کمائی، نیکی اور علم کی طلب (حدیث 44–50)

کمائی، نیکی اور علم کی طلب (حدیث 44–50) کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں

سات روایتوں میں سچے خواب، حلال کمائی، قرآن سیکھنے اور سکھانے، دنیا کی محبت، مسلسل نیکی، بھوکے کو کھلانے اور علم و دنیا کی طلب کو سمجھیں گے۔ ہر پوری روایت کے بعد الفاظ، ضروری وضاحت اور ایک مثال آئے گی۔ معاون قرآنی اقتباس اور صحابی کی روایت الگ پہچان کے ساتھ پڑھیں گے۔

2. خواب اور صبح سے پہلے کا وقت

أَصْدَقُ الرُّؤْيَا بِالْأَسْحَارِ (رواه الترمذي) ترجمہ سب سے سچے خواب صبح صادق سے پہلے کے اوقات میں ہوتے ہیں۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی أَصْدَقُسب سے سچے الرُّؤْيَاخواب بِالْأَسْحَارِصبح صادق سے پہلے کے اوقات میں بِالْأَسْحَارِ میں بِـ یہاں وقت کا تعلق بتاتا ہے: «ان اوقات میں»۔ الأسحار سے مراد صبح صادق سے پہلے کے اوقات ہیں، سحری کا کھانا نہیں۔ یہ سچائی کا تقابل ہے۔ صرف اس وقت خواب دیکھ لینے سے ہر خواب کا ضرور سچا ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ مثلاً کسی نے اس وقت خواب دیکھا؛ وقت پہچان لیا گیا، مگر خواب کی ہر بات کے سچا ہونے کا فیصلہ اس سے اکیلا نہیں نکلتا۔

3. تاریخی تشریحی نوٹ

اس وقت کے بارے میں تاریخی تشریح یہ ہے کہ صبح سے پہلے خیالات عموماً یکجا ہوتے ہیں؛ نیز معدہ خالی ہونے کی وجہ سے اس سے پریشان کرنے والے بخارات نہیں اٹھتے۔ یہ پرانی تشریحی توجیہ ہے، ثابت شدہ جدید طبی وضاحت نہیں۔

4. حلال کمائی حاصل کرنا

طَلَبُ كَسْبِ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ (البيهقي) ترجمہ حلال کمائی کی طلب فرض کے بعد ایک فرض ہے۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی طَلَبُحاصل کرنے کی کوشش؛ طلب كَسْبِکمائی؛ کمانا الْحَلَالِحلال؛ جس کی اجازت ہے فَرِيضَةٌفرض؛ لازم ذمہ داری بَعْدَبعد؛ یہاں مرتبے کے تعلق میں الْفَرِيضَةِاس فرض کے؛ تشریح میں نماز اور روزہ طَلَبُ كَسْبِ الْحَلَالِ پوری عبارت «حلال کمائی حاصل کرنے کی کوشش» ہے۔ یہاں نماز اور روزے کے فرض کا ذکر پہلے درجے پر ہے؛ کمائی کا فرض ان دونوں کے مرتبے میں نہیں۔ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ کو صرف «نماز پڑھ لینے کے بعد کام شروع کرنا» نہ سمجھیں۔ اگلی وضاحت بتاتی ہے کہ کمائی کی یہ ذمہ داری کس ضرورت کے ساتھ متعلق ہے۔

5. ضرورت اور کفالت کی شرط

یہ ذمہ داری اس شخص پر ہے جسے اپنے لیے کمائی کی ضرورت ہو یا کسی ایسے شخص کا خرچ اٹھانے کے لیے کمائی درکار ہو جس کا خرچ اس کے ذمے ہے۔ کفالت سے یہاں اسی ضروری خرچ کی ذمہ داری مراد ہے۔ بہت سے لوگوں کا خرچ کسی دوسرے کے ذمے ہوتا ہے؛ اس لیے ہر فرد پر بلاشرط کمائی کو فرض کہنا درست نہیں۔ مثال میں پہلے یہ معلوم کریں کہ اپنی ضرورت پوری کرنی ہے یا کسی ایسے شخص کی جس کا خرچ اس کے ذمے ہے۔ محض یہ دیکھنا کہ کسی کی ملازمت ہے یا نہیں، اس وضاحت کی ضرورت کی ان صورتوں کو نہیں بتاتا۔

6. فرض کی عبارتوں میں فرق

طلب العلم فريضة على كل مسلم عربی لفظ یا عبارتمعنی طلب العلمعلم حاصل کرنے کی کوشش على كل مسلمہر مسلمان پر معاون روایت کا معنی: «علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔» طلب «حاصل کرنے کی کوشش»، العلم «علم»، اور فريضة وہی «فرض» ہے۔ على «پر»، كل «ہر» اور مسلم «مسلمان» ہے۔ کمائی والی روایت میں على كل مسلم یعنی «ہر مسلمان پر» کے الفاظ نہیں ہیں، جبکہ علم والی اس معاون روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ یہی فرق کمائی کی بیان کردہ ضرورت والی شرط کو نظرانداز کرنے سے روکتا ہے۔

7. قرآن سیکھنا اور سکھانا

خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ (البخاري) ترجمہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی خَيْرُكُمْتم میں سب سے بہتر تَعَلَّمَاس نے سیکھا الْقُرْآنَقرآن وَعَلَّمَهُاور اسے سکھایا مَنْ «جو شخص» ہے۔ خَيْرُكُمْ کے آخر کا كُمْ «تم» سے تعلق بتاتا ہے۔ وَعَلَّمَهُ میں وَ «اور»، عَلَّمَ «سکھایا» اور هُ «اسے» ہے؛ یہاں «اسے» قرآن کی طرف لوٹتا ہے۔ تَعَلَّمَ میں خود سیکھنا، عَلَّمَ میں دوسرے کو سکھانا ہے۔ مثال: ایک طالب علم اپنی تلاوت درست کرواتا ہے، پھر سیکھا ہوا کسی دوسرے کو سمجھاتا ہے۔ پہلی حرکت سیکھنا اور دوسری سکھانا ہے؛ پوری عبارت میں دونوں شامل ہیں۔

8. دنیا کی محبت اور گناہ کی جڑ

حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ (رزين) ترجمہ دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی حُبُّمحبت الدُّنْيَادنیا رَأْسُسر؛ یہاں جڑ یا اصل كُلِّہر خَطِيئَةٍگناہ رَأْسُ کا لفظی معنی «سر» ہے؛ یہاں جڑ یا اصل کا مفہوم ہے۔ تنبیہ دنیا کی ایسی محبت پر ہے جو آدمی کو گناہ کی طرف لے جائے۔ مثال: مال کی چاہت میں سچ جانتے ہوئے جھوٹ بولنا، محبت کے غلط رخ کو واضح کرتا ہے۔ اپنی ضرورت کے لیے حلال کمائی کرنا پچھلی وضاحت سے متعلق ہے؛ محض مال رکھنا یا کام کرنا اس مثال میں جھوٹ بولنے جیسا نہیں۔

9. چھوٹی مگر مسلسل نیکی

أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ (البخاري ومسلم) ترجمہ اللہ کو سب سے زیادہ محبوب اعمال وہ ہیں جو سب سے زیادہ پابندی سے جاری رہیں، اگرچہ تھوڑے ہوں۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی أَحَبُّسب سے زیادہ محبوب الْأَعْمَالِاعمال؛ کیے جانے والے کام أَدْوَمُهَاان میں سب سے زیادہ پابندی سے جاری رہنے والے قَلَّوہ تھوڑا ہوا؛ مقدار کم ہوئی إِلَى اللَّهِ یہاں «اللہ کو» کے تعلق میں ہے۔ أَدْوَمُهَا کے آخر کا هَا انہی اعمال کی طرف لوٹتا ہے۔ وَإِنْ «اگرچہ / چاہے» ہے: کم مقدار کے باوجود پابندی۔ الصالحة کا معنی «نیک / اچھے» ہے؛ اعمال سے یہاں نیک اعمال مراد ہیں۔ پابندی سے کوئی برا کام کرنا نیکی نہیں بن جاتا۔ مسلسل عمل کا مطلب مناسب وقفوں کے ساتھ قائم اچھی عادت ہے، ہر لمحہ وہی کام کرتے رہنا نہیں۔ مثال: تھوڑی مفید مدد باقاعدگی سے جاری رکھنا، ایک دفعہ زیادہ مدد کرکے پھر اسے بالکل چھوڑ دینے سے اس پہلو میں مختلف ہے۔

10. بھوکے کو پیٹ بھر کر کھلانا

أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَنْ تُشْبِعَ كَبِدًا جَائِعًا (البيهقي) ترجمہ سب سے بہتر صدقہ یہ ہے کہ تم کسی بھوکے جاندار کو پیٹ بھر کر کھلاؤ۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی أَفْضَلُسب سے بہتر الصَّدَقَةِصدقہ؛ خیرات تُشْبِعَتم کھلا کر سیر کرو كَبِدًاایک جگر؛ یہاں جگر رکھنے والا جاندار جَائِعًابھوکا أَنْ «یہ کہ» ہے؛ اس کے بعد کام بتایا جاتا ہے: کھلا کر سیر کرنا۔ أَنْ تُشْبِعَ پوری عبارت «یہ کہ تم کھلا کر سیر کرو» ہے۔ یہ کھانا پہنچانے اور بھوک مٹانے کی عملی بات ہے، صرف ہمدردی کے الفاظ نہیں۔

11. جگر کا لفظ کس کے لیے ہے؟

جگر کا نام لے کر یہاں اس جاندار کی بات کی گئی ہے جس کے پاس جگر ہے؛ الگ عضو کو کھلانا مراد نہیں۔ اسی طرح کھلا کر سیر کرنے کی نسبت پوری بھوکی مخلوق سے ہے: کھانا دیا جائے یہاں تک کہ وہ سیر ہو۔ اس میں بولنے والا انسان اور نہ بولنے والا جانور دونوں شامل ہیں۔ مثال: بھوکے مسافر کو کھانا کھلانا اور بھوکے جانور کو کھلانا، دونوں اس مفہوم کو واضح کرتے ہیں۔

12. طلب کے دو رخ

مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ: مَنْهُومٌ فِي الْعِلْمِ لَا يَشْبَعُ مِنْهُ، وَمَنْهُومٌ فِي الدُّنْيَا لَا يَشْبَعُ مِنْهَا (البيهقي) ترجمہ دو طلب کرنے والے سیر نہیں ہوتے: ایک علم کا طلب کرنے والا، جو اس سے سیر نہیں ہوتا؛ اور ایک دنیا کا طلب کرنے والا، جو اس سے سیر نہیں ہوتا۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی مَنْهُومَانِدو نہایت حریص طلب کرنے والے لَا يَشْبَعَانِوہ دونوں سیر نہیں ہوتے؛ یہاں قانع نہیں ہوتے مَنْهُومٌنہایت حریص طلب کرنے والا ایک شخص لَا يَشْبَعُوہ سیر نہیں ہوتا؛ یہاں قانع نہیں ہوتا یہ عام کھانے کی بھوک نہیں۔ دونوں اپنے اپنے مطلوب کی آخری حد تک پہنچنے کے بہت حریص ہیں۔ لَا يَشْبَعَانِ یہاں بتاتا ہے کہ وہ کبھی قانع نہیں ہوتے، یعنی اپنی طلب کو پورا سمجھ کر رک نہیں جاتے۔ لَا «نہیں» ہے؛ يَشْبَعَانِ میں دونوں اور يَشْبَعُ میں ایک شخص کی بات ہے۔

13. «اس سے» کس کی طرف لوٹتا ہے؟

عربی لفظ یا عبارتمعنی فِي الْعِلْمِعلم کے معاملے میں؛ علم کی طلب میں مِنْهُاس سے؛ یہاں علم سے فِي الدُّنْيَادنیا کے معاملے میں؛ دنیا کی طلب میں مِنْهَااس سے؛ یہاں دنیا سے فِي «میں» ہے؛ الْعِلْمِ «علم» اور الدُّنْيَا «دنیا» ہے۔ مِنْهُ میں مِنْ «سے» اور هُ «اس» ہے؛ مِنْهَا میں هَا بھی «اس» ہے۔ پہلے «اس سے» علم، دوسرے «اس سے» دنیا مراد ہے۔ مِنْ «سے» کو مَنْ «جو شخص» سے الگ پہچانیں۔ وَمَنْهُومٌ کے شروع کا وَ «اور» دونوں طلبوں کو ملاتا ہے۔ علم کا طالب ہمیشہ علم میں اضافہ چاہتا ہے۔ مثال: ایک بات سمجھ کر مزید سیکھنے کے لیے اگلا سوال کرنا، اسی جاری طلب کو واضح کرتا ہے۔

14. علم میں اضافے کی دعا

وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا عربی لفظ یا عبارتمعنی وَقُلْاور کہو رَبِّاے میرے رب زِدْنِيمجھے زیادہ دے؛ میرے لیے اضافہ فرما عِلْمًاعلم میں؛ علم کے لحاظ سے قرآنی اقتباس — طه: ١١٤ (20:114) معنی: «اور کہو: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔» وَقُلْ میں وَ «اور» اور قُلْ «کہو» ہے۔ رَبِّ میں اپنے رب کو پکارنا ہے۔ زِدْنِي میں زیادتی کی درخواست اور نِي «مجھے» کا تعلق ہے؛ عِلْمًا بتاتا ہے کہ اضافہ کس چیز میں مطلوب ہے۔ یہ زیادہ علم کی دعا ہے، محض زیادہ مال کی درخواست نہیں۔

15. مزید سیکھنے کی گنجائش

علم کی کوئی انتہا نہیں، کیونکہ ہر علم رکھنے والے سے اوپر کوئی جاننے والا ہے۔ اس لیے ایک بات جان لینا یہ نہیں کہ اب جاننے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔ مثال: ایک طالب علم ترجمہ سمجھ لیتا ہے، پھر کسی لفظ کے مزید تعلق کو جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ موجودہ سمجھ اس کے اگلے سیکھنے کا دروازہ کھولتی ہے۔

16. دنیا کی طلب اور نہ بھرنے کی مثال

عربی لفظ یا عبارتمعنی المريضبیمار شخص المستسقياستسقاء کا مریض؛ اس تاریخی تشبیہ میں ایسا بیمار جس کی پیاس نہ بجھے دنیا کا حریص طالب اس کے مال، جاہ یعنی حیثیت و مرتبے، سونے اور چاندی کے پیچھے لگا رہتا ہے۔ ان میں حیثیت بھی ہے، صرف نقد رقم نہیں۔ تاریخی تشبیہ میں دنیا کی نہ ختم ہونے والی طلب کو اس نہ بجھنے والی پیاس سے ملایا گیا ہے۔ یہ قدیم تشبیہ کا مفہوم ہے، کسی مرض کی جدید تشخیص یا علاج کی ہدایت نہیں۔

17. صحابی کی معاون روایت

دارمی نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ معاون روایت موقوفًا نقل کی ہے۔ موقوف کا مطلب ہے کہ یہاں بات صحابی کی طرف منسوب ہے؛ اسے نبی ﷺ کا نیا فرمان نہیں کہا جا رہا۔ منهومان لا يشبعان: صاحب العلم وصاحب الدنيا، ولا يستويان، أما صاحب العلم فيزداد رضى الرحمن، وأما صاحب الدنيا فيتمادى في الطغيان معنی: دو طلب کرنے والے سیر نہیں ہوتے: علم والا اور دنیا والا، اور دونوں برابر نہیں۔ علم والا رحمٰن کی رضا میں بڑھتا ہے، جبکہ دنیا والا سرکشی میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ماخذ کی اضافی نشاندہی: المشكاة۔

18. دونوں برابر کیوں نہیں؟

عربی لفظ یا عبارتمعنی صاحب العلمعلم والا؛ یہاں علم کا طالب صاحب الدنيادنیا والا؛ یہاں دنیا کا طالب ولا يستوياناور وہ دونوں برابر نہیں ہوتے أمارہا؛ جہاں تک ... کا تعلق ہے فيزدادتو وہ بڑھتا ہے رضى الرحمنرحمٰن کی رضا؛ اللہ کی خوشنودی فيتمادىتو وہ بڑھتا چلا جاتا ہے؛ آگے بڑھتا رہتا ہے الطغيانسرکشی؛ حد سے بڑھنا منهومان لا يشبعان وہی دو طلب کرنے والوں کے قانع نہ ہونے کی بات ہے۔ صاحب یہاں «والا / طلب کرنے والا»، العلم «علم» اور الدنيا «دنیا» ہے۔ ولا يستويان میں وَ «اور»، لا «نہیں» اور يستويان «دونوں برابر ہوتے ہیں» ہے۔ رضى «رضا» اور الرحمن اللہ کا نام «رحمٰن» ہے۔ دونوں فـ «تو / پھر» نتیجہ ملاتے ہیں؛ في الطغيان میں في «میں» ہے۔ أما ... وأما دونوں طرف الگ الگ انجام بتاتا ہے: «رہا علم والا ... اور رہا دنیا والا ...»۔ دونوں میں طلب جاری ہے، مگر ایک طرف اللہ کی رضا اور دوسری طرف سرکشی میں بڑھنا ہے۔ اس لیے صرف «دونوں مزید چاہتے ہیں» کہہ کر دونوں کا انجام یکساں نہیں مانتے۔

19. یاد رکھنے والے تعلقات

وقت کا تقابل ہر خواب کی ضمانت نہیں۔ کمائی کی ذمہ داری اپنی ضرورت یا اُس شخص کی ضرورت کے لیے ہے جس کا خرچ کمانے والے کے ذمے ہو۔ قرآن کی روایت میں سیکھنا اور سکھانا دونوں ہیں۔ دنیا کی محبت کے خطرے کو حلال کمائی کی اجازت سے الجھائیں نہیں۔ نیکی کی پابندی اور بھوکے جاندار کو واقعی کھلانا دو عملی سبق ہیں۔ علم اور دنیا کی طلب دونوں جاری رہ سکتی ہیں، مگر معاون روایت ان کے مختلف انجام بتاتی ہے۔ علم میں اضافے کی دعا اسی علم کی طلب کو نمایاں کرتی ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1: اپنی سمجھ آزمائیں

کسی خواب کا وقت صبح صادق سے پہلے معلوم ہوا۔ أَصْدَقُ الرُّؤْيَا کے تقابل سے کون سی بات نکلتی ہے؟

  • اس وقت کے ہر خواب کی ہر تفصیل سچی ہے
  • صرف اسی وقت کا خواب سچا ہو سکتا ہے
  • یہ وقت سچائی کے تقابل میں آیا ہے

سوال 2: اپنی سمجھ آزمائیں

ایک شخص کو اپنی ضرورت کے لیے کمائی درکار ہے؛ دوسرے کو اس شخص کا خرچ اٹھانے کے لیے جس کا خرچ اس کے ذمے ہے۔ کمائی کی وضاحت کس کو شامل کرتی ہے؟

  • دونوں، اپنی اپنی بیان کردہ ضرورت کے ساتھ
  • صرف پہلا، کیونکہ خرچ ہمیشہ اپنے لیے ہوتا ہے
  • صرف دوسرا، کیونکہ اپنی ضرورت شرط نہیں

سوال 3: اپنی سمجھ آزمائیں

بَعْدَ الْفَرِيضَةِ سمجھاتے ہوئے کوئی کہتا ہے کہ کمائی کا فرض نماز اور روزے کے برابر درجے میں ہے۔ کون سی اصلاح درست ہے؟

  • یہاں صرف کام شروع کرنے کا وقت بتایا گیا ہے
  • نماز اور روزہ پہلے مرتبے پر ہیں؛ یہ ان کے درجے میں نہیں
  • یہاں نماز کا ذکر ہے، روزہ اس تعلق میں شامل نہیں

سوال 4: اپنی سمجھ آزمائیں

کمائی والی عبارت کو «ہر شخص پر ہر حال میں کمائی فرض ہے» بنانے سے کون سا سمجھایا ہوا نکتہ رہ جاتا ہے؟

  • کمائی کے لفظ میں حاصل کرنے کی کوشش شامل ہے
  • کئی لوگوں کا خرچ کسی دوسرے کے ذمے ہوتا ہے
  • فرض کی عبارت میں ایک ذمہ داری بیان ہوتی ہے

سوال 5: اپنی سمجھ آزمائیں

مریم اپنی تلاوت میں غلطی درست کرواتی ہے؛ پھر سیکھا ہوا اپنی ساتھی کو سمجھاتی ہے۔ دوسرے عمل کے لیے روایت کی کون سی عبارت موزوں ہے؟

  • وَعَلَّمَهُ
  • تَعَلَّمَ
  • خَيْرُكُمْ

سوال 6: اپنی سمجھ آزمائیں

کسی کو زیادہ مال کے لیے معلوم حقیقت چھپانے کا لالچ ہوتا ہے۔ دنیا کی محبت والی تنبیہ کا تعلق کس پہلو سے ہے؟

  • مال کی چاہت کا غلط کام کی طرف لے جانا
  • اپنی جائز ضرورت کے لیے روزگار اختیار کرنا
  • کسی چیز کا مالک ہونے کا محض معلوم ہونا

سوال 7: اپنی سمجھ آزمائیں

حمزہ ہر ہفتے تھوڑی مفید خدمت جاری رکھتا ہے۔ دوسرا شخص باقاعدگی سے غلط بات پھیلاتا ہے۔ أَدْوَمُهَا کی وضاحت میں اہم فرق کیا ہے؟

  • باقاعدگی دونوں کاموں کی قدر ایک کر دیتی ہے
  • پابندی کے ساتھ عمل کا اچھا ہونا بھی ضروری ہے
  • کم مقدار ہر کام کو اس تقابل سے باہر رکھتی ہے

سوال 8: عمل اور اس کا مفہوم

ہر صورت کو متعلقہ مفہوم سے ملائیں۔

سوال 9: اپنی سمجھ آزمائیں

أَنْ تُشْبِعَ سے یہاں کون سا عمل مراد ہے؟

  • تم خود سیر ہو جاؤ
  • تمہارے کھلائے بغیر دوسرا سیر ہو جائے
  • تم دوسرے کو کھلا کر سیر کرو

سوال 10: اپنی سمجھ آزمائیں

پڑھی ہوئی روایت میں مِنْهُ اور پھر مِنْهَا کے «اس سے» بالترتیب کس کی طرف لوٹتے ہیں؟

  • علم، پھر دنیا
  • دنیا، پھر علم
  • علم، پھر علم

سوال 11: اپنی سمجھ آزمائیں

دنیا کی طلب کی وضاحت میں مال، سونا اور چاندی کے ساتھ کون سی مثال بھی گنوائی گئی تھی؟

  • آرام اور سہولت
  • صحت اور طاقت
  • جاہ، یعنی حیثیت اور مرتبہ

سوال 12: دونوں عمل ترتیب دیں

قرآن سیکھنے اور سکھانے والی پوری عربی روایت ترتیب دیں۔

سوال 13: اپنی سمجھ آزمائیں

معاون روایت علم والے اور دنیا والے کے انجام کس ترتیب سے بتاتی ہے؟

  • علم والا سرکشی میں؛ دنیا والا رضائے رحمٰن میں بڑھتا ہے
  • علم والا رضائے رحمٰن میں؛ دنیا والا سرکشی میں بڑھتا ہے
  • علم والا اور دنیا والا، دونوں رضائے رحمٰن میں بڑھتے ہیں

سوال 14: اپنی سمجھ آزمائیں

موقوفًا کی وضاحت پڑھ کر اس معاون عبارت کی نسبت کس کی طرف رکھیں گے؟

  • صحابی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف
  • اس سبق کے وضاحت کرنے والے کی طرف
  • نبی ﷺ کے الگ نئے فرمان کے طور پر

سوال 15: اپنی سمجھ آزمائیں

رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا میں عِلْمًا کا کام کیا ہے؟

  • یہ بتاتا ہے کہ درخواست کس وقت کی جائے
  • یہ بتاتا ہے کہ اضافہ کس چیز میں مانگا گیا
  • یہ بتاتا ہے کہ دعا کسی دوسرے شخص کی ہے

تعاملی کوئز کھولیں