عزیز حدیث: ہر طبقے میں کم از کم دو راوی
طالب علم حدیث کو نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا حال کی روایت کے طور پر پہچان سکے۔ عزیز حدیث: ہر طبقے میں کم از کم دو راوی کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. اس سبق میں کیا سیکھیں گے؟
اس سبق میں عزیز حدیث کو راویوں کی تعداد کے اعتبار سے سمجھیں گے۔ راوی حدیث نقل کرنے والا شخص ہے۔ طبقہ سے یہاں مراد ایک زمانے کے راوی ہیں۔ ہر طبقے کے راوی الگ گنے جاتے ہیں۔
2. عزیز حدیث کی مثال
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (صحیح البخاری: 15) آسان مفہوم: تم میں سے کسی کا ایمان مکمل نہیں ہوتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ یہ عزیز حدیث کی مثال ہے۔ اس کی وجہ راویوں کی تعداد ہے: کسی طبقے میں دو سے کم راوی نہیں۔
3. عزیز حدیث کی تعریف
خبرِ عزیز وہ حدیث ہے جس کے راوی ہر طبقے میں کم از کم دو ہوں۔ • ہر طبقے میں دو راوی ہوں: یہ صورت تعریف میں شامل ہے۔ • بعض طبقوں میں دو سے زیادہ ہوں: یہ بھی ہو سکتا ہے۔ اصل شرط یہ ہے کہ کسی طبقے میں دو سے کم نہ ہوں۔
4. زیادہ راوی، کم راوی کی کمی پوری نہیں کرتے
اگر ایک طبقے میں دو اور دوسرے میں چار راوی ہوں تو صرف تعداد بڑھنے سے عزیز کی یہ شرط نہیں ٹوٹتی۔ لیکن کسی طبقے میں صرف ایک راوی ہو تو شرط پوری نہیں ہوتی، چاہے دوسرے طبقوں میں راوی زیادہ ہوں۔ اس لیے پوری سند کے نام جمع کرنا کافی نہیں؛ ہر طبقے کی تعداد الگ دیکھنی ہے۔
5. یہاں «عزیز» کا کیا مطلب ہے؟
عام گفتگو میں «عزیز دوست» سے مراد پیارا دوست ہوتا ہے۔ مگر خبرِ عزیز میں یہ نام راویوں کی تعداد کے لیے ہے۔ نبی ﷺ کی محبت والی حدیث میں دو باتیں الگ ہیں: • فرمان کا مطلب: نبی ﷺ کی محبت کو سب لوگوں کی محبت پر مقدم رکھنا۔ • عزیز ہونے کی وجہ: راوی کسی طبقے میں دو سے کم نہ ہونا۔
6. سبق کا خلاصہ
• عزیز حدیث: ہر طبقے میں کم از کم دو راوی۔ • دو سے زیادہ: بعض طبقوں میں زیادہ راوی بھی ہو سکتے ہیں۔ • دو سے کم: کسی ایک طبقے میں بھی ہوں تو یہ شرط پوری نہیں ہوتی۔ • عزیز کا نام: یہاں راویوں کی تعداد بتاتا ہے، صرف کسی بات کے پیارا لگنے کو نہیں کہتے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
ہر طبقے میں کم از کم دو راوی ہیں، لیکن بعض طبقوں میں چار ہیں۔ صرف اس فرق کی وجہ سے عزیز کی بیان کردہ شرط پر کیا اثر پڑے گا؟
- شرط ٹوٹ جائے گی، کیونکہ ہر جگہ بالکل دو چاہیے۔
- شرط برقرار ہے، کیونکہ کسی طبقے میں دو سے کم نہیں۔
- صرف چار راوی والے طبقوں کو شمار کیا جائے گا۔
سوال 2
کسی ایک طبقے میں صرف ایک راوی ہو تو دوسرے طبقوں کے زیادہ راوی اس کمی کو پورا کر دیتے ہیں۔
سوال 3
ہر جملے کو اس کے مطلب سے ملائیں۔
سوال 4
آپ کو صرف اتنا معلوم ہے کہ ایک طبقے میں دو راوی ہیں۔ عزیز کی بیان کردہ شرط پوری ہونے کے لیے ابھی کیا معلوم کرنا ضروری ہے؟
- حدیث کی دو زبانوں میں عبارت موجود ہے یا نہیں۔
- آج کتنے لوگ یہ حدیث یاد کرتے ہیں۔
- باقی کسی طبقے میں بھی دو سے کم راوی تو نہیں۔
تعاملی کوئز کھولیں