ذُو: جنس، تعداد اور اعراب
ذُو: جنس، تعداد اور اعراب کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. ذُو کی جنس، تعداد اور اعراب
ذُو کا معنی ”والا/صاحب“ ہے۔ پچھلے سبق کے اسمائے خمسہ کی طرح اس کی صورت اعراب کے ساتھ بدلتی ہے۔ اس کی صورتیں مذکر/مؤنث اور واحد/تثنیہ/جمع بھی ظاہر کرتی ہیں۔ موقع کے مطابق اس کا فطری اردو ترجمہ والا، والی، والے، والیاں ہوگا۔
2. ہر صورت مضاف ہوتی ہے
اس خاندان کی ہر صورت مضاف ہوتی ہے اور کسی اسمِ ظاہر سے مکمل ہوتی ہے: رَجُلٌ ذُو عِلْمٍ — علم والا آدمی۔ اس ترکیب میں اسے براہِ راست ضمیر سے نہ جوڑیں: ذُو عِلْمٍ کہیں، ذُوهُ نہیں۔ اگلے جدول مضاف کی صورتیں دکھاتے ہیں، مکمل مستقل تراکیب نہیں۔
3. مذکر صورتیں
مذکر صورتیں تعداد اور اعراب کے ساتھ بدلتی ہیں۔ جمع کی دونوں سطریں دو درست صورتیں ہیں۔ تعداد / صورت رفع نصب جر واحد ذُو ذَا ذِي تثنیہ ذَوَا ذَوَيْ ذَوَيْ جمع، پہلی صورت ذَوُو ذَوِي ذَوِي جمع، دوسری صورت أُولُو أُولِي أُولِي
4. مذکر صورتیں جملوں میں
واحد کے اعراب: رَجُلٌ ذُو عِلْمٍ — مرفوع۔ رَأَيْتُ رَجُلًا ذَا عِلْمٍ — منصوب۔ مَرَرْتُ بِرَجُلٍ ذِي عِلْمٍ — مجرور۔ تثنیہ کا فرق: رَجُلَانِ ذَوَا عِلْمٍ — مرفوع۔ رَأَيْتُ رَجُلَيْنِ ذَوَيْ عِلْمٍ — منصوب۔ عام تثنیہ یا جمع مذکر سالم میں نون آتا ہے، جیسے رَجُلَانِ اور مُسْلِمُونَ۔ ان مضاف صورتوں میں وہ نون نہیں رہتا: ذَوَا/ذَوَيْ، ذَوُو/ذَوِي، أُولُو/أُولِي۔ نیز اسمِ اشارہ هَذَا رَجُلٌ (یہ ایک آدمی ہے) کا مقابلہ رَأَيْتُ رَجُلًا ذَا عِلْمٍ سے کریں؛ دوسری ترکیب میں ذَا کا معنی ”علم والا“ ہے، ”یہ“ نہیں۔
5. مؤنث صورتیں
مؤنث واحد کی ایک صورت ہے، جبکہ مؤنث تثنیہ اور جمع کی دو دو صورتیں ہیں۔ تعداد / صورت رفع نصب جر واحد ذَاتُ ذَاتَ ذَاتِ تثنیہ، پہلی صورت ذَاتَا ذَاتَيْ ذَاتَيْ تثنیہ، دوسری صورت ذَوَاتَا ذَوَاتَيْ ذَوَاتَيْ جمع، پہلی صورت ذَوَاتُ ذَوَاتِ ذَوَاتِ جمع، دوسری صورت أُولَاتُ أُولَاتِ أُولَاتِ
6. مؤنث صورتیں جملوں میں
واحد کے اعراب: مُعَلِّمَةٌ ذَاتُ عِلْمٍ — مرفوع۔ رَأَيْتُ مُعَلِّمَةً ذَاتَ عِلْمٍ — منصوب۔ مَرَرْتُ بِمُعَلِّمَةٍ ذَاتِ عِلْمٍ — مجرور۔ تثنیہ کی دو صورتیں یہ ہیں: ذَاتَا/ذَاتَيْ اور ذَوَاتَا/ذَوَاتَيْ۔ مثال: مُعَلِّمَتَانِ ذَوَاتَا عِلْمٍ — علم والی دو معلمات۔
7. ان صورتوں کا قرآنی استعمال
مؤنث تثنیہ میں دوسری صورت کی صرف مرفوع شکل ذَوَاتَا قرآن میں مستعمل بتائی گئی ہے، جبکہ پہلی صورت ذَاتَا/ذَاتَيْ وہاں غیر مستعمل بتائی گئی ہے۔ جمع میں مذکر اور مؤنث دونوں کی دو دو صورتیں ہیں، مگر دوسری صورتیں أُولُو/أُولِي اور أُولَاتُ/أُولَاتِ قرآن میں زیادہ استعمال ہوئی ہیں۔ یہ استعمال کا بیان ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جدول کی دوسری صورتیں قواعد کے لحاظ سے غلط ہیں۔
8. ابتدائی واو ضرور لکھیں
أُولُو، أُولِي، أُولَاتُ، أُولَاتِ میں ابتدائی ہمزہ کے بعد واو لکھی جاتی ہے۔ اسے الگ صامت ”و“ کی آواز نہ دیں، لیکن املا میں حذف بھی نہ کریں۔ أُولَئِكَ صرف اس لکھی ہوئی واو کی املا والی مثال ہے؛ وہ اسمِ اشارہ ہے، ذُو کی صورت نہیں۔ درست املا: أُولُو عِلْمٍ۔ غلط املا: أُلُو عِلْمٍ۔
9. مطابقت اور اعراب برقرار رہتے ہیں
جنس، تعداد اور اعراب تینوں کو ساتھ دیکھیں: رِجَالٌ أُولُو عِلْمٍ — مذکر جمع، مرفوع۔ مَرَرْتُ بِرِجَالٍ أُولِي عِلْمٍ — مذکر جمع، مجرور۔ نِسَاءٌ أُولَاتُ عِلْمٍ — مؤنث جمع، مرفوع۔ رَأَيْتُ نِسَاءً أُولَاتِ عِلْمٍ — مؤنث جمع، منصوب۔ ہر مثال میں مضاف الیہ عِلْمٍ مجرور ہی رہتا ہے۔
10. درست صورت چننے کا طریقہ
• پہلے دیکھیں کہ صورت اسمِ ظاہر کی طرف مضاف ہے۔ • مذکر یا مؤنث طے کریں۔ • واحد، تثنیہ یا جمع چنیں؛ تثنیہ/جمع میں مطلوبہ صورت بھی پہچانیں۔ • جملے کے کردار سے رفع، نصب یا جر طے کریں۔ • أُولُو/أُولَات کے خاندان میں لکھی ہوئی واو باقی رکھیں، اور قرآنی استعمال کے دعوے کو نحوی درستی سے الگ سمجھیں۔
مشق کے سوالات
سوال 1
مؤنث واحد کی مرفوع صورت کون سی ہے؟
سوال 2
اس ترکیب میں ذُو کو براہِ راست ضمیر سے جوڑ کر ذُوهُ کہا جاسکتا ہے۔
سوال 3
مرفوع ترکیب مکمل کریں: هَذَا رَجُلٌ ___ عِلْمٍ۔
سوال 4
منصوب ترکیب مکمل کریں: رَأَيْتُ رَجُلًا ___ عِلْمٍ۔
سوال 5
ہر مذکر ترکیب کو اس کی تعداد اور اعرابی حالت سے ملائیں۔
سوال 6
مذکر جمع کی پہلی صورت میں مرفوع لفظ کون سا ہے؟
سوال 7
مؤنث منصوب ترکیب مکمل کریں: رَأَيْتُ مُعَلِّمَةً ___ عِلْمٍ۔
سوال 8
ہر مؤنث ترکیب کو اس کی تعداد اور اعرابی حالت سے ملائیں۔
سوال 9
مؤنث تثنیہ کی پہلی صورت ذَاتَا/ذَاتَيْ قواعد کے لحاظ سے درست ہے، اگرچہ اسے قرآن میں غیر مستعمل بتایا گیا ہے۔
سوال 10
مؤنث تثنیہ کی کون سی مرفوع صورت کو خاص طور پر قرآن میں مستعمل بتایا گیا ہے؟
- ذَاتَا
- ذَوَاتَا
- ذَاتَيْ
- ذَوَاتَيْ
سوال 11
جمع کی دوسری صورتوں میں کون سا جوڑا قرآن میں زیادہ مستعمل بتایا گیا ہے؟
- ذُو / ذَاتُ
- ذَوَا / ذَاتَا
- أُولُو / أُولَاتُ
- ذَوِي / ذَوَاتِ
سوال 12
چونکہ ابتدائی ہمزہ کے بعد واو الگ صامت آواز نہیں دیتی، اس لیے أُولُو لکھتے وقت اسے حذف کردینا چاہیے۔
سوال 13
ہر مکمل ترکیب کو جنس کے لحاظ سے الگ کریں۔
سوال 14
ہر ترکیب کو ذُو کے خاندان کی اعرابی حالت کے لحاظ سے الگ کریں۔
سوال 15
ترتیب دیں: علم والے دو آدمی آئے۔
سوال 16
مؤنث جمع کی دوسری مرفوع صورت سے مکمل کریں: نِسَاءٌ ___ عِلْمٍ۔
- ذَوَاتِ
- أُولِي
- ذَوُو
- أُولَاتُ
تعاملی کوئز کھولیں