مفعول بہ: جس پر فعل واقع ہو

مفعول بہ: جس پر فعل واقع ہو کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. منصوبات سے مفاعیلِ خمسہ تک

مفعول کی پانچ قسمیں ہیں جنہیں مَفَاعِيلُ خَمْسَةٌ کہا جاتا ہے۔ جملہ فعلیہ میں آپ جس مفعول کو پڑھ چکے ہیں، وہ ان میں پہلی قسم ہے اور اسے مَفْعُولٌ بِهِ کہتے ہیں۔ اس سبق میں صرف اسی پہلی قسم کا مطالعہ ہوگا۔

2. مفعول بہ کیا ہے؟

مَفْعُولٌ بِهِ وہ شخص یا چیز ہے جس پر فعل واقع ہو۔ أَكَلَ إِبْرَاهِيْمُ التُّفَّاحَ — ابراہیم نے سیب کھایا: - کام کھانا ہے؛ - إِبْرَاهِيْمُ نے یہ کام کیا، اس لیے وہ فاعل ہے؛ - کھانے کا کام التُّفَّاحَ پر واقع ہوا، اس لیے وہ مفعول بہ ہے۔ سوال کریں: ”کام کس پر واقع ہوا؟“ جواب عموماً مفعول بہ تک پہنچا دیتا ہے۔

3. کام کرنے والے اور مفعول کو نہ الٹیں

معنی اور اعراب دونوں مل کر فاعل اور مفعول بہ کو الگ پہچنواتے ہیں۔ ضَرَبَ حَامِدٌ مَحْمُودًا — حامد نے محمود کو مارا۔ - حَامِدٌ نے کام کیا: فاعل اور مرفوع۔ - مَحْمُودًا پر کام واقع ہوا: مفعول بہ اور منصوب۔ مَحْمُودًا کا آخری فتحہ تجزیے کی تائید کرتا ہے، لیکن پہلے یہ سمجھیں کہ کام کس نے کیا اور کس پر واقع ہوا۔

4. جب فاعل فعل میں سمجھا جائے

جملے میں الگ فاعل کا اسم نظر نہ آئے، تب بھی مفعول بہ موجود ہوسکتا ہے۔ نَصَرَ الْمُسْلِمِينَ — اس نے مسلمانوں کی مدد کی۔ - فعل ماضی نَصَرَ میں ”اس نے“ کا فاعل سمجھا جاتا ہے؛ - مدد الْمُسْلِمِينَ کو ملی، اس لیے یہ لفظ مفعول بہ ہے؛ - جمع مذکر سالم ہونے کی وجہ سے یاء اس کے نصب کی علامت ہے۔ صرف قریب آنے والے اسم کو خود بخود فاعل نہ سمجھیں۔

5. مبنی لفظ بھی مفعول بہ ہوسکتا ہے

لفظ کے آخر پر بدلتی ہوئی حرکت نظر نہ آئے، تب بھی جملے سے اس کا نحوی کردار معلوم ہوسکتا ہے۔ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ دیکھیں: ”اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا جو۔۔۔“ - اللَّهُ ظاہر فاعل ہے۔ - وعدے کا فعل الَّذِينَ پر واقع ہوا، اس لیے یہ مفعول بہ ہے۔ - الَّذِينَ مبنی ہے؛ اس لیے نئی ظاہری حرکت تلاش کرنے کے بجائے کہیں گے کہ یہ محلِ نصب میں ہے۔ دکھایا گیا ٹکڑا الَّذِينَ پر رک جاتا ہے؛ تین نقطے بتاتے ہیں کہ یہاں اس کا صلۂ موصول نقل نہیں کیا گیا۔

6. نصب کی علامت مختلف ہوسکتی ہے

یہاں ہر مفعول بہ منصوب ہے، مگر نصب کی علامت اسم کی صورت کے مطابق بدلتی ہے۔ مفعول بہ کی صورتمثالعلامت یا حالتواحد یا جمع مکسرالتُّفَّاحَ، مَحْمُودًا، الْكُتُبَفتحہجمع مذکر سالمالْمُسْلِمِينَیاءجمع مؤنث سالمالسَّمَاوَاتِکسرہمبنی اسم موصولالَّذِينَمحلِ نصب پہلے نحوی کردار پہچانیں، پھر اسم کی صورت کے مطابق علامت بتائیں۔

7. مفعول بہ کی مزید دو صورتیں

جمع والے مفعول بہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ”منصوب“ کا مطلب ہمیشہ ظاہری فتحہ نہیں ہوتا۔ كَتَبَ الْكُتُبَ — اس نے کتابیں لکھیں۔ - فعل میں ”اس نے“ کا فاعل سمجھا جاتا ہے؛ - الْكُتُبَ جمع مکسر مفعول بہ ہے اور فتحہ کے ساتھ منصوب ہے۔ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ — اللہ نے آسمانوں کو پیدا کیا۔ - اللَّهُ فاعل ہے؛ - السَّمَاوَاتِ جمع مؤنث سالم مفعول بہ ہے اور کسرہ کے ساتھ منصوب ہے۔

8. قاعدہ نئی سادہ مثالوں پر لگائیں

پہلے کام، پھر کام کرنے والے اور آخر میں اس شخص یا چیز کو پہچانیں جس پر کام واقع ہوا۔ قَرَأَ الطَّالِبُ الدَّرْسَ — طالبِ علم نے سبق پڑھا۔ - فاعل: الطَّالِبُ؛ مفعول بہ: الدَّرْسَ۔ فَتَحَ الطِّفْلُ الْبَابَ — بچے نے دروازہ کھولا۔ - فاعل: الطِّفْلُ؛ مفعول بہ: الْبَابَ۔ شَكَرَ الْمُعَلِّمُ الطَّالِبَ — استاد نے طالبِ علم کا شکریہ ادا کیا۔ - فاعل: الْمُعَلِّمُ؛ مفعول بہ: الطَّالِبَ۔

9. تین عام غلطیاں

صرف لفظ کی جگہ یا ایک ظاہری حرکت دیکھ کر مفعول بہ کا فیصلہ نہ کریں۔ 1. فاعل اور مفعول بہ کو نہ الٹیں: ضَرَبَ حَامِدٌ مَحْمُودًا میں حامد نے کام کیا اور محمود پر کام واقع ہوا۔ 2. الگ فاعل کے اسم کو لازم نہ سمجھیں: نَصَرَ الْمُسْلِمِينَ میں فاعل فعل سے سمجھا جاتا ہے۔ 3. ہر مفعول بہ پر فتحہ لازم نہ کریں: الْمُسْلِمِينَ یاء اور السَّمَاوَاتِ کسرہ کے ساتھ منصوب ہے۔ معنی نحوی تعلق واضح کرتا ہے اور مناسب اعرابی علامت اس کی تائید کرتی ہے۔

10. پہچاننے کا قابلِ اعتماد طریقہ

مفعول بہ پہچاننے کے لیے چار مرحلے استعمال کریں۔ 1. فعل تلاش کریں: کون سا کام ہوا؟ 2. فاعل پہچانیں: یہ کام کس نے کیا، ظاہر اسم نے یا فعل میں سمجھے جانے والے فاعل نے؟ 3. پوچھیں: کام کس شخص یا چیز پر واقع ہوا؟ 4. اس اسم کی صورت کے مطابق نصب کی علامت کی تصدیق کریں۔ أَكَلَ إِبْرَاهِيْمُ التُّفَّاحَ میں کام کھانا ہے، ابراہیم کھانے والا ہے اور سیب کھایا گیا۔ اس لیے التُّفَّاحَ مفعول بہ ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

مفعول بہ کی درست پہچان کون سی ہے؟

  • وہ شخص یا چیز جس پر فعل واقع ہو
  • وہ شخص جو کام کرے
  • وہ لفظ جو کام کا وقت بتائے
  • وہ لفظ جو حرفِ جر کے ساتھ آئے

سوال 2

أَكَلَ إِبْرَاهِيْمُ التُّفَّاحَ میں مفعول بہ کون سا لفظ ہے؟

  • أَكَلَ
  • إِبْرَاهِيْمُ
  • التُّفَّاحَ
  • مفعول بہ موجود نہیں

سوال 3

ضَرَبَ حَامِدٌ مَحْمُودًا میں دونوں ناموں کے نحوی کردار کیا ہیں؟

  • دونوں نام فاعل ہیں۔
  • محمود فاعل اور حامد مفعول بہ ہے۔
  • دونوں نام مفعول بہ ہیں۔
  • حامد فاعل اور محمود مفعول بہ ہے۔

سوال 4

نَصَرَ الْمُسْلِمِينَ میں الْمُسْلِمِينَ مفعول بہ کیوں ہے؟

  • کیونکہ مسلمانوں نے مدد کی۔
  • کیونکہ مسلمانوں کی مدد کی گئی اور فاعل فعل سے سمجھا جاتا ہے۔
  • کیونکہ ہر جمع اسم مفعول ہوتا ہے۔
  • کیونکہ یہ حرفِ جر کے بعد آیا ہے۔

سوال 5

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ میں الَّذِينَ کا نحوی کردار کیا ہے؟

  • مرفوع فاعل
  • محلِ نصب میں مفعول بہ
  • مجرور مضاف الیہ
  • فعل ناقص کی خبر

سوال 6

خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ میں السَّمَاوَاتِ کسرہ کے باوجود منصوب کیوں ہے؟

  • یہ جمع مؤنث سالم ہے جس کی علامتِ نصب کسرہ ہے۔
  • یہ حذف شدہ حرفِ جر کی وجہ سے مجرور ہے۔
  • یہ جملے کا فاعل ہے۔
  • ہر کسرہ والا لفظ منصوب ہوتا ہے۔

سوال 7

نئی مثال حَفِظَتِ الطَّالِبَاتُ الدَّرْسَ میں مفعول بہ کون سا لفظ ہے؟

  • حَفِظَتِ
  • الطَّالِبَاتُ
  • الدَّرْسَ
  • اس جملے میں مفعول بہ نہیں

سوال 8

ہر جملے کو اس کے مجرد نحوی تجزیے سے ملائیں۔

سوال 9

مفعول بہ صرف اسی وقت آسکتا ہے جب فاعل کا الگ اسم لکھا ہوا ہو۔

سوال 10

ہر مفعول بہ پر ظاہری فتحہ ہونا ضروری ہے۔

سوال 11

ہر نمایاں لفظ کو جملے میں اس کے نحوی کردار کے مطابق الگ کریں۔

سوال 12

ہر مفعول بہ کو اس کی علامت یا اعرابی حالت کے مطابق الگ کریں۔

سوال 13

وہ درست اعراب والا جملہ منتخب کریں جس کا معنی ہو: ابراہیم نے سیب کھایا۔

  • أَكَلَ إِبْرَاهِيْمَ التُّفَّاحُ
  • أَكَلَ إِبْرَاهِيْمُ التُّفَّاحِ
  • أَكَلَ إِبْرَاهِيْمُ التُّفَّاحُ
  • أَكَلَ إِبْرَاهِيْمُ التُّفَّاحَ

سوال 14

وہ جملہ ترتیب دیں جس کا معنی ہو: طالبِ علم نے کتاب اٹھائی۔

سوال 15

وہ جملہ ترتیب دیں جس کا معنی ہو: استاد نے طالبات کا شکریہ ادا کیا۔

تعاملی کوئز کھولیں