ← يَجْلِسُوا۔ ● نونِ نسوہ کے ساتھ کوئی ظاہری تبدیلی نہیں: تَكْتُبْنَ ← تَكْتُبْنَ۔ اسی لیے إِنْ يَجْلِسُوا نَبْدَأْ درست ہے: پہلے فعل سے نونِ اعرابی حذف ہوا اور دوسرے کے آخر میں سکون آیا۔
5. شرط اور جواب کو الگ پہچانیں
پہلی دو مثالوں میں دونوں حصوں کا نام لے کر معنی سمجھیں۔ إِنْ تَجْلِسْ أَجْلِسْ شرط: اگر تم بیٹھو گے۔ جواب: تو میں بیٹھوں گا۔ إِنْ تَضْرِبْنِي أَضْرِبْكَ شرط: اگر تم مجھے مارو گے۔ جواب: تو میں تمہیں ماروں گا۔ تَضْرِبْنِي کے ساتھ لگا ہوا نِي ”مجھے“ کا معنی دیتا ہے۔ اس لاحقے سے پہلے بْ پر جزم کا سکون برقرار ہے۔
6. جزم کی دو مختلف ظاہری صورتیں
ایک شرطیہ جملے کے دونوں افعال میں جزم کی ظاہری علامت مختلف ہوسکتی ہے۔ إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا۔ فعلِ شرط: تَنْصُرُوا — اس کا نونِ اعرابی حذف ہوا۔ جوابِ شرط: يَنْصُرْكُمْ — اس کا آخری ضمہ سکون میں بدلا۔ إِنْ تَرْحَمْ تُرْحَمْ اگر تم رحم کرو گے تو تم پر رحم کیا جائے گا۔ دونوں افعال کے آخر میں جزم کا سکون ہے؛ دوسرا فعل مجہول ہے۔
7. صرف الفاظ نہیں، باہمی تعلق بھی سمجھیں
بامحاورہ ترجمے میں ”اگر ... تو ...“ کا باہمی تعلق واضح رہنا چاہیے۔ إِنْ تَفْتَحْ الْبَابَ أَدْخُلْ شرط: تم دروازہ کھولو۔ نتیجہ: میں اندر آؤں۔ بامحاورہ ترجمہ: اگر تم دروازہ کھولو گے تو میں اندر آؤں گا۔ اردو میں عموماً اگر ... تو ... کہا جاتا ہے۔ عربی میں إِنْ شرط شروع کرتا ہے اور دوسرا فعل اس کا جواب ظاہر کرتا ہے۔
8. تین عام غلطیاں
معنی، جملے میں کردار اور فعل کے آخر کو الگ الگ جانچیں۔ ● إِنْ کا معنی ”ابھی تک نہیں“ نہ کریں؛ یہ لَمَّا کا معنی ہے۔ ● پہلے فعل کو جوابِ شرط نہ کہیں؛ وہ شرط بیان کرتا ہے۔ ● یہاں إِنْ تَجْلِسُ أَجْلِسُ نہ لکھیں۔ دونوں فعل مضارع ہوں تو دونوں میں جزم کا نتیجہ ظاہر ہوگا: إِنْ تَجْلِسْ أَجْلِسْ۔
9. چار قدموں میں شرطیہ جملہ سمجھیں
دو فعلِ مضارع والے إِنْ کے شرطیہ جملے کو ان چار قدموں سے سمجھیں۔ اوّل: إِنْ پہچان کر اس کا معنی ”اگر“ کریں۔ دوم: پہلے حصے کو شرط قرار دیں۔ سوم: دوسرے حصے کو جوابِ شرط یا جزاء قرار دیں۔ چہارم: ہر فعل کے آخری گروہ کے مطابق جزم کا نتیجہ بتائیں۔ پھر ایسا ایک مکمل بامحاورہ ترجمہ کریں جس میں شرط اور نتیجے کا تعلق واضح ہو۔
مشق کے سوالات
سوال 1
اس سبق میں إِنْ کون سا معنی دیتا ہے؟
- اگر
- ابھی تک نہیں
- کبھی نہیں
- تاکہ
سوال 2
ہر اصطلاح کو اس کے نحوی کام سے ملائیں۔
سوال 3
إِنْ يَصِلْ عَلِيٌّ نَبْدَأْ میں شرط کون سا حصہ بیان کرتا ہے؟
- نَبْدَأْ
- يَصِلْ عَلِيٌّ
- عَلِيٌّ نَبْدَأْ
- صرف عَلِيٌّ
سوال 4
إِنْ تَضْرِبْنِي أَضْرِبْكَ میں جوابِ شرط کا فعل کون سا ہے؟
- تَضْرِبْ
- نِي
- أَضْرِبْكَ
- إِنْ
سوال 5
اس ترکیب میں إِنْ دو فعلِ مضارع کو جوڑے تو دونوں فعل مجزوم ہوتے ہیں۔
سوال 6
کون سا جملہ دونوں افعال پر جزم کی درست علامت لگاتا ہے؟
- إِنْ تَدْرُسُ تَنْجَحُ
- إِنْ تَدْرُسْ تَنْجَحُ
- إِنْ تَدْرُسُ تَنْجَحْ
- إِنْ تَدْرُسْ تَنْجَحْ
سوال 7
ہر مکمل شرطیہ جملے میں نمایاں کیے گئے فعل کو اس کے کردار کے مطابق گروہ میں رکھیں۔
سوال 8
شرطیہ جملے میں تَنْصُرُوا کے آخر میں نَ کیوں نہیں ہے؟
- جزم کی وجہ سے نونِ اعرابی حذف ہوا
- یہ واحد بن گیا
- یہ مجہول بن گیا
- فاعل ختم ہوگیا
سوال 9
ترتیب بنائیں: ”اگر تم بیٹھو گے تو میں بیٹھوں گا۔“
سوال 10
إِنْ تَرْحَمْ تُرْحَمْ کے دونوں حصوں کا درست بامحاورہ ترجمہ کون سا ہے؟
- تم نے کل رحم کیا۔
- فوراً رحم کرو۔
- اگر تم رحم کرو گے تو تم پر رحم کیا جائے گا۔
- تم نے ابھی تک رحم نہیں کیا۔
سوال 11
مجزوم افعال کو ان کی ظاہری آخری علامت کے مطابق گروہ میں رکھیں۔
سوال 12
بہترین جوابِ شرط چنیں: إِنْ تَفْتَحْ الْبَابَ ...
- أَدْخُلُ
- دَخَلْتُ
- لَنْ أَدْخُلَ
- أَدْخُلْ
سوال 13
جملہ إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ میں صرف ایک مجزوم فعل ہے۔
سوال 14
ترتیب بنائیں: ”اگر تم آواز سنو گے تو باہر جاؤ گے۔“
تعاملی کوئز کھولیں