قبول و رد: مقبول اور مردود
مقبول اور مردود کا فرق سمجھیں، اور راویوں کی تعداد کو قبول کی بنیاد سے الگ پہچانیں۔ قبول و رد: مقبول اور مردود کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. اس سبق میں کیا سیکھیں گے؟
اب تک راویوں کی تعداد کے اعتبار سے روایتوں کے نام پڑھے ہیں۔ اب یہ سمجھیں گے کہ کسی روایت کو قبول کرنے میں راویوں کے حالات اور صفات کیوں اہم ہیں۔ • قبول کی جانے والی روایت کو مقبول کہتے ہیں۔ • قبول نہ کی جانے والی روایت کو مردود کہتے ہیں۔ اس سبق میں ان دونوں کا بنیادی فرق سمجھیں گے۔
2. تعداد سے الگ بات
کسی روایت کے بارے میں صرف یہ بتایا جائے کہ اسے کئی راویوں نے نقل کیا ہے۔ کیا اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ وہ راوی قابلِ اعتماد ہیں؟ نہیں۔ تعداد بتاتی ہے کہ راوی کتنے ہیں۔ حالات اور صفات سے معلوم ہوتا ہے کہ روایت نقل کرنے میں ان پر اعتماد کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ اس لیے صرف زیادہ راوی ہونا، قبول کا فیصلہ کرنے کے لیے کافی نہیں۔
3. مقبول روایت
خبرِ مقبول ایسی روایت کو کہتے ہیں جس کے راوی معتبر اور ثقہ ہوں۔ یہاں خبر سے حدیث کی روایت مراد ہے۔ ثقہ یعنی روایت نقل کرنے میں قابلِ اعتماد راوی۔ صرف کسی شخص سے واقف ہونا، اسے ثقہ ثابت نہیں کرتا۔ قبول کے لیے مطلوب صفات1 کا موجود ہونا ضروری ہے۔ روایت کی پوری تحقیق میں سند اور متن کی دوسری شرطیں بھی دیکھی جاتی ہیں۔ 1. مطلوب صفات: وہ ضروری خوبیاں جن کا راوی میں ہونا قبول کے لیے درکار ہے۔ ان کی تفصیل الگ سیکھیں گے۔
4. مردود روایت
مردود اس روایت کو کہتے ہیں جو قبول نہ کی جائے۔ راوی میں قبول کے لیے ضروری صفات نہ ہوں تو اس کی روایت قبول نہیں کی جاتی۔ مثلاً راوی کے بارے میں صرف یہ معلوم ہونا کہ وہ روایت نقل کرتا ہے، کافی نہیں؛ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اس کام میں قابلِ اعتماد ہے۔ یہاں راوی ہونا اور قابلِ اعتماد راوی ہونا دو الگ باتیں ہیں۔
5. اس تقسیم کی دو صورتیں
راویوں کی صفات کے اس اعتبار سے دو صورتیں ہیں: • معتبر راوی: قبول کے لیے مطلوب صفات رکھتے ہوں؛ روایت مقبول کی قسم میں آتی ہے۔ • غیر معتبر راوی: قبول کے لیے مطلوب صفات نہ رکھتے ہوں؛ روایت مردود کی قسم میں آتی ہے۔ اسی فرق کی وجہ سے اس تقسیم کے دو نام ہیں: مقبول اور مردود۔
6. دو ناموں کی وجہ ایک نہیں
• «اس روایت کے راوی کم ہیں، اس لیے یہ مردود ہے۔» یہ وجہ کافی نہیں؛ کم تعداد سے مطلوب صفات کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ • «اس روایت کے راویوں میں قبول کے لیے مطلوب صفات نہیں پائی گئیں، اس لیے یہ مردود ہے۔» یہاں وجہ راویوں کی صفات سے متعلق ہے۔ پہلی بات راویوں کی تعداد کے بارے میں ہے؛ دوسری قبول کی بنیاد کے بارے میں۔
7. خلاصہ
• مقبول: قبول کی جانے والی روایت؛ اس کے راوی معتبر اور ثقہ ہوتے ہیں۔ • ثقہ: روایت نقل کرنے میں قابلِ اعتماد راوی۔ • مردود: قبول نہ کی جانے والی روایت؛ راویوں میں قبول کے لیے مطلوب صفات نہ ہوں۔ اس تقسیم کی بنیاد راویوں کے حالات اور صفات ہیں، صرف ان کی تعداد نہیں۔
مشق کے سوالات
سوال 1
ایک طالب علم کہتا ہے: «راوی زیادہ ہیں، اس لیے روایت ضرور مقبول ہے۔» اس نتیجے میں کیا کمی ہے؟
- روایت کے الفاظ گنے نہیں گئے۔
- راویوں کا قابلِ اعتماد ہونا معلوم نہیں کیا گیا۔
- راویوں کی تعداد کم نہیں کی گئی۔
سوال 2
ثقہ روایت کا نام ہے، راوی کی صفت نہیں۔
سوال 3
ہر اصطلاح کو اس کے مناسب مطلب سے ملائیں۔
سوال 4
راویوں کی تعداد بدلنے کے بجائے ان کی ضروری صفات پر گفتگو ہو رہی ہے۔ یہ گفتگو کس سوال کا جواب دیتی ہے؟
- روایت قبول کی جائے یا نہ کی جائے؟
- ہر زمانے میں راوی کتنے ہیں؟
- روایت کے متن میں کتنے الفاظ ہیں؟
تعاملی کوئز کھولیں