غریب مطلق اور غریب نسبی

طالب علم حدیث کو نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا حال کی روایت کے طور پر پہچان سکے۔ غریب مطلق اور غریب نسبی کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں کیا سیکھیں گے؟

غریب حدیث کے کسی طبقے میں صرف ایک راوی ہوتا ہے۔ طبقہ سے یہاں مراد ایک زمانے کے راوی ہیں۔ اس سبق میں دیکھیں گے کہ ایک راوی کہاں ہے: سند کے شروع میں یا بعد کے کسی طبقے میں۔ اسی فرق سے غریب مطلق اور غریب نسبی کو پہچانیں گے۔

2. صحابی اور تابعی

• صحابی: وہ شخص جس نے ایمان کی حالت میں نبی کریم ﷺ سے ملاقات کی اور ایمان ہی پر وفات پائی۔ • تابعی: وہ شخص جو خود صحابی نہ ہو، لیکن ایمان کی حالت میں کسی صحابی سے ملا ہو۔ تابعی کی جمع تابعین ہے۔ اس تقسیم میں سند کے شروع سے مراد صحابی سے حدیث لینے والے تابعیوں کا طبقہ ہے۔

3. ایمان اور حیا والی حدیث

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ (صحیح مسلم: 35a) آسان مفہوم: ایمان کے ستر سے کچھ زیادہ حصے ہیں، اور حیا1 ایمان کا ایک حصہ ہے۔ اس حدیث کو صحابی حضرت ابو ہریرہؓ سے صرف ابو صالح نے نقل کیا۔ ابو صالح تابعی ہیں؛ اس لیے یہاں تابعیوں کے طبقے میں ایک راوی ہے۔ 1. حیا: ایسی شرم جو اچھائی کی طرف مائل کرے اور برائی سے روکے۔

4. غریب مطلق کی تعریف

غریب مطلق وہ حدیث ہے جس کی سند کے شروع میں صرف ایک راوی ہو؛ یعنی تابعیوں کے طبقے میں صرف ایک تابعی نے اسے نقل کیا ہو۔ ایمان اور حیا والی مثال میں ابو ہریرہؓ سے ابو صالح اکیلے روایت کرتے ہیں۔ اس تقسیم کے مطابق، تابعیوں کے طبقے میں یہ اکیلا راوی ہونا غریب مطلق کی صورت ہے۔ اسے فرد مطلق بھی کہتے ہیں۔

5. غریب نسبی کی تعریف

غریب نسبی وہ حدیث ہے جس کی سند کے شروع میں صرف ایک راوی نہ ہو، مگر بعد کے کسی طبقے میں صرف ایک راوی اسے نقل کرے۔ • تابعیوں کے طبقے میں روایت ایک راوی تک محدود نہیں۔ • اس کے بعد کسی طبقے میں ایک راوی اکیلا ہے۔ اسے فرد نسبی بھی کہتے ہیں۔ صرف بعد کا طبقہ دیکھنا کافی نہیں؛ شروع کی شرط بھی دیکھنی ہے۔

6. دو قسمیں، دوسرے نام

محدثین عموماً ان دونوں قسموں کے لیے فرد کا لفظ استعمال کرتے ہیں: • غریب مطلق — فرد مطلق • غریب نسبی — فرد نسبی یہ چار الگ قسمیں نہیں۔ ہر سطر میں ایک ہی قسم کے دو نام ہیں۔

7. سبق کا خلاصہ

• غریب مطلق / فرد مطلق: تابعیوں کے طبقے میں صرف ایک تابعی روایت کرے۔ • غریب نسبی / فرد نسبی: شروع میں روایت ایک راوی تک محدود نہ ہو، مگر بعد کے کسی طبقے میں صرف ایک راوی ہو۔ • اصل فرق: ایک راوی ہونا سند کے شروع میں ہے یا بعد میں؟ اس تقسیم میں سند کے شروع سے مراد تابعیوں کا طبقہ ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

ایمان اور حیا والی مثال میں ابو صالح، تابعیوں کے طبقے میں اکیلے راوی ہیں۔ اس سبق کی تقسیم کے مطابق یہ کس صورت کی مثال ہے؟

  • غریب نسبی؛ کیونکہ ایک راوی کہیں بھی ہو سکتا ہے۔
  • غریب مطلق؛ کیونکہ تابعیوں کے طبقے میں ایک راوی ہے۔
  • کوئی قسم نہیں؛ کیونکہ ایک تابعی کافی نہیں۔

سوال 2

بعد کے کسی طبقے میں ایک راوی مل جائے تو شروع کے طبقے کو دیکھے بغیر اسے غریب نسبی کہا جا سکتا ہے۔

  • درست
  • غلط

سوال 3

ہر نام کو اس کے درست مطلب سے ملائیں۔

سوال 4

تابعیوں کے طبقے میں روایت ایک راوی تک محدود نہیں، لیکن اس کے بعد ایک طبقے میں صرف ایک راوی ہے۔ اس سبق کی کون سی تعریف پوری ہوتی ہے؟

  • غریب نسبی: شروع میں نہیں، بعد میں ایک راوی۔
  • غریب مطلق: بعد کا ایک راوی بھی کافی ہے۔
  • دونوں قسمیں: بعد میں ایک راوی مشترک شرط ہے۔

تعاملی کوئز کھولیں