بدعت اور روایت کی قبولیت
دو قسمیں اور قبولیت کی شرطیں بدعت اور روایت کی قبولیت کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. اس سبق کا تعارف
کسی امر کو اپنی طرف سے دین کی حیثیت دے دینا، یا کسی شرعی امر کا مرتبہ گھٹا دینا، اس سبق کی مثالوں میں شامل ہے۔ آج راوی کی بدعت کے لحاظ سے روایت کا حکم سمجھیں گے: • بدعت کا یہاں کیا مطلب ہے؟ • اس کی دو قسموں کا فرق کیا ہے؟ • کس صورت میں روایت کی قبولیت کے لیے دو شرطیں بیان ہوتی ہیں؟
2. بدعت کا مطلب
بدعت ایسا عقیدہ یا عمل ہے جو رسول اللہ ﷺ، صحابہ اور تابعین کے بعد دین کے طور پر ایجاد یا اختیار کیا جائے۔ یہاں راوی کے گمراہ کن عقائد زیرِ بحث ہیں۔ • یہ روایت کے غیر معتبر ہونے کے اسباب میں نواں سبب ہے۔ • صرف کسی چیز کا نیا ہونا اس تعریف کی پوری بات نہیں؛ اسے دین کی حیثیت سے اختیار کرنا بھی ملحوظ ہے۔ 1. لغوی معنی: اس لفظ کے مادے میں پیدا کرنے، نیا ایجاد کرنے اور بے مثال ہونے کے معنی آتے ہیں۔
3. بدعتِ مکفرہ
بدعتِ مکفرہ وہ اعتقاد ہے جو کفر کا باعث ہو۔ اس قسم میں اعتقاد کی نوعیت بنیادی بات ہے۔ • یہاں اعتقاد کی علمی درجہ بندی سمجھنی ہے۔ • اس کے بعد اس سے متعلق راوی کی روایت کا حکم پڑھیں گے۔ • کسی معین شخص پر حکم لگانا اس تعریف کو یاد کرلینے سے حاصل ہونے والا اختیار نہیں۔ 1. اعتقاد: وہ بات جسے انسان اپنے عقیدے کے طور پر مانتا ہو۔
4. بدعتِ مکفرہ کی مثالیں
اس قسم کی مثالوں میں یہ اعتقادات شامل ہیں: • حضرت علی میں خدا کے حلول کا اعتقاد۔ • قرآن میں تحریف کا اعتقاد۔ • ختمِ نبوت کا انکار۔ • کسی متواتر اور مشہور عام حکمِ شرعی کا انکار یا اس کے خلاف اعتقاد۔ 1. حلول: یہاں خدا کے حضرت علی میں اتر آنے یا سما جانے کا اعتقاد مراد ہے۔ 2. تحریفِ قرآن: یہاں قرآن کے بدل دیے جانے کا اعتقاد مراد ہے۔ 3. ختمِ نبوت: رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کا نہ آنا۔ 4. متواتر اور مشہور عام حکم: ایسا شرعی حکم جو متواتر طور پر پہنچا ہو اور عام طور پر معروف ہو۔
5. بدعتِ مفسقہ
بدعتِ مفسقہ ایسا اعتقاد یا عمل ہے جو فسق اور گمراہی کا باعث ہو۔ اس کی مثالیں: • کسی امر کو اپنی طرف سے دین کی حیثیت دے دینا۔ • کسی شرعی امر کا مرتبہ گھٹا دینا۔ اس قسم کے لیے صرف اعتقاد ہی نہیں، عمل کا لفظ بھی تعریف میں آیا ہے۔ 1. فسق: دینی اطاعت سے نکلنا اور نافرمانی اختیار کرنا۔ 2. شرعی امر: دین کا حکم یا دینی حیثیت رکھنے والا معاملہ۔
6. دونوں قسموں میں روایت کا حکم
• بدعتِ مکفرہ: اس کے مرتکب کی روایت حجت نہیں۔ • بدعتِ مفسقہ: اس کے مرتکب راوی کی روایت دو شرطوں کے ساتھ معتبر ہے۔ دونوں قسموں کا حکم ایک جیسا نہیں۔ دوسری قسم میں قبولیت کو شرطوں سے الگ کرکے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ 1. مرتکب: جس سے متعلق وہ اعتقاد یا عمل پایا جائے۔ 2. حجت: دلیل کے طور پر قابلِ اعتماد روایت۔
7. پہلی شرط: دعوت نہ دیتا ہو
بدعتِ مفسقہ سے متعلق پہلی شرط یہ ہے کہ راوی لوگوں کو اس بدعت کی طرف دعوت نہ دیتا ہو۔ • یہاں راوی کے دعوت دینے یا نہ دینے کی حالت دیکھی جاتی ہے۔ • صرف یہ معلوم ہونا کافی نہیں کہ روایت کے الفاظ اس بدعت کے بارے میں نہیں ہیں۔ • اس شرط کے ساتھ روایت سے متعلق دوسری شرط بھی ضروری ہے۔
8. دوسری شرط: روایت اسے ثابت یا قوی نہ کرے
دوسری شرط یہ ہے کہ اس روایت سے نہ اس بدعت کا ثبوت ہوتا ہو، نہ اسے تقویت ملتی ہو۔ • ثبوت: روایت اس بدعت کو ثابت کرنے کے لیے دلیل بنتی ہو۔ • تقویت: روایت سے اس بدعت کی تائید اور مضبوطی ہوتی ہو۔ دونوں باتوں کی نفی شرط ہے۔ راوی دعوت نہ دیتا ہو، لیکن روایت سے اس بدعت کو تقویت ملتی ہو، تو بیان کردہ دونوں شرطیں پوری نہیں ہوئیں۔
9. خلاصہ: قسم بھی، شرطیں بھی
• بدعت اس بحث میں راوی کے اعتقاد سے متعلق عیب ہے۔ • بدعتِ مکفرہ کفر کا باعث ہونے والا اعتقاد ہے؛ اس کے مرتکب کی روایت حجت نہیں۔ • بدعتِ مفسقہ فسق و گمراہی کا باعث ہونے والا اعتقاد یا عمل ہے؛ روایت کی قبولیت دو شرطوں کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ • راوی اس بدعت کی دعوت نہ دے۔ • روایت نہ اسے ثابت کرے، نہ اسے تقویت دے۔ ایک شرط پوری ہونے کو دونوں شرطیں پوری ہونا نہ سمجھیے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
کیا صرف کسی چیز کا نیا ہونا یہاں بدعت کی پوری تعریف ہے؟
- ہاں؛ ہر نئی چیز اس تعریف میں آتی ہے۔
- نہیں؛ اسے دین کے طور پر ایجاد یا اختیار کرنا بھی تعریف میں ہے۔
- نہیں؛ صرف راوی کا نام معلوم نہ ہونا مراد ہے۔
سوال 2
بدعتِ مکفرہ کی بیان کردہ تعریف کون سی ہے؟
- وہ اعتقاد جو کفر کا باعث ہو۔
- راوی کے حافظے کی کمزوری۔
- راوی کا غیر معروف نام سے ذکر ہونا۔
سوال 3
فسق اور گمراہی کا باعث ہونے والا اعتقاد یا عمل کس قسم کی تعریف ہے؟
- مجہول الحال
- مجہول العین
- بدعتِ مفسقہ
سوال 4
کس قسم کے مرتکب راوی کی روایت کے لیے یہاں دو شرطیں بیان ہوئی ہیں؟
- بدعتِ مکفرہ
- بدعتِ مفسقہ
- دونوں کا حکم بالکل ایک ہے۔
سوال 5
قبولیت کی پہلی شرط کس بات سے متعلق ہے؟
- راوی اس بدعت کی دعوت نہ دیتا ہو۔
- روایت بہت مختصر ہو۔
- راوی کا نام کم معروف ہو۔
سوال 6
دوسری شرط کا مکمل بیان کون سا ہے؟
- روایت اس بدعت کو ثابت نہ کرے؛ تقویت دینے سے فرق نہیں پڑتا۔
- راوی دعوت نہ دیتا ہو؛ روایت کا مضمون نہیں دیکھنا۔
- روایت نہ اس بدعت کو ثابت کرے، نہ اسے تقویت دے۔
سوال 7
راوی دعوت نہیں دیتا، لیکن روایت اس بدعت کو تقویت دیتی ہے۔ کیا دونوں شرطیں پوری ہوئیں؟
- ہاں، دعوت نہ دینا اکیلا کافی ہے۔
- نہیں، دوسری شرط پوری نہیں ہوئی۔
- ہاں، اگر راوی کا نام معلوم ہو۔
تعاملی کوئز کھولیں