حسن لغیرہ: تعریف، حدود اور مثال

کمزوری دور کرنے والی تائید، اس کی حدود اور حسن لغیرہ کا حکم سمجھیں۔ حسن لغیرہ: تعریف، حدود اور مثال کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. تعارف

کسی روایت کی سند میں ایک راوی چھوٹا ہو تو اس میں کمزوری ہوتی ہے۔ اگر وہ روایت دوسری سندوں سے بھی ملے، تو کیا ان کی تائید اس کمزوری کو دور کرتی ہے؟ اس سبق میں حسن لغیرہ کی تعریف، تائید کی حدود اور ایک اصل حدیثی مثال سمجھیں گے۔

2. حسن لغیرہ کی تعریف

ایسی ضعیف، یعنی کمزور روایت، جس کی کمزوری دوسری سندوں کی تائید سے دور ہوجائے، حسن لغیرہ کہلاتی ہے۔ دو باتیں ساتھ ضروری ہیں: • وہی روایت دوسری سندوں سے بھی منقول ہو۔ • ان کی تائید سے اس کی کمزوری دور ہو۔ صرف سندیں زیادہ ہوجانا، کمزوری دور ہوجانے کے برابر نہیں۔

3. کمزوری کی کون سی صورتیں؟

یہاں کمزوری کی یہ صورتیں مراد ہیں: • خفیف الضبط راوی: حدیث یاد رکھنے کی مضبوطی نسبتاً کم ہو۔ • مجہول راوی: راوی کے بارے میں ضروری معلومات اہلِ علم کے سامنے واضح نہ ہوں۔ صرف طالب علم کو اس کا نام معلوم نہ ہونا مراد نہیں۔ • منقطع سند: راویوں کا سلسلہ جڑا ہوا نہ ہو، یعنی درمیان میں راوی چھوٹا ہو۔ ان صورتوں میں بھی دوسری سندوں سے ایسی تائید درکار ہے جو کمزوری دور کرے۔

4. حدیث کی مثال

إِنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَتْ عَلَى نَعْلَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ؟ قَالَتْ نَعَمْ فَأَجَازَهُ. (جامع ترمذی، 1113) ترجمہ: بنو فزارہ کی ایک عورت نے دو جوتیوں کے مہر پر نکاح کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: کیا تم اپنی ذات اور مال کے معاملے میں دو جوتیوں پر راضی ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ تو آپ ﷺ نے اس کی اجازت دے دی۔ 1. مہر: نکاح میں عورت کا مالی حق۔ یہاں مثال سے حدیث کا درجہ سمجھنا مقصود ہے، مہر کے تمام فقہی احکام نہیں۔

5. مثال کی سند اور تائید

اس روایت کی سند کا متعلقہ حصہ ہے: عن عاصم بن عبيد الله عن عبد الله بن عامر بن ربيعة عن ابيه مفہوم: عاصم بن عبید اللہ، عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ سے، اور وہ اپنے والد عامر بن ربیعہ سے روایت کرتے ہیں۔ یہ حسن لغیرہ کی مثال ہے۔ اس درجے کا تعلق دوسری سندوں کی تائید سے کمزوری دور ہونے سے ہے؛ صرف اوپر کے نام پڑھ لینا اس تائید کی تحقیق نہیں۔

6. حکم اور درجہ

حسن لغیرہ قابلِ استدلال ہے، یعنی اسے دلیل بنایا جاسکتا ہے۔ اس کا درجہ: • حسن لذاتہ سے کم ہے۔ • ضعیف حدیث سے بلند ہے۔ حسن لذاتہ میں قبول کی شرطیں اپنی سند میں موجود ہوتی ہیں؛ حسن لغیرہ میں دوسری سندوں کی تائید سے کمزوری دور ہوتی ہے۔

7. صحیح لغیرہ سے فرق

• صحیح لغیرہ: بنیاد حسن لذاتہ روایت ہے؛ دوسری سندوں کی تائید سے ضبط کی کمی پوری ہوتی ہے۔ • حسن لغیرہ: بنیاد ضعیف روایت ہے؛ بیان کردہ حدود میں دوسری سندوں کی تائید سے کمزوری دور ہوتی ہے۔ دونوں نام ایک جیسے نہیں ہیں۔ نہ ہر ضعیف روایت خودبخود حسن بنتی ہے، نہ ایک ہی سند کے کئی ترجمے دوسری سندیں بن جاتے ہیں۔

8. خلاصہ

• تعریف: ضعیف روایت کی کمزوری دوسری سندوں کی تائید سے دور ہو تو وہ حسن لغیرہ ہے۔ • حدود: کم ضبط، راوی کا مجہول ہونا یا سند کا منقطع ہونا؛ تائید سے کمزوری دور ہونا بھی ضروری ہے۔ • مثال: دو جوتیوں کے مہر والی روایت اور اس کا دکھایا گیا سند کا حصہ۔ • حکم: دلیل بن سکتی ہے؛ حسن لذاتہ سے کم اور ضعیف سے بلند درجے کی ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

حسن لغیرہ کی تعریف میں کون سی دونوں باتیں ساتھ ضروری ہیں؟

  • دوسری سندیں ہوں، چاہے کمزوری برقرار رہے۔
  • دوسری سندیں ہوں اور ان کی تائید سے کمزوری دور ہو۔
  • راویوں کے نام ہوں اور روایت کے معنی اچھے ہوں۔

سوال 2

منقطع سند والی ہر روایت، دوسری سند ملتے ہی لازماً حسن لغیرہ ہوجاتی ہے۔

  • درست
  • غلط

سوال 3

ہر صورت کو متعلقہ اصطلاح سے ملائیں۔

سوال 4

ایک طالب علم نے اسی سند والی روایت کا اردو اور انگریزی ترجمہ دیکھا اور اسے دو سندوں کی تائید سمجھا۔ کیا بات درست ہے؟

  • زبان بدلنے سے راویوں کا دوسرا سلسلہ بن گیا۔
  • دو ترجموں سے کمزوری دور ہونا ثابت ہوگیا۔
  • ترجمے دو ہیں، مگر بیان کردہ سند ایک ہی ہے۔

تعاملی کوئز کھولیں