صحابی اور تابعی
طالب علم حدیث کو نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا حال کی روایت کے طور پر پہچان سکے۔ صحابی اور تابعی کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. اس سبق میں کیا سیکھیں گے؟
ہم راوی، سند اور متن کا فرق پڑھ چکے ہیں۔ اب حدیث کی گفتگو میں آنے والے دو نام سمجھیں گے: صحابی اور تابعی۔ مرکزی سوال: کسی شخص کی نبی کریم ﷺ سے ملاقات ہوئی تھی یا کسی صحابی سے؟ ملاقات کے ساتھ ایمان کی شرط بھی سمجھیں گے، تاکہ دونوں ناموں کا فرق واضح ہو۔
2. حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مثال
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُونَ (صحیح البخاری: 127) ترجمہ: لوگوں سے وہ باتیں بیان کرو جو وہ سمجھ سکیں۔ یہاں یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ سے ایمان کی حالت میں ملے اور ایمان ہی پر وفات پائی؛ وہ صحابی ہیں۔ دھیان دیجیے: اس مثال میں بولنے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں؛ اسے نبی کریم ﷺ کا فرمان نہ سمجھیں۔
3. صحابی کسے کہتے ہیں؟
صحابی وہ شخص ہے: • جس کی نبی کریم ﷺ سے ملاقات ہوئی ہو؛ • ملاقات کے وقت آپ ﷺ پر ایمان رکھتا ہو؛ • اور اس کی وفات بھی ایمان پر ہوئی ہو۔1 ملاقات کے لیے آنکھوں سے دیکھنا لازم نہیں۔ کوئی نابینا شخص ایمان کی حالت میں آپ ﷺ سے ملا ہو اور ایمان ہی پر وفات پائی ہو، تو وہ بھی صحابی ہے۔ 1. لفظ کی جمع: کئی صحابیوں کے لیے «صحابہ» کا لفظ بھی آتا ہے۔
4. تابعی کسے کہتے ہیں؟
تابعی اس مسلمان کو کہتے ہیں جو خود صحابی نہیں، لیکن جس کی ایمان کی حالت میں کسی صحابی سے ملاقات ہوئی ہو۔1 مثال: حسن بصری رحمہ اللہ تابعی ہیں۔ وہ خود صحابی نہیں؛ انہیں صحابہ سے ملاقات کا موقع ملا۔ فرق: صحابی کے تعارف میں نبی کریم ﷺ سے ملاقات بنیادی بات ہے۔ تابعی کے تعارف میں کسی صحابی سے ملاقات بنیادی بات ہے۔ 1. لفظ کی جمع: کئی تابعیوں کے لیے «تابعین» کا لفظ بھی آتا ہے۔
5. ملاقات کے وقت ایمان کی شرط
صرف ملاقات کا ذکر کافی نہیں؛ ملاقات کے وقت ایمان بھی ضروری ہے۔ • کسی شخص نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، مگر اس وقت ایمان نہیں لایا تھا۔ صرف اس ملاقات کی بنا پر اسے صحابی نہیں کہا جائے گا۔ • کسی شخص کی کسی صحابی سے ملاقات ہوئی، مگر اس وقت وہ مسلمان نہیں تھا۔ صرف اس ملاقات کی بنا پر اسے تابعی نہیں کہا جائے گا۔ بعد میں ایمان لانے اور دوبارہ ملاقات ہونے کی صورت کو الگ دیکھنا ہوگا۔ یہاں ہم صرف بیان کردہ ملاقات کی بات کر رہے ہیں۔
6. کون سی بات معلوم کرنا ضروری ہے؟
کسی پرانے راوی کا نام پڑھتے وقت صرف یہ معلوم ہو کہ وہ حدیث بیان کرتا تھا، تو ابھی اس کا صحابی یا تابعی ہونا معلوم نہیں ہوا۔ یہ باتیں دیکھیے: • کس سے ملاقات ہوئی تھی؟ • کیا ملاقات ایمان کی حالت میں ہوئی تھی؟ • صحابی کے تعارف میں کیا وفات ایمان پر ہونے کی بات بھی معلوم ہے؟ صرف ایک ہی زمانے میں رہنا یا کسی کے بارے میں پڑھ لینا، اس سے ملاقات ہونا نہیں ہے۔
7. سبق کا خلاصہ
• صحابی: نبی کریم ﷺ سے ایمان کی حالت میں ملاقات، اور وفات بھی ایمان پر۔ • تابعی: خود صحابی نہ ہو، لیکن ایمان کی حالت میں کسی صحابی سے ملاقات ہوئی ہو۔ • ملاقات میں آنکھوں سے دیکھنا لازم نہیں؛ نابینا شخص کی ملاقات بھی ملاقات ہے۔ یاد رکھیے: صرف راوی ہونا یا کسی کے زمانے میں رہنا کافی نہیں۔ ملاقات اور ایمان کی بیان کردہ شرطیں سمجھ کر دونوں ناموں کا فرق پہچانیں۔
مشق کے سوالات
سوال 1
ایک نابینا مسلمان نبی کریم ﷺ سے ایمان کی حالت میں ملا اور ایمان ہی پر وفات پائی۔ اس تعارف کے مطابق اسے کیا کہیں گے؟
- تابعی؛ کیونکہ اس نے آنکھوں سے نہیں دیکھا۔
- صحابی؛ کیونکہ ملاقات اور ایمان کی شرطیں پوری ہیں۔
- صحابی نہیں؛ کیونکہ آنکھوں سے دیکھنا ضروری ہے۔
سوال 2
ایک مسلمان خود صحابی نہیں تھا، لیکن ایمان کی حالت میں ایک صحابی سے ملا تھا۔ اسے تابعی کہنے کی وجہ کیا ہے؟
- کسی صحابی سے حالتِ ایمان میں ملاقات ہوئی۔
- اس نے نبی کریم ﷺ کے زمانے میں زندگی گزاری۔
- اس نے صحابیوں کے بارے میں بہت کچھ پڑھا۔
سوال 3
ہر تعارف کو اس سے نکلنے والے مناسب نتیجے سے ملائیں۔
سوال 4
ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، مگر اس ملاقات کے وقت ایمان نہیں لایا تھا۔ صرف اسی ملاقات سے اس کا صحابی ہونا ثابت ہو جاتا ہے۔
سوال 5
ایک طالب علم کہتا ہے: «یہ شخص خود صحابی نہیں، مگر ایک صحابی کے زمانے میں مسلمان تھا، اس لیے تابعی ہوگا۔» کون سی مزید بات معلوم کرنا ضروری ہے؟
- کیا وہ اسی شہر میں رہتا تھا؟
- کیا اس نے اس صحابی کے بارے میں پڑھا تھا؟
- کیا ایمان کی حالت میں کسی صحابی سے ملا تھا؟
تعاملی کوئز کھولیں